
لاہور:(شہزاد فراموش) حلقہ ارباب ذوق لاہور کے رواں سیشن کا سترہواں اجلاس آثر اجمل کی صدارت میں ہوا جس میں تین تخلیقات زیر بحث آئیں۔

آغاز میں جوائنٹ سیکرٹری شہزاد فراموش نے گزشتہ اجلاس کی کارروائی پڑھی،توثیق کے بعد فاطمہ مہرو نے اپنی نظم ”ایک فون کال کے انتظار میں“ تنقید کیلئے پیش کی۔ صاحب صدارت نے کہا کہ یہ نظم ایک منفرد تجربہ ہے،ظاہری انتشار میں بھی ربط ہے، شاعرہ نے دلیرانہ انداز میں شعری روایت کو توڑا ہے۔

عامر فراز نے مضمون ”بارش میں بھیگتی تتلیاں، محمد جواد ان کے ہمدم اور دوست“پیش کیا جس پر صاحب صدارت نے کہا کہ محمد جواد کی کتاب ”میرے ہمدم میرے دوست“ پڑھ کر مجھے شکسپیئر اور انور سجاد ایک جیسے لگنے لگے۔
عامر فراز کے اس مضمون نے کتاب کی روح کو قید کر لیا ہے۔آخر میں صادق جمیل نے اپنی غزل تنقید کیلئے پیش کی جس پر آثر اجمل نے صدارتی رائے دیتے ہوئے کہا کہ چراغ روشنی کا قدیم ذریعہ ہے،یہاں یہ روایت اور انقلاب کی علامت بن گیا ہے۔چراغ کے ان دو پہلوؤں کو سامنے رکھ کر بڑی مہارت سے کھیلا گیا ہے۔
انہوں نے غزل کو کامیاب قرار دیا۔آخر میں حلیم قریشی کے انتقال پر افسوس کا اظہار کیا گیا اور دعائے مغفرت کی گئی اور ڈاکٹر فخر عباس کیلئے بھی دعائے صحت کی گئی۔اختتام پر سیکرٹری آفتاب جاوید کی 55ویں سال گرہ کا کیک کاٹا گیا۔ اجلاس میں 73 افراد نے شرکت کی۔



