پاکستانتازہ ترین

تعریف سے زیادہ تنقید ہوتی ہے، پروا نہیں کرتی: مریم نواز

لاہور (بیورو چیف) وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے کہا ہے کہ انہیں تعریف کے مقابلے میں زیادہ تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے، تاہم وہ اس کی پروا کیے بغیر عوامی خدمت کا سفر جاری رکھتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ والد ان کے لیے مشعلِ راہ اور تجربات کا سمندر ہیں، جبکہ گھر میں ہی سیکھنے اور قابلِ تقلید مثالوں کی کمی نہیں۔

کامن ٹرینی پروگرام کے تحت حکومت سندھ کے وفد سے خطاب کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ ریاست نے ان پر اور دیگر ذمہ دار افراد پر سرمایہ کاری کی ہے، اس لیے ملک و قوم کو اس کا فائدہ واپس پہنچانا سب کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ فخر سے کہتی ہیں کہ وہ پاکستان میں پیدا ہوئیں، پاکستان میں تعلیم حاصل کی اور پاکستان ہی میں رہتی ہیں۔

وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ وزارتِ اعلیٰ آسان ذمہ داری نہیں بلکہ ہر روز نئے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہ عہدہ محض دفتر آنے، چائے پینے اور گھر واپس جانے کا نام نہیں، بلکہ ایک فیصلے سے لاکھوں لوگوں کی زندگیوں میں تبدیلی لائی جا سکتی ہے۔ ان کے مطابق وقت ایک قیمتی اثاثہ ہے، اس لیے وہ اجلاسوں میں تاخیر سے گریز کرتی ہیں اور روزانہ کے کاموں کے لیے وقت کی پابندی کو اہمیت دیتی ہیں۔

مریم نواز نے کہا کہ جس دن عوام کی بہتری کے لیے کوئی منصوبہ یا فیصلہ سامنے نہ آئے، انہیں محسوس ہوتا ہے کہ ایک اہم دن ضائع ہو گیا۔ ملک نے انہیں عزت، شناخت اور مواقع فراہم کیے ہیں، لہٰذا قومی ذمہ داریوں کو پوری دیانت داری سے نبھانا ضروری ہے۔

بروقت فیصلے، میرٹ اور پیشہ ورانہ صلاحیت اہم ہیں

وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ فیصلے کرتے وقت بعض اوقات خطرات مول لینے اور ہمت کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ ان کے بقول عوامی مفاد کے معاملات میں وہ واضح مؤقف اختیار کرتی ہیں اور مخالفت کرنے والوں کی تنقید سے متاثر ہوئے بغیر کام جاری رکھتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ انہیں حکومت کے مقابلے میں سیاسی جماعت کے اندر اپنی جگہ بنانے کے لیے زیادہ محنت کرنا پڑی۔ ان کے مطابق مسلم لیگ (ن) میں خواتین کی نمائندگی میں اضافہ ہوا ہے اور اب جماعت کے اسٹیج پر خواتین اور مردوں کی نمایاں شرکت دکھائی دیتی ہے۔

مریم نواز نے پیشہ ورانہ امور میں ذاتی پسند و ناپسند شامل نہ کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اہم عہدوں پر فیصلے کرتے وقت جذبات کے بجائے میرٹ، قابلیت اور پیشہ ورانہ معیار کو ترجیح دینی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ بروقت اور درست فیصلہ کرنا قیادت کی بنیادی ذمہ داری ہے اور سیکھنے کا عمل زندگی بھر جاری رہتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پنجاب میں ڈپٹی کمشنرز اور ضلعی پولیس افسران کی تعیناتی سفارش کے بجائے میرٹ پر کی جاتی ہے۔ وہ خود بھی افسران کے انٹرویوز میں شریک ہوتی ہیں تاکہ اہل اور مستحق افراد کو ذمہ داریاں سونپی جا سکیں۔

اپنی چھت، اپنا گھر اسکیم کے تحت ہاؤسنگ لون کی فراہمی

مریم نواز نے اپنی چھت، اپنا گھر ہاؤسنگ اسکیم کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ کم لاگت رہائش فراہم کرنا حکومت کی اہم ترجیحات میں شامل ہے۔ ان کے مطابق اس منصوبے کو مسقط میں اقوام متحدہ کے ادارے یو این ہیبی ٹیٹ کے تحت اسکول آف آنر ایوارڈ بھی ملا۔

