google-site-verification=lY9Q0ltSKw-SRzooqMn9sstbtAm06IiRncsiBe1xwnw
بلاگپاکستانتازہ ترینتعلیم/ادبجرم-وسزاکالم

وہ چراغ جو جلتے ہی گل ہوئے

اسلام آباد:راحیلہ رحمٰن

 

"اری اونیک بخت کیا سارے پکوان آج ہی پکا کر بیٹی کو کھلا دے گی ؟”صغیر نے باورچی خانے سے اٹھتی خوشبوؤں کو محسوس کر کے جو کئی گھنٹوں سے اٹھ رہی تھی سکینہ سے پوچھا۔
” تو بھی تو کب سےحنا کی پسند کی چیزوں سے اس کے کمرے کو سجا رہا ہے پھر میں کیوں نہ اپنی بیٹی کی پسند کے کھانے بناؤں گھر کے کھانوں کو ترس گئی ہوگی میری بچی” سکینہ کی لطیف چوٹ پر حنا کے کمرے کا پردہ لٹکاتا ہوا صغیر ہنس پڑا ۔

آج دونوں میاں بیوی کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ تھا انکے لئے عید کا سماں تھا کیوں نہ ہوتا آج ان کی اکلوتی بیٹی حنا ڈاکٹر حنا صغیر بن کر مستقبل طور پر لوٹ رہی تھی۔ سکینہ کی ویران آنکھوں میں عجب سی چمک تھی جیسے خشک و گرم پتھریلے صحرا میں ایک دم برسات ہونے لگے مرجھایا ہوا چہرہ جیسے کھل اٹھا تھا ۔

صغیر کا کمزور لاغر وجود بھی چاق و چوبند مرد کی طرح ادھر سے ادھر بھاگ بھاگ کر تیاریوں میں مصروف تھا ان کی خوشی دیدنی تھی یہ دن دیکھنے کے لیے ہی تو انہوں نے بے تحاشا قربانیاں دی تھیں صغیر نے زمین کے چھوٹے سے ٹکڑے پر دن رات محنت کی اور دونوں نے پیٹ کاٹ کاٹ کر پائی پائی جوڑ کر اسے بڑھایا تھا جس کے لیے تمام برادری کی مخالفت کا سامنا بھی کیا اور لوگوں کی طرح طرح کی باتیں بھی برداشت کیں مگر ہمت نہ ہاری صبر و شکر کے ساتھ دونوں نے یہ وقت گزارا ۔

بے شک بیٹی کو شہر بھیج کر پڑھانا ایک مشکل ترین فیصلہ تھا مگر حنا کی ذہانت اور خواہش کو دیکھتے ہوئے کمر کس لی برادری سے ٹکر لینے کے علاوہ سرمائے کا انتظام بھی جان جوکھوں کا کام تھا لیکن وہ ان پڑھ اتنا ضرور۔ جانتے تھے کہ اپنی ہونہار بیٹی کی صلاحیتوں کو ختم کر دینا اس کے ساتھ ظلم کے سوا کچھ نہ تھا حنا کے شوق کے علاوہ ان دونوں کی خواہش بھی تھی کہ انکا پسماندہ گاؤں جہاں شفایاب ہونے کا کوئی خاص ذریعہ موجود نہ تھا اکثر لوگ تو درد میں تڑپتے تڑپتے شہر پہنچنے سے پہلے ہی راستے میں دم توڑ جاتے تھے۔

وہاں ضرورت تھی ایسے مسیحا جو ضرورت کے وقت ان کے اپنے گاؤں میں موجود ہو اور چھوٹی چھوٹی بیماریوں کے لیے ہزاروں روپے خرچ کر کے شہر نہ جانا پڑے اسلئے دونوں نے اس مشکل راستے کا انتخاب کیا اور اب منزل پر پہنچنے کا وقت آچکا تھا جب صغیر و سکینہ سمیت سارے گاؤں کے خواب پورے ہونے والے تھے اسی لیے صبح سے مبارکباد دینے والوں کی آمد و رفت کا سلسلہ جاری تھا۔
"اگر بھائی کبیر نے پھر وہی سوال کیا تو ہم کیا جواب دیں گے ؟ ” بالاخر خوشی کے درمیان بار بار ابھرنے والی فکر کا اظہار سکینہ نے صغیر سے کرہی ڈالا ”

