جیسا کہ آپ سب جانتے ہیں۔کہ پطرس بخاری نے لاہور کا جغرافیہ لکھا تھا تو انہوں نے بالکل ٹھیک لکھا تھا مجھے ان سے اختلاف نہیں ہے انہوں نے اپنے علم کے مطابق بالکل درست لکھا تھا اب یہ نہ سمجھیے گا کہ میں ان۔پہ۔کوئی تنقید کرنا چاہتی ہوں ایسا ہر گز نہیں وہ میرے پسندیدہ ادیب ہیں اگر کوئی شخص صرف گیارہ۔مضامین لکھے اور ادبی دنیا میں امر ہوجائے تو کتنی بڑی ادبی شخصیت ہو سکتی ہے ۔
اس امر کا معلوم کرناچنداں دشوار نہیں اور نہ ہی میں کوئی جغرافیہ دان ہوں کہ فیتا پکڑ کے دائیں سے بائیں۔اور بائیں سےدائیں مشرق سے مغرب سے پھر مغرب سے مشرق اور آخر میں نتیجہ چند اعداد کی صورت میں نکالوں کہ پنجاب ارض بلد پہ اتنا ہے اور طول بلد پہ اتنا
اور نہ ہی میں ابن بطوطہ ہوں۔جو پنڈ دادن خان میں بیٹھ کے زمین کامحل وقوع لکھو ں یا پھر میں یہ کہہ دوں کہ پنجاب بھی انڈے کی طرح شکل میں گول ہے یا گیند کی طرح ۔
مابدولت کی تمام کی تمام دنیا عارفوالا ہے جس کی گلیوں اور سڑکوں کو اپنے قدموں سے ناپ چکے ہیں وجہ یہ نہیں کہ میں دشت پیمائی مزاج کی حامل ہوں تو بتاتی چلوں یہ میرا آبائی شہر ہے مطلب ننھیالی اور ددھیالی شہر میں اس کی دیوانی سکول سے نکل کر کالج اور پھر وہاں سے یونیورسٹی اور پھر ایم فل اس کے بعد جاب تو اس لحاظ سے آنا جانا لگا رہا ہر دور میں کچھ یہ۔۔۔کہ بے چین فطرت کے سبب کوئی نہ کوئی ایکٹیویٹی ہر دور میں چلتی رہی چاہے وہ سکول کا دور یا کالج کا دور ہو۔
یہ بندی آنے جانے کی شوقین ہے ،ٹکنامحال ملاں ۔کی دوڑ مسجد تک زیادہ سے زیادہ لاہو ر جانا لاہور اپنی حیثیت میں بہت جامع ہے تاریخی لحاظ سے دیکھا جائے تو انار کلی شاہی قلعہ بادشاہی مسجد مینار پاکستاں چو برجی اور شاہی قلعے میں تو ایک زمین دوز سرنگ بھی ہے جو دلی تک جاتی ہے تبھی شاید دلی دور است والا محاور ہ وجود میں آیا ہو گا۔
بہر حا ل تو میں یہ کہ رہی تھی کہ سر سید نے لاہوریوں کو زندہ دلان لاہور کا خطاب دیا تھاتوغلط نہیں ہے کیو نکہ یہاں۔زندگی اپنے لوازم کے ساتھ بھا گتی دوڑتی نظر آئے گی
بڑی بڑی عمارتیں ہوٹلز پی ٹی وی ہوم تھیڑ ہال اسپتال سب کچھ موجود ہے بس فرصت ملنی چاہیےپنجابی میں مثل مشہور ہے جنے لاہور نئیں ویکھیا اوہ جمیا ای نئیں بس اس لیے سال چھ ماہ میں ایک آدھ بار لاہور جاکے اپنے پیدائشی سرٹیفکیٹ پہ تصدیقی دستخط کراتے تاکہ ہمیں یقین ہوکہ ہم اس دنیا میں کہیں نہ کہیں اپنا وجود برقرار رکھتے ہیں۔
