google-site-verification=lY9Q0ltSKw-SRzooqMn9sstbtAm06IiRncsiBe1xwnw
پاکستانتازہ ترینجرم-وسزا

شوہر حق مہر کے علاوہ معاہدے میں درج چیزیں بھی بیوی کو دینے کا پابند:لاہور ہائیکورٹ

حق مہربیوی کا قانونی حق ، شوہر کی مرضی یا احسان نہیں: جسٹس سیٹھی،5 مرلے کا گھر بیوی کو دینے کا ٹرائل کورٹ کا فیصلہ درست قرار

لاہور:(بیوروچیف)لاہور ہائیکورٹ نے شوہر کو نکاح نامے میں درج حق مہر کے علاوہ علیحدہ معاہدے میں درج چیزیں بھی بیوی کو دینے کا پابند قرار دے دیا۔

لاہور ہائیکورٹ نے علیحدہ معاہدے میں لکھا گیا 5 مرلے کا گھر بیوی کو دینے کا ٹرائل کورٹ کا فیصلہ درست قرار دیتے ہوئےشوہر کی ٹرائل کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دینے کی استدعا مسترد کردی، جسٹس ساجد محمود سیٹھی نے درخواست پر 11 صفحات پر مشتمل حکم نامہ جاری کیا۔حکمنامے کے تحت شوہر نے شادی کے روز الگ معاہدے میں 5 مرلہ گھر دینے کا وعدہ کیا تھا، حق مہربیوی کا قانونی حق ہے، شوہر کی مرضی یا احسان نہیں، حق مہرکو قانون میں بیوی پر شوہر کا قرض تصور کیا جاتا ہے۔

حکم نامے کے مطابق شادی کےدوران حق مہرکا مطالبہ نہ کرناخاتون کے حق سے دستبرداری نہیں سمجھا جاسکتا، معاشرتی اور گھریلو دباؤ کے باعث خواتین اکثر شادی کے دوران حق مہر طلب نہیں کرتیں۔عدالت نے مزید لکھا کہ حق مہر زبانی، تحریری یا بعد میں بھی طے کیا جاسکتا ہے، اسلامی قانون شوہر کو شادی کے بعد بھی حق مہر بڑھانے کی اجازت دیتا ہے، خاندان کے معاملات میں عدالتیں صرف تکنیکی نہیں بلکہ سماجی حقائق کو بھی مدنظر رکھتی ہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button