google-site-verification=lY9Q0ltSKw-SRzooqMn9sstbtAm06IiRncsiBe1xwnw
بلاگتازہ ترینکالم

عشق مصطفیٰ ﷺکے تقاضے

شاہد جاوید ڈسکوی / دستک

ماہِ ربیع الاول تاریخِ کائنات کا وہ انتہائی روشن اور خوبصورت موڑ ہے جس کی سحر کی روشنی نے دنیا کے ہر اندھیرے کو اجالے میں بدل دیا۔ یہ محض تاریخ کا کوئی عام صفحہ یا دن اور رات کا بدلنا نہیں بلکہ دنیا کی قسمت جاگنے، انسانوں کی تقدیر سنورنے اور رحمتِ عالمؐ کی اس دنیا میں تشریف آوری کا وہ نہ ختم ہونے والا موسم ہے جس کی گرمی سے کفر و شرک کے ٹھکانے لرز اٹھے، باطل کی تاریکیاں ختم ہو گئیں اور بڑے بڑے بادشاہوں کے محل ہل گئے۔

جب ربیع الاول کا چاند آسمان پر چمکتا ہے تو محبت کرنے والوں کے مرجھائے ہوئے دلوں میں عقیدت اور پیار کی کونپلیں پھوٹنے لگتی ہیں، ہوائیں درود و سلام کے پاکیزہ نغموں سے گونجنے لگتی ہیں اور روح کی گہرائیوں میں ایک سچی، خوبصورت اور سکون دینے والی کیفیت اترنے لگتی ہے۔ اس مبارک مہینے کا آنا گویا اس بات کا ابدی پیغام ہے کہ انسانیت کو اپنا اصلی سہارا اور دنیا کو اپنا حقیقی مرکز مل گیا ہے لیکن اس کا اصل مقصد صرف چند روایتی محفلیں سجانا یا صرف چراغاں کر لینا نہیں بلکہ اس پاک ذات سے محبت کا وہ سچا اور گہرا تعلق قائم کرنا ہے جو انسان کی اندرونی دنیا کو اندر سے نکھار کر بالکل بدل کر رکھ دے۔

عشقِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صرف ایک جذباتی ابال یا عارضی احساس کا نام نہیں بلکہ یہ زندگی گزارنے کا ایک پورا بہترین طریقہ، دنیا کا سب سے پاکیزہ رویہ اور روح کا وہ ابدی نور ہے جو انسان کو مٹی کی حیثیت سے اٹھا کر عزت اور بلندی کی اونچائیوں پر پہنچا دیتا ہے۔ عشق، دل کے دعوے اور عمل کے ظاہر ہونے کا نام ہے۔

یہ صرف زبان سے محبت کے بول بول دینے، عارضی وجد کی حالت بنا لینے یا شاندار محفلیں سجانے کا نام نہیں بلکہ عشقِ مصطفیٰؐ کی اصل روح اپنے اندر تپش، فرمانبرداری، پیروی اور مکمل فنا ہو جانے کا نام رکھتی ہے۔ جو دل اس پاکیزہ آگ سے روشن ہو جاتا ہے، اس کا جینا اور مرنا، اس کا ہنسنا اور رونا، اس کا اٹھنا اور بیٹھنا اور اس کی ہر ایک سانس اپنے پیارے نبی ؐکی مرضی کے تابع ہو جاتی ہے۔

اگر ہم ماضی کے اوراق الٹیں اور صحابہ کرام کی زندگیوں کی روشن تاریخ کو دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ان کے ہاں محبت کا مطلب صرف باتوں سے نہیں بلکہ اپنے خون، پسینے اور مکمل اطاعت سے لکھا گیا تھا۔عشقِ مصطفیٰؐ کا پہلا اور بنیادی تقاضا کامل پیروی اور مکمل بات ماننا ہے۔ اللہ تعالٰی نے قرآنِ پاک میں اپنے پیارے نبیؐ کی پیروی کو اپنی محبت کی کسوٹی اور معیار قرار دیا۔ اگر کوئی شخص محبت کا دعویٰ کرے لیکن اس کے دن اور رات سنتِ نبویؐ سے خالی ہوں، اس کا اخلاق اور کردار آپ کی خوبصورت زندگی کا عکس نہ ہو تو اس کا دعویٰ یقیناً ادھورا اور کچا ہے۔

اپنے محبوب کے انداز کو اپنی زندگی میں ڈھال لینا ہی سچے عاشقوں کا طریقہ رہا ہے۔ حضرت بلال حبشی رضی اللہ عنہ کا گرم انگاروں پر لیٹ کر بھی احد احد کا نعرہ لگانا، حضرت خبیب رضی اللہ عنہ کا سولی پر لٹک کر بھی اپنے نبیؐ کے قدم مبارک میں ایک کانٹا چبھنا بھی برداشت نہ کرنا اور احد کی جنگ میں حضرت امِ عمارہ رضی اللہ عنہا کا اپنے جسم کو تیروں اور تلواروں کے آگے ڈھال بنا لینا،یہ وہ سچے واقعات ہیں جو بتاتے ہیں کہ محبت کا تقاضا صرف زبان سے بولنا نہیں بلکہ عمل کی میدان میں ثابت قدمی ہے۔دوسرا بڑا تقاضا ادب اور تعظیم کا وہ اونچا معیار ہے جہاں انسان کی عقل حیران رہ جاتی ہے۔