سچ پوچھو تو میں بھی اسی الجھن میں گرفتار ہوں کہ اب تو ہمارے پاس حنا کی پڑھائی کا بہانہ بھی ختم ہو گیا” صغیر کے چہرے پر فکر مندی کے آثار نمایاں تھے جسے دیکھ کر سکینہ اور گھبرا گئی۔

بھائی کبیر حنا کے تایا تھے حنا کے لیے اپنے بیٹے توفیق کی پسندیدگی کا کئی بار اظہار کر چکے تھے اور چاہتے تھے کہ صغیر اپنی بیٹی کا رشتہ توفیق کے لیے دے دے صغیر سادہ طبیعت تھا اور بڑے بھائی کے احترام کی وجہ سے صاف الفاظ میں منع تو نہ کر سکا مگر اس کی پڑھائی کے بعد سوچنے کا بہانہ کر کے ٹالتا رہا تھا مگر اب اسے اندازہ تھا کہ کوئی حتمی بات بھائی کبیر سے کرنا ہوگی مگر انکار سن کر بھائی کا غصہ اور رشتہ داری ختم ہونے کا ڈر اسے دہلا رہا تھا ۔

توفیق میں کوئی خوبی ہوتی تو اور بات تھی مگر توفیق حنا سے بالکل الٹ تھا کہاں پڑھی لکھی خوش شکل با اخلاق اور والدین کی عزت کا بھرم رکھنے والی فرمانبردار حنا اور کہاں انپڑھ بد زبان نکمہ باپ کی کمائی پر دوستوں کے ساتھ سیر سپاٹے کرنے والا توفیق کسی طور حنا کے قابل نہ تھا مگر اپنی اولاد کس کو بری لگتی ہے اس لئے بھائی کبیر کو توفیق میں کوئی برائی نظر نہ آتی تھی بقول ان کے جوان بچہ ہےیہی تو عمر ہوتی ہے گھومنے پھرنے کی شادی کے بعد ذمہ داری پڑے گی تو کما بھی لے گا لیکن سکینہ کو یہ بات اچھی طرح معلوم تھی کہ دیور دیورانی اور حنا کو کبھی پسند نہ کرنے والی توفیق کی ماں ڈاکٹر بننے کے بعدحنا پر اچانک فریفتہ کیوں ہو گئی ظاہر ہے اوروں کی طرح وہ بھی اپنے نکمے لاڈلے کے لیے کماؤ پوت بہو کا انتخاب غلط تو نہیں کر رہی تھی اور ایسا رشتہ خاندان میں مل جائے تو دیور دیورانی پر رعب اور احسان الگ اور بیٹھ کر کھانے والی سہولت الگ فائدہ ہی فائدہ تھا ۔

حنا کے آنے سے گھر میں میلہ سا لگا تھا علاقے والے بھی خوش تھے کیوں نہ ہوتے چھوٹے سے گاؤں کی پہلی ڈاکٹر لڑکی ان کے لیے امید کی کرن تھی۔

کھانے کے بعد حنا صغیر کے ساتھ وہ کمرہ دیکھنے چلی گئی جو صغیر نے کلیننگ بنانے کے لیے پہلے سے دیکھ رکھا تھا گھر سے ذرا دور ضرور تھا مگر کرایہ کم ہونے کی وجہ سے فی الحال یہی حنا کو مناسب لگا۔۔۔

رات کو دروازے پر دستک ہوئی اور بھائی کبیر کو دیکھ کر سکینہ کا دل مٹھی میں آگیا ساتھ میں بھابھی رشیدہ اور توفیق بھی تھے۔۔
” پھر کیا سوچا حنا اور توفیق کی شادی کے بارے میں” میل ملاقات کے بعد بھائی کبیر نے اپنے مدعے پر آگئے ۔

