google-site-verification=lY9Q0ltSKw-SRzooqMn9sstbtAm06IiRncsiBe1xwnw
پاکستانتازہ ترینکالم

وطن عزیز کے مزاحمتی

حسنین جمیل

بالاآخر تحریک انصاف کے مزاحمتی گروپ کو سزائیں سنا دی گئی ہیں اور ریاست نے بالاآخر ثابت کر دیا ہے کہ وہ سوتیلی ماں کا کردار بخوبئ ادا کرنے کو تیار ہے چاہے وہ پنجاب کی صنف نازک ڈاکٹر یاسمین راشد ہو یا بلوچ ڈاکٹر ماہ رنگ ہو ریاست کے نزدیک حرف انکار کی سزا ہی ہے ۔

سابق گورنر عمر سرفراز چیمہ ، میاں محمود الریشد، اعجاز چودھری احمد خان بھچر سب کے سب متعوب ہی ٹھہرے سابق وزیر اعظم عمران کی ناحق قید کو 5 اگست کو دو سال پورے ہو جاہیں گے، 200 سے زائد مقدمات اس شان پاکستان پر بنائے گے جس نے 18 سال تک کرکٹ کے میدانوں میں سبز ہلالی پرچم لہرایا پھر کینسر کے خلاف اعلان جنگ کیا لاہور ،پشاور اور اب کراچی میں ہسپتال بنائے ۔

جب سیاست میں آیا تو بڑا آسان تھا پرویز مشرف کے ساتھ مل کر شامل اقتدار ہو جاتا جیسے ماضی میں بھٹو نے ایوب خان اور نواز شریف نے ضیاالحق کی آشیر باد میں اقتدار کے مزے لوٹے ، وہ الگ بات ہے کہ بھٹو صاحب بعد میں ضیا کی آمریت کے خلاف مزاحمت کا استعارہ بن گئے اور پھانسی چڑھ کر وطن عزیز کی سیاسی تاریخ کا ایک اساطیری کردار بن گئے جبکہ نواز شریف ہر بار پتلی گلی سے نکل گئے ۔

یہ سودے بازی تو عمران خان بھی کر سکتا تھا بلکہ اب بھی کر کے باآسانی جیل سے رہائی پا سکتے ہیں مگر وہ حسینی انکار کی راہ اپنا چکے ہیں جو یزیدی قوتوں کے خلاف حرف انکار کی جرات رکھتے ہیں ، حامد میر، نجم سیٹھی اور دوسرے سینئر صحافی برملا بتا چکے ہیں کہ عمران خان کو خاموش رہنے برطانیہ چلے جانے کی شرط پر تمام مقدمات ختم کرنے کی بار ہا پیشکش ہوئئ مگرکپتان اپنی ضد پر اڑا ہے اور پاکستان میں مزاحمتی تاریخ کے نئے باب لکھ رہا ہے ۔

یہی حال ڈاکٹر یاسمین راشد عمر سرفراز چیمہ، میاں محمود الرشید اعجاز چو دھری کا بھی ہے صرف ایک پریس کانفرنس میں عمران خان سے اظہار لاتعلقی ان کی جان بخش سکتا تھا مگر ان دلیروں نے اخبار کی دو کالمی خبر بنے سے زیادہ بہترسمجھا کیوں نہ تاریخ میں نام لکھوایا جائے ، اور اب مورخ لکھ رہا ہے کہ عمران خان، علی وزیر، ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ،ڈاکٹر یاسمین راشد، عمر سرفرازچیمہ، اعجاز چودھری ، محمود الرشید یہ سب کے سب تاریخ کی درست سمیت میں کھڑے تھے اور وہ راندہ درگاہ لوگ فارم 47 کی غیبی امداد کے تحت ایوان اقتدار میں گھس بیٹھیئے بن کر قابض ہو گئے یہ سب مورخ تاریخ کے قرطاس پر قلم بند کر چکا ہے۔

نوٹ:سی این این اردوڈاٹ کام کا لکھاری اور نیچے دیئے گئے کمنٹس سے متّفق ہونا ضروری نہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button