یا یہ نہ ہو کہ لاہور ہماری شکل وصورت بھول جائے یا ہم لاہور کو بھول جائیں بس اسی بھو ل بھلیاں میں ہم شرماشرمی لاہور چلے جاتے لاہور سے آگے کتنا وسیع پنجاب ہے ہمارے لیے اس کی وسعت صرف اور صرف لاہور تھی جیسے مینڈ ک کی کل کائنات کنواں ہوتی ہے اس طرح ہمارا کل پنجاب لاہور تک تھا پورا پاکستان کیا دیکھنے کی خواہش کرتے ویسے ہم نے پورا پاکستان بھی دیکھا ہوا ہے وہ نقشے پہ شرقاً غرباً شمالاً جنوباً اوپر سے نیچے نیچے سے اور یا پھر گلوب پہ انگلی سے گھمایا اور لمحے میں پورا پاکستان دیکھ لیا ہمیں آج تک یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ کراچی پاکستان کے کس حصے میں واقع ہے ہم سمجھتے تھے کہ لاہور سے آگے کراچی ہے اور جب بھائی کو پتا چلا کہ ہماری جغرافیائی حدود گڑبڑ ہیں تو وہ بےچارہ سر پیٹ کے رہ گیا پھر اس نے ہمیں پورا کراچی سمجھانے کی کوشش کی یہ نہ سمجھیےگا کہ ہمیں کراچی کا بالکل پتانہیں ارے نام۔کی حد تک کراچی سے بہت واقفیت ہے ہماری مثلاً اگر لفظ کراچی کے ہجے کیے جائیں تو صرف اور صرف پانچ لفظوں ک +ر+ا+چ+ی کامجموعہ ہے ۔
یا طاہر قریشی بھائی سے آنچل کے توسط سے واقفیت تھی اور شعاع خواتین کا پتا تھا کہ یہ شمارے کراچی سے نکلتے ہیں اس سے آگے نہ کبھی سوچا اب یہ نہ سمجھیے گا کہ اگر ہم نے پاکستان نہیں دیکھا تو اور کیا دیکھا ہوگا تو جناب آپ کو بتاتے چلیں کہ ہم پچھلے سال زیارات پہ گئے جس کی وجہ سے ہم نے ایران عراق دیکھ رکھا ہے۔
کربلا دیکھی قم دیکھا ہے کوفہ دیکھا ہے،بہرحا ل پنجاب کو دیکھنے کااتفاق بھی اتفاقاً ہوا جنوبی پنجاب دیکھا تقریباً بہاولپور چشتیاں فورٹ عباس ،ڈسکہ دیکھنے کا کبھی سوچا ہی نہیں تھا وکی اسپیشل کا بھلا ہو جس کی وجہ سے ہمیں اچانک ڈسکہ جانا پڑا فیس بک پہ پوسٹ لگائی کہ اگر کوئی بھائی بندہ ڈسکہ سے ہے تو رابطہ کرے مگر نا جی لوگ توبھو ل چکے ہیں کہ نیکی بھی کسی چڑیا کانام ہے لوگ شائد جنت میں جانا نہیں چاہتے اس لیے اب نیکی کو ترجیح نہیں دی جاتی۔
پھر اپنے contacts سے ڈھونڈ ڈھانڈ کر کاشی کا نمبر نکا لا کہ اگر ڈسکہ کہیں قریب پڑتا ہے تو میرا چھوٹا سا کام کردے بھائی مگر وہ بھی اپنے نام کا ایک ویسے۔مجھے آج تک جتنے بھی کلاس فیلو یا بیج میٹ ملے ہیں وہ سب نکمے کے نکمے ہیں ان میں کاشی سر فہرست ہے کبھی جو کوئی کام کردے نا جس دن کاشی نے کوئی کام کر دیا اس دن کاشی کاشی نہیں ہوگا دیوتا ہوگا دیوتامگر کاشی کو زیادہ عزت راس نہیں
یااللہ اب کاشی کی لڑائی سے بچانا ورنہ تو اس نے لڑ لڑ کےمیرادماغ چاٹ لینا ہے ۔
24ستمبر 2024 کو حنا کا آرمی میں ٹیسٹ تھا اس ایک خصوصیت اچھی ہے کہ وہ میرے بنا کہیں نہیں جاتی اب کی بار علی آل ریڈی لاہور تھا مجھے ساتھ جانا پڑا اور میں تو ہوں ہی آنے جانے کی شوقین ساتھ ہم نے نیناں کو بھی گھسیٹ لیا فیضی کے ذمے ہمیں بس پہ بٹھاناتھارات دوبجے کاٹائم طے تھا الارم سیٹ نہ کیا کیونکہ نیناں نے کہا تھا کہ وہ جاگ رہی ہے بس اس کے بھروسے میں سو گئی بھروسہ دلا کے وہ بھی سوگئی کہ مجھے اس کے بھروسے پہ بھروسہ تھا شائد اور پھر تین بجے میری اچانک آنکھ کھلی سیل پہ ٹائم دیکھا تو گاڑی نکل چکی تھی بہرحا ل بمشکل انہیں جگایا فیضی کوآواز دی کہ بھائی اٹھ جا پہلے ہی دیر ہوچکی ہے ۔