"بھائی ابھی تو حنا آئی ہے اس سے پوچھا بھی نہیں ابھی اس سے بات کرلوں پھر ہی کوئی فیصلہ کر پاؤں گا” صغیر نے لڑکھڑاتی آواز میں کہا
” لڑکیوں سے پوچھ کر ہمارے خاندان میں کس نے آج تک فیصلہ کیا ہے اور جب برسوں پہلے فیصلہ ہو چکا تو اب کیا فیصلہ کرنا باقی ہے” بھائی کبیر کے لہجے میں کرختگی اور غصہ تھا ۔۔

"جب حنا پیدا ہوئی تھی تو اماں نے یونہی پیار میں ایک بات کہہ دی تھی کہ یہ تو میرے توفیق کے دلہن بنے گی اس وقت پتہ نہیں تھا کہ بچے بڑے ہو کر کیسے ہوں گے آپ اسی بات کو پکڑے ہوئے ہیں مجھے نہیں لگتا یہ رشتہ مناسب ہوگا دونوں کے مزاجوں میں بہت فرق ہے” ڈرتے ڈرتے صغیر نے اپنے دل کی بات کہہ ہی دی۔

” اس کا مطلب ہے تمہارا ارادہ تو تھا ہی نہیں کیا کمی ہے میرے بیٹے میں اور میرے گھر میں اللہ نے ہر شے دے رکھی ہے یاد رکھو اگر اس اس طرح سے پھرو گے تو ساری برادری سے ہاتھ دھو بیٹھو گے” بھائی کبیر نے گویا دھمکی دی۔

” برادری کے بڑے بھی مانیں گے کہ یہ بے جوڑ رشتہ ہے اور پھر بھی انہوں نے مجھے چھوڑا تو کوئی بات نہیں میری بچی کی زندگی سے بڑھ کر کچھ نہیں میرے لیے اور آپ کا بیٹا میری بیٹی کے کسی طرح لائق نہیں ہے” نہ جانے صغیر میں اتنی ہمت کہاں سے آگئی تھی کہ وہ کہتا چلا گیا کہتے ہیں نا جب بات اولاد پر آجائے تو انسان آگ میں بھی کود پڑتا ہے۔

” آج بیٹی کماؤ پوت کیا ہوگئی کہ اوقات ہی بھول گئے چچا جان شاید تمہاری بیٹی شہر میں خود اپنا رشتہ پکا کر کے آئی ہے تب ہی مجھ میں کیڑے نظر آنے لگے ہیں شکر کرو اکیلے شہر میں رہنے والی لڑکی کو میں قبول کر رہا ہوں ورنہ برادری میں کوئی تیار نہ ہوگا” توفیق اپنی عزت پر ضرب برداشت نہ کر سکا اور صغیر کی عمر اور رشتہ کا خیال کئے بنا بولتا چلاگیا۔

"میری بیٹی پر الزام لگانے سے پہلے اپنے گریبان میں جھانکو نکھٹو نہ کام کے نہ کاج کے سارا دن بیکار لڑکوں کے ساتھ آوارہ گردی کرتے ہو نماز نہ روزہ نہ اخلاق کس بات پہ میں اپنے ہیرے جیسی بیٹی دے دوں تم ہوتے کون ہو میری فرمانبردار بیٹی پر الزام لگانے والے ابھی اور اسی وقت نکل جاؤ میرے گھر سے” صغیر کے سر پر جیسے جنون سوار ہو گیا دوسرے کمرے میں بیٹھی حنا جو کب سے سن رہی تھی دوڑ کر باپ کے پاس آئی اور اسے سنبھالنے کی کوشش کرنے لگی صفیر نے پھر انگلی کے اشارے سے ان کو نکل جانے کا کہا "سنا نہیں آپ لوگوں نے بابا کیا کہہ رہے ہیں اب آپ لوگ یہاں سے چلے جائیں” حنا کے کہنے پر توفیق کی آنکھوں میں خون اتر آیا وہ پیر پٹختا باہر نکل گیا اسکے پیچھے ماں باپ بھی چل دیئے۔۔