نبی کریم کی بارگاہ وہ جگہ ہے جہاں آواز کا اونچا ہونا تو دور کی بات دل میں کوئی برا خیال آنا بھی سارے اچھے اعمال کو ضائع کر دیتا ہے۔ محبت کا تقاضا ہے کہ آپ کا نام مبارک سنتے ہی دل کی دھڑکنیں احترام سے جھک جائیں، روح میں ایک پاکیزہ کپکپی پیدا ہو جائے اور پورے وجود پر ہیبت اور پیار کا ایسا غلبہ ہو کہ دنیا کی تمام بڑی سے بڑی چیزیں اس نام کے سامنے بالکل چھوٹی اور معمولی لگیں۔

ادب ہی وہ سیڑھی ہے جو بندگی کو سچی محبت کے اونچے مقام تک پہنچاتی ہے اور بے ادبی وہ راستہ ہے جہاں صدیوں کی عبادات بھی ضائع ہو جاتی ہیں۔عشقِ مصطفیٰؐ کا تیسرا تقاضا نظامِ مصطفیٰ ؐکو پھیلانا، قائم کرنا اور سچے دین کی مدد کے لیے اپنا سب کچھ قربان کر دینا ہے۔ جس پیارے نبی نے اپنی امت کو اندھیروں سے نکال کر روشنی کا راستہ دکھایا، جس نے طائف کے بازاروں میں سخت پتھر کھا کر بھی لوگوں کی ہدایت کے لیے دعائیں کیں اور راتوں کو رو رو کر اپنی امت کی بخشش کے لیے اپنے قدم مبارک پر سوجن لے آئے، اس پیارے نبیؐ کے دین کی حفاظت کرنا اور ان کے عدل و انصاف کے پیغام کو عام کرنے کی کوشش کرنا ہر سچے عاشق کا بنیادی فرض ہے۔

چوتھا اور بہت ہی باریک تقاضا پوری امتِ محمدیؐ سے محبت کرنا، شفقت سے پیش آنا اور ان میں اتحاد پیدا کرنا ہے۔ جو انسان اپنے نبیؐ سے سچی محبت کرتا ہے، وہ ان کی امت سے دل میں بغض، کینہ، منافقت اور حسد بالکل نہیں رکھ سکتا۔ امت کو فرقہ واریت، لڑائی جھگڑوں اور الگ الگ گروہوں کی آگ سے نکال کر ایک جسم کی طرح بنانا ہی سچی محبت کا اصل پیغام ہے۔ ایک سچا عاشقِ رسول اللہ کی مخلوق کے لیے سائے اور رحمت کی طرح ہوتا ہے۔ اس کے اخلاق سے اپنے نبیؐ کی نرمی، اس کے لین دین سے ایمانداری اور سچائی اور اس کے رویے سے اپنوں اور پرایوں پر پیار اور شفقت کی روشنی نظر آتی ہے۔

یہ محبت ہمیں سکھاتی ہے کہ مظلوم کا ہاتھ تھاما جائے، یتیم کے سر پر پیار سے ہاتھ رکھا جائے اور ہمارے معاشرے سے ناانصافی اور جہالت کو ختم کیا جائے۔آج کے اس مادیت سے بھرے، آزمائشوں والے اور تاریک دور میں، جہاں انسانیت تڑپ رہی ہے اور باطل اپنے ہر قسم کے دھوکے اور فریب کے ساتھ سامنے آ چکا ہے، عشقِ مصطفیٰؐ ہی وہ واحد سہارا اور روشنی کی کرن ہے جو مسلمان امت کو اس کا کھویا ہوا عزت کا مقام واپس دلا سکتا ہے لیکن اس کے لیے ہمیں اپنی محبت کو صرف نعروں، ظاہری دکھاوے اور سالانہ تقریبات سے نکال کر اپنے کردار، اپنے عمل، سچائی اور بڑی قربانی کے سانچے میں ڈھالنا ہوگا۔

ربیع الاول کا مہینہ ہمیں یہی پیغام دیتا ہے کہ ہم اپنے اندر ایک سچائی کا انقلاب لائیں، اپنے وجود کو اپنے نبیؐ کے اخلاق کا نمونہ بنائیں اور اپنی زندگیوں کو اپنے رب اور اس کے رسولؐ کی مرضی کے مطابق بنا لیں۔ جب تک ہمارے سینوں میں عشقِ مصطفیٰ کی وہ پاکیزہ آگ پیدا نہیں ہوتی جو ہر برائی کو جلا کر راکھ کر دے تب تک صرف زبان سے محبت کے ادھورے دعوے ہماری حالت نہیں بدل سکتے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button