
گاؤں میں اس دن بھی مٹی اڑ رہی تھی۔گورکھی گاؤں کے کچے راستے پر ایک غریب کسان اپنے گھرکے باہربیٹھا تھا۔ گھرکچا تھا، وسائل محدود تھے، مگر صحن میں بچوں کی آوازیں تھیں۔ سات بیٹیاں تھیں اور پھرایک دن اس گھرمیں وہ خبرآئی جس کا انتظاربرسوں سے تھا۔بیٹا پیدا ہوا تھا۔ وتھلبھائی برائیا نے بچے کوگود میں اٹھایا توجیسے ساری محرومیاں ایک لمحے کے لیے ختم ہوگئیں۔
دیوبین کی آنکھوں میں بھی خوشی تھی۔ سات بہنوں کا اکلوتا بھائی، ماں باپ کا اکلوتا بیٹا۔اس کا نام گنیش رکھا گیا۔گھرمیں اب گنیش کا راج تھا۔ سات بہنیں اسے ہاتھوں ہاتھ لیے پھرتیں۔ ماں اسے سینے سے لگائے رکھتی اورباپ اسے دیکھتا تواس کے چہرے پرایسی مسکراہٹ آجاتی جیسے اس کے پاس دنیا کی سب سے بڑی دولت ہو۔مگرچارسال بعد ایک صبح ماں نے گنیش کوغورسے دیکھا،اسے کچھ عجیب سا لگا،گنیش کا سراس کے جسم کے مقابلے میں بڑا دکھائی دے رہا تھا،چند دن گزرے تو تشویش بڑھنے لگی، پھر ڈاکٹر، پھر ٹیسٹ، پھر رپورٹس۔۔۔۔
اورپھر وہ لفظ سننے کو ملا جس نے اس گھر کی خوشیوں پر پہلی بارسایہ ڈال دیا،گنیش کا قد معمول کے مطابق نہیں بڑھے گا۔اسے پیدائشی طورپرڈوارفزم تھا، بعد میں اس کی جسمانی معذوری 72 فیصد تک پہنچ گئی۔ کہیں گروتھ ہارمون کی کمی بتائی گئی۔آسان لفظوں میں مسئلہ صرف اتنا تھا کہ گنیش کے جسم نے بڑھنے سے انکارکردیا تھا۔گلی میں بچے اسے دیکھتے تو ہنستے،اسکول پہنچا تو بینچ اس کے قد کے مطابق نہیں تھیں۔
کلاس کے بچے اسے مختلف ناموں سے پکارتے۔ کبھی کوئی آواز کس دیتا، کبھی کوئی راستہ روک کر ہنسنے لگتا،گنیش خاموش رہتا۔اس کے والد اسے کندھے پر بٹھا کراسکول لے جاتے۔ بہنیں اس کے ساتھ ہوتیں۔ گھر غریب تھا، مگر گنیش اکیلا نہیں تھا۔پھرایک دن ایک سرکس والے نے اس کے والد سے ملاقات کی،انہوں نے پانچ لاکھ روپے کی پیشکش کی۔۔۔۔پانچ لاکھ ۔۔۔ایک غریب کسان کے لیے یہ رقم شاید پوری زندگی کی سب سے بڑی دولت تھی،سرکس والے نے کہا، بچہ ہمارے حوالے کردیں،وتھلبھائی نے اپنے بیٹے کی طرف دیکھا،پھرپانچ لاکھ کی طرف۔۔۔۔اورسر ہلا دیا۔۔۔۔ نہیں ۔۔۔
وہ اپنے بیٹے کو تماشا نہیں بنانا چاہتے تھے، وہ اسے پڑھانا چاہتے تھے، گنیش بھی پڑھنا چاہتا تھا۔۔۔ گاؤں کے اسکول سے ابتدائی تعلیم مکمل کی۔ پھر نویں جماعت میں نیلکنٹھ ودیاپیٹھ (تلاجہ) پہنچا۔ وہیں ایک دن اس کے دل میں ایک عجیب خواب نے جنم لیا۔ وہ ڈاکٹر بننا چاہتا تھا، شاید بہت سے لوگوں نے ہنس کرکہا ہوگا کہ یہ کیسے ممکن ہے۔ مگرگنیش نے کسی کی ہنسی کو اپنے خواب کا فیصلہ نہیں بننے دیا۔۔۔ وہ پڑھتا رہا۔ محنت کرتا رہا۔ میٹرک اچھے نمبروں سے پاس کیا۔ پھر ایف ایس سی میں تلاجہ سے 87 فیصد نمبر حاصل کیے۔
آیا2018 ،وہ میڈیکل کے انٹری ٹیسٹ میں بھی کامیاب ہوگیا۔ اب صرف ایک دروازہ باقی تھا۔ میڈیکل کالج کا دروازہ، گنیش نے دروازہ کھٹکھٹایا،مگر دروازہ نہیں کھلا۔ میڈیکل کونسل آف انڈیا نے اسے داخلہ دینے سے انکار کردیا۔ وجہ اس کا تین فٹ قد اور جسمانی معذوری تھی، کہا گیا کہ وہ ایمرجنسی کے مریض نہیں سنبھال سکے گا۔
