کراچی: (ویب ڈیسک) امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمٰن نےکہاہے سب اپنی اپنی آئینی پوزیشن پر چلے جائیں سسٹم خود بخود ٹھیک ہو جائے گا۔
ادارہ نورحق میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ان کاکہناتھامحسن نقوی نے موجودہ نظام کی ناکامی کا اعتراف کر کے تسلیم کیا کہ فارم 47کے ذریعے مسلط ہونے اورکرنے والے دونوں ناکام ہو چکے، ہمارا واضح اور دوٹوک موقف ہے کہ جیتنے والوں کو جیتنے اور ہارنے والوں کو مسلط نہ کیا جائے مسائل حل ہو جائیں گے۔
جب معاملات قابو سے باہر ہوتے ہیں تو اسی طرح کی باتیں سامنے لائی جاتی ہیں جن سے لوگ آپس میں الجھیں،لسانی بنیادوں پر بحث کریں اوراصل معاملہ پیچھے چلا جائے، پنجاب میں 2015ء سے بلدیاتی انتخابات نہیں کرائے گئے،کراچی میں جماعت اسلامی کا میٔر بننے کا راستہ روکا گیا، پیپلز پارٹی خود فارم47کی پیداوار ہے، بلاول بھٹو کراچی سے ملنے والی 7 نشستوں کے فارم 45 دکھائیں، جن کو 17نشستیں نہیں ملیں ان کو پورا ملک دے دیا گیا، رجیم چینج کرنے والوں کو معاف نہیں کیا جا سکتا۔
ضروری ہے ملک میں متناسب نمائندگی کی بنیاد پر انتخابات کرائے جائیں، سیاسی قیدیوں کو رہاکیاجائے اور فوج سمیت تمام حکمران طبقہ اپنی غیرضروری مراعات سے دستبردار ہو۔ پٹرول لیوی بھتہ ٹیکس کی ظالمانہ وصولی کے خلاف جماعت اسلامی کے تحت پورے ملک میں 7اگست کو احتجاج ہوگااور سڑکیں بند کی جائیں گی،3اگست کو شاہراہ قائدین پر خواتین کا زبردست احتجاجی مارچ ہوگا، 2اگست کو بھی نوجوان احتجاج کے لیے نکلیں گے اور 7اگست کے احتجاج کی تیاری کریں گے، عوام اپنا آئینی و قانونی حق استعمال کر کے حکمرانوں کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیں گے۔
حافظ نعیم الرحمن نے بلوچستان میں 35 کان کن مزدوروں کی شہادت پر بھی گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کراچی ملک کا معاشی حب ہے لیکن اسے وفاق اور صوبہ سمیت کوئی حکمران پارٹی اون کرنے کو تیار نہیں، پیپلز پارٹی نے کراچی کے اداروں اور وسائل پر قبضہ کیا ہوا ہے اور عوام بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔
حکومت نے آزادکشمیر میں معاملات بگاڑ دیئے ہیں، مذاکرات کے ذریعے اگر مسئلہ حل کرلیا جاتا تو صورتحال اتنی خراب نہ ہوتی، گولی سے مسئلہ حل کرنے سے نفرتیں پروان چڑھتی ہیں اور بیرونی طاقتیں، ملک دشمن قوتیں فائدہ اٹھاتی ہیں، آزاد کشمیر میں اب بھی مسائل کے حل کا راستہ مذاکرات ہیں، حکمرانوں کا لہجہ پاکستان کوزخمی کررہا ہے،یہ طرز حکمرانی چھوڑنا پڑے گا، کشمیر ی ہمارے بھائی ہیں۔
آزاد جموں کشمیر میں پیپلز پارٹی کے پرائم منسٹرسمیت حکومت پاکستان نے بھی کوئی کردار ادانہیں کیا، جماعت اسلامی نے آزاد کشمیر کے مسئلے کے حل کے لیے ہمیشہ اپنی خدمات پیش کیں،پچھلے چند دنوں میں ہونے والے واقعات نے ہرپاکستانی کوتشویش میں مبتلا کردیا،طاقت کے ذریعے یہ مسئلہ حل نہیں ہوسکتا،فورسز کے لوگ بھی ہمارے لوگ ہیں اور آزاد کشمیر کے لوگ بھی ہمارے بھائی ہیں،کبھی یہ نہیں کہا ہم کسی پاکستان مخالف بیانے کو تسلیم کرتے ہیں،ہم صورتحال کو مذاکرات سے حل کرنے کی حمایت کرتے ہیں۔
پورے خطے میں کرنسی کے حساب سے پاکستان میں سب سے زیادہ مہنگا پیٹرول فروخت ہورہاہے، لیوی عوام کے ساتھ انتہائی ظلم اور حکومتی بھتہ ٹیکس ہے،جب حکمرانوں سے لیوی ختم کرنے کی بات کی جاتی ہے تو وہ کہتے ہیں کہ ہم آئی ایم ایف کے پروگرام میں ہیں اس لیے ہم لیوی ختم نہیں کرسکتے،یہ سب باتیں بالکل بیکار باتیں ہیں، اصل میں حکومت اپنے اہداف کو حاصل کرنے میں ناکام ہوچکی ہے۔
ایف بی آر کرپشن کا گڑھ بن چکا ہے، اویس لغاری کے مطابق پاکستان میں 3کروڑ موٹر سائیکلیں ہیں اور یہ موٹر سائیکلیں چلانے والا غریب ومتوسط طبقہ بھاری بھرکم ٹیکس اور لیوی اداکررہا ہے، جب پیٹرول کی قیمت بڑھتی ہے توتمام اشیاء کی قیمتوں کو آگ لگ جاتی ہے اور غریب عوام کا بجٹ بالکل آؤٹ ہو جاتا ہے، حکمرانوں کی اپنی عیاشیاں ختم نہیں ہورہی اور عوام پر سارا بوجھ ڈالا ہوا ہے، ایسے نااہل حکمران ہم پر مسلط کر دیئے گئے ہیں جو کوئی بھی مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔



