google-site-verification=lY9Q0ltSKw-SRzooqMn9sstbtAm06IiRncsiBe1xwnw
انٹر نیشنلبلاگپاکستانتازہ ترینجرم-وسزاکالم

ہمارے اندرونی تضادات

حسنین جمیل

قائد حزب اختلاف اور بلوچستان سے رکن قومی اسمبلی محمود خان اچکزئی نے حالیہ بلوچستان دہشت گردی پر اظہار خیال کرتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ منگی ڈیم پر حملے کے دوران پولیس اہلکار دلیری سے لڑ رہے تھے انکے پاس اسلحہ ختم ہو رہا تھا وہ لوگ قریبی چھائونی سے بار بار تازہ کمک کے لئے کہتے رہے مگر کوئی انکی مدد کو نہ آیا۔

 

اچکزئی کا یہ بیان بہت ہی پریشان کن ہے اس کی فوری تحقیقات ہونی چاہیے جس کے لئے ایک غیر جانبدار اور آزاد ٹیم درکار ہے منگی ڈیم کے پاس جو چھائونی ہے وہاں سے تازہ کمک اگر پہنچ جاتی تو آج پولیس اہلکار اتنی بڑی تعداد میں جاں بحق نہ ہوتے ،بلوچستان کے مسائل بہت گھمبیر ہوتے جارہے ہیں، فارم 47 کے وزیر اعلیٰ اس قابل نہیں کہ وہ ان پہاڑ جیسے مسائل کو حل کر سکیں کیونکہ وہ عوامی پزایرئی سے محروم ہیں ۔

فارم 47 کے وزیر اعظم شہباز شریف جب مہنگا ترین ولایتی سوٹ پہن کر سپہ سالار کے ہمراہ کوئٹہ کے ہوائی اڈے پر اترتے ہیں لگتا ہے کوئی وائسرائے آیا ہے شکر ہے اس بار وہ وزیر داخلہ ساتھ نہیں جو کہتا تھا یہ دہشت گرد ایک ایس ایچ او کی مار ہیں ۔

ہمارے زیر انتظام کشمیر کے حالات خراب سے خراب تر ہوتے جا رہے ہیں وہاں الیکشن سر پر ہیں کسی سیاسی جماعت خاص طور مسلم لیگ ن کی ہمت نہیں ہے عوام کے درمیان جا سکے ان کے امیدواوں کے ساتھ جو کچھ مبینہ طورپر ہوا ہے اور جو ویڈیوز سوشل میڈیا پر چل رہی ہیں وہ لمحہ فکریہ ہے۔

کشمیر میں پیپلزپارٹی کا وزیر اعظم ہے مگر ابھی تک بلاول بھٹو بھی کسی جلسہ جلوس میں شرکت کرنے کی ہمت نہیں کر سکے ،تحریک انصاف نے کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے ساتھ ہوئے نا روا سلوک کی وجہ سے الیکشن کا بائیکاٹ کا درست فیصلہ کیا ہے ،درحققیت کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی ہی عوام کی اصل آواز ہے وہی ہیں جن کو عوامی تائید حاصل ہے ، تاریخ میں پہلی بار ایسا لگتا ہے کہ یہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے الیکشن نہیں۔

بنوں کے سرکاری سکول میں طالبان کی موجودگی کی جو ویڈیوزسوشل میڈیا پر چل رہی ہیں وہ بھی کرب ناک ہیں جس طرح ہمارے قومی ترانے کا مذاق اڑایا جا رہا ہے وہ ہماری گڈ طالبان اور بیڈ طالبان، کی پالیسی کے منہ پرزناٹے دار تھپڑ ہے ،حرف آخر اگر ہمیں ایران امریکہ کی ثالثی سے فرصت مل جائے تو اپنے اندرونی تضادات پر بھی ایک نظر ڈالنے کی اشد ضرورت ہے یہ تضادات بہت گہرے ہوتے جا رہے ہیں ،ویسے بھی اس بین الاقومی ثالثی کے ثمرات ہماری عوام تک نہیں پہنچ سکے نہ اس کے امکانات ہیں بے چارے عوام مہنگائی کی چکی میں مزید پستے جا رہے ہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button