ویسے حیرت کی با ت ہے کہ آج میرے اندر خوبخود احساس ذمہ داری پیداہوچکا تھا جو سب سے پہلے تیار ہو چکی تھی ورنہ اگر علی ساتھ ہوتو وہ چیختا رہتا ہے جلدی جلدی کا شور مچانے کے باوجود مجھے دیر ہو جاتی ہے میں تو اس گانے کی عملی تفسیر ہوں علی کہتا ہے کہ دیر نہ ہوجائے کہیں دیر نہ ہوجائے ،میں کہتی ہوں کہ میں دیر کرتی نہیں دیر ہو جاتی ہے۔
بہرحال ساڑھے تین بجے ہم گاڑی میں تھیں ادھر سے علی کال پہ کال کر رہاتھا کہ نکلے کے نہیں اسے یقین دلایا کہ بھائی گاڑی میں بیٹھ چکے ہیں اگے اللہ دی مرضی یا فیر ڈرائیور دی مرضی کہ بس تے ڈرائیور نے چلانی ایں پھر ہم نے شانی یعنی حنا کے پاہا کو کالی ظاہری سی بات ہے میں جاگ رہی ہوں تو کوئی دوسراکیوں سوئے اس لیے ہم نے تمام سونے والوں کو باری باری فون۔کر کے جگایا کہ بھائی دیکھو ہشیار رہیو ہم لاہور جارہے ہیں جوابا ً پوچھا جاتا کہ اگر تم لوگ لاہور جا رہے ہو تو بیچارا لاہور کہاں جائے گا یہ سوال تو پھر لاہور سے ہی کیا ا جانا چاہیے تھا بہرحال تمام سونے والوں کو جگا کے یہ بتانا کہ ہم لاہور جارہے ہیں یہ ہماری ذمہ داری تھی سو ہم نے تن من دھن سے پوری کی اب وہ ہمیں کیا کہتے ہیں اس کی ہمیں ذرا پرواہ نہیں تھی ۔
بہرحال ساڑھےسات بجے ہم علی کے دفتر پہنچے اور حضرت گاڑی نکال کے لائے اور کینٹ کا رخ کیا جہاں حنا کا ٹیسٹ وقوع پزیر ہونا تھا
مختلف جگہوں سے لوگ اپنےبچے بچیوں کو لیکر آئے ہوئے تھے اور میں سوچ رہی تھی کل جب بچے یہ کہتے ہیں ناکہ آپ نے ہمارے لیے کیا کیا تو اس وقت شائد میں جواب دینے کے لیے موجود نہ ہوں مگر جواب یہی ہے کہ انہوں نے اپنی خواہشات کو ان کے اچھے مستقبل کے لیے تیج دیا ہے۔
بہرحال ایک بجے ٹیسٹ سے فری ہوئے اور پھر علی نے لاہور سے موٹر وے کے لیے گاڑی نکالی پوراگھنٹہ لگ گیا لاہور سے موٹر وے تک آتے ہوئے اور پھر موٹر وے پہ پر سکون انداز میں علی نے گاڑی دوڑانی شروع کی اور میں دائی بائیں دیکھ رہی تھی ہرابھرا پنجاب دیکھ کے دلی اطمینان ہو رہا تھا ہم سرگودھا پسرور نارووال سے دامن بچاتے ہوئے جارہے تھے ۔
اب مستیاں شروع ہو چکی تھیں فل والیوم۔میں گانے بج رہے تھے ارجیت سنگھ سجاد علی کے گانے سن سن کر انہیں خراج تحسین دیا گیاہم نے بھی بے ہنگم انداز میں خود بھی سنگنگ کرنے کی کوشش کی مگر ناجی کسی نے ارجیت سنگھ کے مقابل مجھے سننے کی کوشش نہ کی رستے میں ہم ٹول پلازہ کےسامنے بنے ہوٹل پہ رکے چائے پینے کی کوشش کی مگر چائے ندارد ٹینکی فل کروائی مزے کی بات بتائوں علی جب میرے ساتھ ہوتو وہ۔مجھے فری سروسز دینا گناہ کبیرا سمجھتا ہے شائد اسے لگتا ہے کہ خادم اعلی کادرجہ میرے پاس ہے یعنی کہ میں مریم نواز ہوں کیونکہ آجکل وہی پنجاب کی خادم اعلی ہے ۔
