بلاگپاکستانتازہ ترینجرم-وسزاکالم

سانحہ پمز کا سبق

سپیڈبریکر،میاں حبیب

دیار غیر میں بیٹھے ہوئے بھی سانحہ پمز کے اندوہناک واقعہ نے ہلا کر رکھ دیا ہے جن کلیوں نے ابھی آنکھ بھی نہیں کھولی تھی وہ انسانی غفلت کی بھینٹ چڑھ گئیں قصور ان نومولود بچوں کا یہ تھا کہ وہ پاکستان میں پیدا ہوئے تھے جہاں لاپرواہی غفلت جہالت غیرذمہ داری روز کسی نہ کسی حادثہ کو جنم دیتی ہے۔

اگر یہ کسی مہذب معاشرہ میں پیدا ہوئے ہوتے تو ہر لمحہ ان کا خیال رکھا جاتا ان کی ایک ایک سانس کی مانیٹرنگ کی جاتی پمز میں آگ لگنے کا واقعہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے کتنے ہسپتالوں میں آکسیجن سلنڈر نہ ہونے کی وجہ سے بچے مرنے کی خبریں آتی رہی ہیں روز وینٹی لیٹر نہ ہونے سے کتنے مریض مار دیے جاتے ہیں کتنے مریضوں کو تین تین چار چار مہینوں کی تاریخیں دے کر سسکنے پر چھوڑ دیا جاتا ہے عام لوگوں کا علاج کس طرح ہو رہا ہے اس صورتحال کا کسی کو علم ہے آج کل لوگ سرکاری ہسپتالوں میں ٹیسٹ کروانے اور جلدی علاج کروانے کے لیے سفارشیں ڈھونڈتے ہیں۔

ہر ہسپتال میں روز کوئی نہ کوئی سنگین حادثہ رونما ہوتا ہے بدقسمتی یہ ہے کہ ہم ایک واقعہ کے بعد دوسرے واقعہ کے انتظار میں رہتے ہیں ہر روز کہیں نہ کہیں دل دہلا دینے والا واقعہ رونما ہوتا ہے ہم اس سے سبق سیکھنے کی بجائے بیان بازی کا سہارا لے کر لوگوں کو مطمئن کرنے کی کوشش کرتے ہیں ہمارے کرتا دھرتا ہر حادثے کے بعد انکوائری کمیٹیاں بنانے ذمہ داران کو عبرتناک سزا دینے، لواحقین کے غم میں برابر کے شریک ہونے زیادہ سے زیادہ مالی مدد کرنے اور واقعات کو مقدر سمجھ کر بھول جانے کا درس دیتے ہیں ۔

اگر ہم تاریخ پر نظر دوڑائیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ہم آج تک کسی سانحہ کے مجرموں کو کیفر کردار تک نہیں پہنچا سکے ذرا تصور کریں جو قوم اپنے بانی کی مشکوک موت کو بھول جائے اور یہ تک نہ پتہ کر سکے کہ حضرت قائداعظم کو لیجانے والی ایمبولینس راستے میں کیسے خراب ہو گئی یا اس کا پٹرول کیسے ختم ہو گیا متبادل انتظام یعنی دوسری گاڑی ساتھ کیوں نہیں تھی ۔

اس مجرمانہ غفلت کا کون ذمہ دار تھا ان سے آپ کیا توقع کر سکتے ہیں اس کے بعد فاطمہ جناح کی پراسرار موت،لیاقت علی خان کا قتل سب سے بڑھ کر پاکستان کے دولخت ہونے کا سانحہ،ضیاالحق کا طیارہ تباہ ہونے کا واقعہ،اوجڑی کیمپ کا واقعہ، اے پی ایس کا واقعہ،بےنظیر بھٹو کا قتل،کراچی میں فیکٹری کو آگ لگنے اور حال ہی میں گل پلازہ کا سانحہ ہم سب سانحات کو وقت گزرنے کے ساتھ بھول جاتے ہیں ہم ہر واقعہ پر مٹی ڈالنے کے قائل ہو چکے ہیں ۔