گنیش واپس آگیا، اس باراس کے ساتھ اس کے دو استاد تھے۔ اسکول کے پرنسپل ڈاکٹر دلپتبھائی کتاریا اور استاد ریوات سنگھ سروئیا۔ انہوں نے گنیش سے کہا، لڑو۔۔۔ گجرات ہائی کورٹ میں مقدمہ دائر ہوا۔۔۔ مقدمہ ہار گئے، لیکن گنیش نے شکست کو آخری منزل نہیں سمجھا، اب وہ سپریم کورٹ پہنچ گیا۔۔۔
اکتوبر2018،فیصلہ آگیا، سپریم کورٹ نے کہا کہ صرف قد یا معذوری کی بنیاد پرکسی طالب علم کو میڈیکل تعلیم سے روکا نہیں جاسکتا۔ایک دروازہ کھل گیا تھا۔۔۔۔2019 میں گنیش کو گورنمنٹ میڈیکل کالج، بھاؤنگرمیں داخلہ مل گیا، وہی گنیش، جسے کبھی گلی کے بچے دیکھ کر ہنستے تھے، اب سفید کوٹ پہن کر میڈیکل کالج کی راہداریوں میں چل رہا تھا۔
کالج میں دوست بھی تھے اورایسے پروفیسر بھی جو اس کے ساتھ کھڑے ہوگئے۔ اینٹومی کی کلاس میں اسے اگلی نشست پر بٹھایا جاتا۔ کبھی سرجری دیکھنے کا موقع آتا تو اسے کندھوں پر اٹھا لیا جاتا تاکہ وہ بھی دیکھ سکے۔ گنیش دیکھتا رہا۔ سیکھتا رہا۔۔۔۔ اورآگے بڑھتا رہا۔۔۔۔2024 میں اس نے بھاؤنگر کے جنرل اسپتال میں انٹرن شپ مکمل کی۔۔۔۔پھر نومبر2024 آیا، اس دن گنیش برائیا میڈیکل آفیسر بن گیا۔
وہی گنیش جسے کبھی سرکس کو پانچ لاکھ روپے میں دینے کی پیشکش ہوئی تھی۔ وہی گنیش جسے کبھی کلاس کے بچوں کے مذاق کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ وہی گنیش جس کے لیے کہا گیا تھا کہ یہ ایمرجنسی مریض نہیں سنبھال سکتا۔ اب لوگ اس سے ملنے کے لیے آتے تھے۔ اس کی کہانی پورے بھارت میں پہنچ چکی تھی۔ وہ امیتابھ بچن کے پروگرام ’’کون بنے گا کروڑ پتی‘‘ میں بھی گیا۔
تیز ترین بَزّر راؤنڈ جیت کر ہاٹ سیٹ تک پہنچا اور تقریباً پچیس ہزار روپے جیتے۔۔۔۔ اورپھرایک دن اس کا نام گنیزورلڈ ریکارڈ میں درج ہوگیا۔ دنیا کا سب سے چھوٹے قد والا ڈاکٹر۔ گنیش کے گھر میں شاید آج بھی وہی مٹی ہے۔ وہی سادہ لوگ ہیں۔ وہی سات بہنیں ہیں جنہوں نے کبھی اسے سہارا دے کر اسکول پہنچایا تھا۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اب جب گنیش سفید کوٹ پہن کراسپتال میں داخل ہوتا ہے تو کوئی اس کے قد کو نہیں دیکھتا۔
لوگ اس کے ہاتھ میں پکڑا ہوا اسٹیتھوسکوپ دیکھتے ہیں۔ اورشاید گنیش کوآج بھی وہ دن یاد آتا ہو جب ایک سرکس والا اس کے والد کے سامنے پانچ لاکھ روپے رکھ کر کہہ رہا تھا، اسے ہمیں دے دو۔ اس کے والد نے اس دن انکار کیا تھا۔ آج دنیا گنیش کو دیکھ کرسوچتی ہے کہ اگروہ پانچ لاکھ قبول کرلیتے تو کیا ہوتا۔۔۔۔؟ شاید ایک بچہ سرکس کا تماشا بن جاتا۔ مگر ایک باپ نے اپنے بیٹے کو تماشا بننے سے بچا لیا۔ اور آج وہی بچہ لوگوں کی زندگی بچانے والا ڈاکٹر ہے ۔
ڈاکٹر گنیش کی کہانی حوصلہ، عزم،جہد مسلسل، خاندانی حمایت،ملکی سسٹم کیخلاف لڑی جانیوالی تاریخی لڑائی اورمشکلات پرقابو پانے کی بہترین مثال ہے،تاریخ حوصلے،عزم،صبر اور جہد مسلسل سے ہی لکھی جاتی ہے، آدمی کا مقام اس کے قد سے نہیں، اس کے کردار سے بنتا ہے ،میں نے ہزاروں لمبے قد والے ’’ بونے ‘‘ شخص دیکھے ہیں،سینکڑوں ’’ بونے ‘‘ دراز قد دیکھے ہیں،پاکستان کے حکمرانوں کو ہی دیکھ لیں،ڈاکٹرگنیش چھوٹے قد کے ساتھ بڑا آدمی بن گیا، مگرہمارے حکمران بڑے عہدوں پر پہنچ کر بھی اپنے قد کو اپنے عہدوں سے بڑا نہ کرسکے۔