کلینک پر بیٹھتے ہوئے چوتھا روز تھا مریضوں کا تانتا بندھا رہتا تھا فارغ ہو کر صغیر کو کال کرتی وہ اسے لینے آجاتا تھا مگر آج رش کی وجہ سے اسے بہت دیر ہو چکی تھی کلینک خالی ہوجکا تھا ۔

” لگتا ہے ڈاکٹر صاحبہ بہت مصروف ہیں” اس نے صغیر کو کال کرنے کے لیے فون اٹھایا ہی تھا کہ توفیق کی آواز پرچونکی اور پیچھے مڑ کر دیکھا تو وہ دروازے کی کنڈی بند کر رہا تھا” تم یہاں کیا کر رہے ہو اور دروازے کو لاک کیوں لگایا ہے” حنا نے غصے سے چیخ کر پوچھا
"میں اپنے دل کا علاج کروانے آیا ہوں اور دل کا علاج تو دروازہ بند کر کے ہی کیا جاتا ہے” توفیق کے انداز میں عجیب سفا کی تھی اسے کراہیت آنے لگی۔

” قریب مت آو پیچھے ہٹو” توفیق کو اپنے قریب آتے دیکھ کر حنا نے دھکا دیا مگر نازک سی لڑکی لاکھ کوشش کے باوجود اپنا دفاع نہ کر سکی اور اس درندے نے اس کی عصمت کو تار تار کر دیا وہ زمین پر گر پڑی اس کی تسکین پھر بھی نہ ہوئی تیزاب کی بوتل جو اپنے ساتھ لایا تھا نکالی اور اسکے اوپر انڈیل دی اور اسے چیختا تڑپتا ہوا چھوڑ کر فرار ہونے کے لئے دروازہ کھولا تو اسے لمحے صغیر دروازے پر پہنچ چکا تھا جلدی سے تڑپتی بیٹی کو اٹھانے دوڑا۔۔

آج ایک بار پھر حنا شہر سے واپس آرہی تھی مگر اکیلی نہیں اپنے ماں باپ کے ساتھ جن کے چہروں پر چمک نہیں ویرانی تھی جن کے وجود پتھر کے ہو چکے تھے اور آنکھیں ایمبولینسیں میں موجود کفن میں لپٹی حنا پر جمی معاشرے سے چیخ چیخ کر سوال کر رہی تھیں کہ کیا قصور تھا ان کی بیٹی کا؟ سارا گاؤں اشکبار پولیس توفیق کو حراست میں لے چکی تھی مگر اس کے باپ کی دولت اسے کب چھڑوا کر لے جائے کچھ پتہ نہ تھا لیکن اگر اسے سزائے موت بھی ہو جائے تو کیا سکینہ و صغیر کی دنیا تو اجڑ چکی تھی جو نقصان صرف ایک لڑکی کا نہیں سارے گاؤں کی امیدوں کا تھا اس مسیحا کا تھا جو ہزاروں جانوں کو اللہ کے اذن سے بچا سکتی تھی۔

نقصان ان خوابوں کا تھا جو اسکے والدین نے انکھوں میں سجائے تھے یہ ہمارے معاشرے کا المیہ بن چکا ہے آج نہ آٹھ سال کی منتہا محفوظ ہے نہ 29 سال کی ماہ نور ناصر نہ سات سال کی زینب محفوظ ہے اور نہ 26 سال کی حنا صغیر یہ تربیت سے عاری بھیڑیے کب تک معصوم جانوں کو ہوس کا نشانہ بناتے رہیں گے؟ یہ سلسلہ کب تک چلتا رہے گا؟ کب تک ماں باپ کی امیدوں کے چراغ گل ہوتے رہیں گے؟ ان سوالوں کے جواب ہیں کسی کے پاس؟

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button