جو قوم ملک توڑنے والے مجرمان کا تعین نہ کر سکے اور اس کے کرداروں کو سزا نہ دے سکے ان کے نزدیک 14 بچوں کا قتل تو معمولی واقعہ ہے وہ اسے حادثہ ہی سمجھتے ہیں حالانکہ ایسے واقعات حادثات نہیں ہوتے مہذب ملکوں میں ایسے حادثات کیوں نہیں ہوتے اس لیے نہیں ہوتے کہ وہ ایس او پیز پر مکمل عمل کرتے ہیں وہاں غفلت لاپرواہی کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا وہاں سوفیصد حفاظتی اقدامات پر عمل کیا جاتا ہے۔

پاکستان میں روزانہ ہزاروں کی تعداد میں ٹریفک حادثات ہوتے ہیں جن میں درجنوں لوگ روز موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں سیکڑوں زخمی ہوتے ہیں اور وجہ صرف قانون پر عملداری نہ ہونا قواعد وضوابط کی خلاف ورزی لاپرواہی اور حفاظتی اقدامات کو پس پشت ڈالنا ہے اگر ہم نے ہر سانحہ کے ذمہ داروں کا تعین کیا ہوتا انھیں قرار واقعہ سزا دی ہوتی تو آج ہمیں پے درپے سانحات کا سامنا نہ کرنا پڑ رہا ہوتا ۔

وزیر داخلہ محسن نقوی نے درست کہا تھا کہ سسٹم بوسیدہ ہو چکا ہے جب ملک کو ڈنگ ٹپاو طریقوں سے چلایا جائے گا تو پھر اسی طرح کے حادثات ہوتے رہیں گے پاکستان میں انتظامی ڈھانچہ تباہ ہو چکا ہے ہر سرکاری ملازم وہ چاہے جہاں بھی بیٹھا ہے وہ صرف ماردھاڑ پر توجہ جمائے ہوئے ہے ہسپتال جو صرف اور صرف انسانی خدمت کے لیے ہیں وہاں کس قسم کی کرپشن نہیں ہو رہی جب تک وہاں کام کرنے والوں میں آپ خدمت کا جذبہ پیدا نہیں کریں گے کام نہیں چلے گا ۔

بدقسمتی سے پاکستان کے ہر فرد میں کرپشن کی میراتھن ریس جاری ہے اور سرکاری ملازم کام کو اپنی توہین سمجھتا ہے وزیراعظم صاحب نے پمز کے واقعہ پر بظاہر بڑا سخت ایکشن لیا ہے ایک سیکرٹری لیول کے بندے کو بھری میٹنگ میں معطل کر کے اٹھا دیا اور اب رپورٹ آنے پر ایگزیکٹو ڈائریکٹر سمیت 8افسران کو معطل کردیا ہے،معطلی دراصل کوئی سزا نہیں ہمارا بےحس سرکاری ملازم اسے ملازمت کا پارٹ تصور کرتا ہے البتہ وزیراعظم صاحب نے ان کے خلاف فوجداری قوانین کے تحت کارروائی کی بھی ہدایت کی ہے۔

اگر اس ہدایت پر عمل ہو گیا اور فوجداری مقدمات قائم کر کے ذمہ داران کو سزائیں دی گئیں تو پھر شاید ایسے سانحات پر قابو پایا جا سکے لیکن اگر معاملہ معطلی تک رہا تو جلد کسی دوسرے سانحہ کی خبر کے انتظار میں رہیں قومیں واقعات سے سبق سیکھتی ہیں وہ سانحات کے اسباب ڈھونڈ کر اپنی کمزوریوں کو سامنے لاتی ہیں پھر انھیں دور کرنے کے اقدامات کرتی ہیں اور حادثات سے بچنے کے لیے ہرممکن حفاظتی انتظامات کو یقینی بنایا جاتا ہے لیکن پاکستان کا باوا آدم ہی نرالا ہے کیا کہا جا سکتا ہے۔

 

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button