باب المندب میں تجارتی جہاز پر حوثی حملہ، 2 پاکستانیوں سمیت 6 افراد جاں بحق

صنعا، تہران، واشنگٹن (ویب ڈیسک) یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے باب المندب آبنائے میں ایک تجارتی جہاز پر حملے کے نتیجے میں عملے کے 6 ارکان جاں بحق ہوگئے، جن میں 2 پاکستانی شہری بھی شامل ہیں۔
ترکیہ کی خبر رساں ایجنسی انادولو نے یمن کے حکومت نواز نشریاتی ادارے الجمھوریہ ٹی وی کے حوالے سے بتایا ہے کہ حملے میں 2 پاکستانی اور ایک انڈونیشی شہری جاں بحق ہوئے۔
رپورٹ کے مطابق حملے کا نشانہ بننے والے تجارتی جہاز کی شناخت فوری طور پر سامنے نہیں آسکی۔
باب المندب حملے میں 6 ہلاکتوں کی تصدیق
یمن کے کوسٹ گارڈ حکام نے بھی باب المندب کے قریب ایک کارگو جہاز پر حملے میں 6 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔
کوسٹ گارڈ حکام نے الزام عائد کیا کہ حملہ ایران کے حمایت یافتہ حوثی جنگجوؤں نے کیا۔ حکام کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں کارگو جہاز کے عملے کے 4 ارکان بھی شامل ہیں، جبکہ امدادی اور انخلا کی کارروائیوں کے لیے بھیجے گئے دستے کے 2 اہلکار بھی ہلاک ہوئے۔
تاہم حوثی گروپ کی جانب سے فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا اور نہ ہی گروپ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔
حوثیوں کا سعودی جہاز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ
دوسری جانب عرب میڈیا کے مطابق یمن کے حوثی گروپ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے بحیرہ احمر اور خلیج عدن کو ملانے والی اہم آبی گزرگاہ باب المندب میں سعودی عرب کے لیے فوجی سازوسامان لے جانے والے ایک بحری جہاز کو نشانہ بنایا۔
حوثیوں کے زیر انتظام خبر رساں ادارے سبا کے مطابق حملہ سعودی جہاز کو نشانہ بنا کر کیا گیا اور اسے سعودی عرب کے خلاف حالیہ بحری کارروائیوں کا حصہ قرار دیا گیا ہے۔
تاہم عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق حوثیوں کے اس دعوے کی آزاد ذرائع سے فوری طور پر تصدیق نہیں ہوسکی۔ جہاز کی سعودی ملکیت اور اس پر فوجی سازوسامان کی موجودگی کی بھی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوئی۔
باب المندب عالمی تجارت کے لیے کیوں اہم ہے؟
باب المندب آبنائے بحیرہ احمر اور خلیج عدن کو ملانے والی انتہائی اہم سمندری گزرگاہ ہے۔ ایشیا، مشرق وسطیٰ اور یورپ کے درمیان تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے اس راستے کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔
خطے میں حالیہ برسوں کے دوران تجارتی جہازوں پر ہونے والے حملوں کے باعث عالمی شپنگ کمپنیوں کو سیکیورٹی خدشات کا سامنا رہا ہے۔ متعدد کمپنیوں نے خطرات کے پیش نظر اپنے بحری جہازوں کے راستے تبدیل کیے، جس کے نتیجے میں سفر کا دورانیہ اور اخراجات بڑھ سکتے ہیں۔
خلیج عمان میں امریکی فوج کی کارروائی
دوسری جانب خلیج عمان میں امریکی فوج نے ایرانی بندرگاہوں کی مبینہ ناکہ بندی توڑنے کی کوشش کرنے والے ایک مال بردار جہاز کو نشانہ بنایا ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی فوجی ہیلی کاپٹر نے پاناما کے پرچم بردار ایک تجارتی جہاز کے رڈر (پتوار) کو نشانہ بنایا۔ واقعے میں فوری طور پر کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
رڈر جہاز کا وہ اہم حصہ ہے جو اس کی سمت تبدیل کرنے میں مدد دیتا ہے، اس لیے اسے نشانہ بنانا جہاز کی نقل و حرکت محدود کرنے کی کوشش تصور کیا جا رہا ہے۔
امریکی فوج کا جہاز پر الزام
امریکہ نے الزام عائد کیا کہ مذکورہ جہاز نے ایرانی بندرگاہوں کے گرد عائد امریکی بحری ناکہ بندی پر مامور اہلکاروں کی وارننگز کو نظر انداز کیا اور آگے بڑھنے کی کوشش کی۔
برطانوی میری ٹائم رسک مینجمنٹ گروپ وینگارڈ اور دیگر بحری سلامتی کے ذرائع کے مطابق امریکی ہیلی کاپٹر نے جس جہاز کو نشانہ بنایا، اس کی شناخت ویلا نوا کے نام سے ہوئی ہے۔
واقعے میں فوری طور پر کسی ہلاکت یا زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی، جبکہ بعض ابتدائی رپورٹس میں جہاز پر موجود 17 افراد کے محفوظ ہونے کی اطلاع بھی دی گئی ہے۔
اہم نکات
- باب المندب میں تجارتی جہاز پر حملے میں 6 افراد کی ہلاکت کی اطلاع۔
- جاں بحق افراد میں 2 پاکستانی شہری بھی شامل ہیں۔
- یمنی کوسٹ گارڈ نے حملے کا الزام حوثی جنگجوؤں پر عائد کیا۔
- حوثیوں نے فوری طور پر حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔
- حوثیوں نے سعودی عرب کے لیے فوجی سازوسامان لے جانے والے جہاز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا۔
- رائٹرز کے مطابق حوثیوں کے دعوے کی آزاد ذرائع سے فوری تصدیق نہیں ہوسکی۔
- خلیج عمان میں امریکی فوج نے ایک مال بردار جہاز کے رڈر کو بھی نشانہ بنایا۔
- باب المندب ایشیا، مشرق وسطیٰ اور یورپ کے درمیان تجارت کے لیے اہم سمندری راستہ ہے۔