ٹینکی فل کرائی گئ تین۔بجے کے قریب ڈسکہ پہنچے شہر سارے کا سارا عارفوالا جیسا اب یہ نہ سمجھیے گا کہ وہاں صفائی نہیں تھی واقعی صفائی نہیں تھی وکی بھائی کو حب یہ پتا چلا کہ ہم عارفوالا سے تشریف لائے ہیں انہوں نے ہمیں۔ فوری ٹریٹ کیااور تقریباً دس منٹ بعد ہم ڈسکہ سے واپس نکل رہے تھے ڈسکہ لوکل ہوٹل سے ہم نے چائے پی اور نیناں اور حناکے ساتھ میں نے اور علی بھی کھا نا کھا یا
میں دیکھ رہی تھی کہ پنجاب کتنا سر سبز ہے موٹر وے کے دونوں اطراف میں سرسبز وسیع و عریض کھیت ہیں کہیں دھان کی فصل لہرارہی ہے کہیں برسیم کے کاسنی چھوٹے چھوٹے پھولوں کی خوشبو فضا میں پھیلی ہوئی ہے۔
رستے میں سڑک پہ BABY TORTOISEسر عام دیکھنے کو ملتے ہیں مجھے بلوچستان۔کی ہو لناکی یاد آ رہی تھی کہ کہروڑ پکاسے آگے جوں جو ں نکلتے جائیں پہاڑ شروع ہو جاتے ہیں بلند و بالا وسیع و عریض پہاڑ خشکی سے بھرے ہوئے ہیبت ناک تنگ سڑکیں جو شائد پہاڑوں کو کاٹ کاٹ کے بنائی گئیں تھیں سبزے کا نام۔نشان تک نہ تھا
لوگوں دوردراز بنجر ویران زمینوں پہ سر کنڈے کی جھونپڑیاں بناکے بیٹھتے ہیں پینے کو صاف پانی تک میسر نہیں قہر کی پڑتی گرمی بچے گندے تالاب بلکہ جو ہڑ میں نہارہے ہیں چھوٹے چھوٹے کچے گھر زندگی شائد بلوچستاں میں 4G کے زمانے میں سوسال پیچھے ہے
نہ درختو ں کا کہیں نام ونشان۔ہے جتنے ہمارے ہاں بکرے کے بچے ایک سال میں. ہوتے ہیں وہاں اتنے قد کی بکریاں ہیں
سویلائزًڈ شہر صرف کوئٹہ ہے اور یہ ویرانی کوئٹہ سے دالبندین PAKISTAN HOUSE تک جاتی ہے۔
واپسی پہ تقریباً دس بجے دوبارہ لاہور پہنچے اور دربارحضرب بیبیاں پاک دامن پہنچے،مزار کی چونکہ دوبارہ تعمیر کی گئی تھی بڑاسارا علم۔لگا ہوا ہے جس کے نیچے فقراو مساکین ہروقت بیٹھے رہتے ہیں۔چراغ جلتے رہتے ہیں منتیں بڑھائی جاتی ہیں اٹھائی جاتی ہیں کہیں لوگ بیٹھے منقبت نوحہ۔یاقصیدہ پڑھ رہے ہیں دوسری طرف قبلہ رخ مسجد ہے جہاں کچھ حضرات بیٹھے تلاوت قرآن پا ک کر رہے ہیں بہرحا ل دعائوں کا یہ سلسلہ شائد ازل سے جاری ہے اور ابد تک رہے گا۔
مجھے وہ پرانی قبر مبارکہ یاد آگئی بچپن میں دادی سےملنے ابو اور بڑے ماموں کےساتھ قصور گئی واپسی پہ لاہورحضرت پاک دامن کے دربار پہ گئے صحن کچا تھا پورے صحن میں دو کچی قبریں تھی اور قبروں کے اردگرد سیمنٹ کی جالی لگی ہوئی تھی میں چونکہ بچی تھی تو میں اس جالی کے ساتھ لگ کر اندر جھانکنے کی کوشش میں تھی پھر پتا نہیں کب تعمیر ہوئی دو ہزارچار میں پھر لاہور گئی تو مزار اب پکا تھا اور قبریں اونچی کر دی گئیں لیکن یہ جو دوسری تعمیر سب سے بہتر ہے کہ مزار کی چھت اونچی کر دی گئ ہے صحن میں اب بھی ون کا درخت جوں کا تو ہے ۔ اس درخت کو شائد مزاروں سے ویسے ہی رغبت ہے جو یہ ہر مزار کے ساتھ ہی نظر آتا ہا بہرحا ل دعائیں کرکے واپس لوٹ آئے۔