وزیراعلیٰ پنجاب نے دعویٰ کیا کہ 18 ماہ میں 2 لاکھ سے زائد ہاؤسنگ لون فراہم کیے گئے جبکہ ایک لاکھ 25 ہزار گھر مکمل ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسکیم میں قرضوں کی ادائیگی کی شرح 99.9 فیصد ہے اور حکومت نے عوامی پیسے کے تحفظ کے لیے نگرانی اور جانچ پڑتال کا نظام بھی متعارف کرایا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اسکیم کی اقساط کو قابلِ برداشت بنانے کے لیے اقدامات کیے گئے اور قرضوں کی واپسی کے حوالے سے احتیاطی انتظامات بھی کیے گئے ہیں۔ انہوں نے عوام پر اعتماد کو حکومت اور شہریوں کے درمیان نئے سماجی معاہدے سے تعبیر کیا۔

عوام کو سہولتیں ان کی دہلیز پر فراہم کرنے کا عزم

وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ ضرورت مند افراد کو امداد کے لیے دفاتر اور قطاروں میں کھڑا ہونے پر مجبور نہ کیا جائے بلکہ حکومتی ادارے خود ان تک پہنچیں۔

انہوں نے بتایا کہ پنجاب میں کلینک آن ویلز، فیلڈ اسپتالوں اور دیگر طبی منصوبوں کے ذریعے صحت کی سہولتیں لوگوں کے قریب لانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق ضرورت کے تحت مریضوں کو ادویات اور علاج سے متعلق سہولتیں فراہم کرنے کے اقدامات بھی کیے گئے ہیں۔

مریم نواز نے کہا کہ دستک ایپ کے ذریعے شہریوں کو مختلف سرکاری خدمات گھر بیٹھے حاصل کرنے کی سہولت دی گئی ہے۔ ان کے مطابق 40 لاکھ سے زائد افراد پیدائش کے سرٹیفکیٹس سمیت مختلف خدمات حاصل کر چکے ہیں۔

انہوں نے خواتین کے تحفظ کے لیے موبائل پولیس اسٹیشنز اور دیگر حفاظتی اقدامات کا بھی ذکر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہراسانی اور سائبر بُلنگ جیسے معاملات میں متاثرہ افراد کی مدد اور شناخت کے تحفظ کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ عوام کو پولیس، صحت اور دیگر بنیادی خدمات کے حصول میں غیر ضروری مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

ٹرانسپورٹ، ماحولیات اور جرائم کی روک تھام کے اقدامات

مریم نواز نے کہا کہ پنجاب میں شہریوں کی سہولت کے لیے پبلک ٹرانسپورٹ کے منصوبوں پر کام جاری ہے۔ ان کے مطابق خواتین، طلبہ اور بزرگوں کو الیکٹرک بسوں میں مفت سفر کی سہولت فراہم کی جا رہی ہے جبکہ طالبات کے لیے الیکٹرک اسکوٹیاں فراہم کرنے کا منصوبہ بھی پیش کیا گیا ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (سی سی ڈی) کی کارروائیوں کے نتیجے میں پنجاب میں جرائم کی شرح میں نمایاں کمی آئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ خواتین اور بچوں کے خلاف جرائم میں ملوث ملزمان کے خلاف فوری کارروائی کو ترجیح دی جاتی ہے۔

ماحولیاتی اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ صنعتی چمنیوں اور اینٹوں کے بھٹوں کی نگرانی، جنگلات کے تحفظ اور فضائی آلودگی میں کمی کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کوششوں سے سموگ پر قابو پانے میں مدد ملی ہے۔

مریم نواز نے کہا کہ پنجاب پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے، اس لیے یہاں انتظامی ذمہ داریاں بھی زیادہ ہیں۔ ان کے مطابق ہر منصوبے کی نگرانی اور فالو اپ ضروری ہے تاکہ عوام کو حقیقی فائدہ پہنچایا جا سکے۔

غربت کے خاتمے کے لیے ٹھوس اقدامات پر زور

غربت کے خاتمے کے عالمی دن کے موقع پر اپنے پیغام میں وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ صوبے میں غربت کم کرنے کے لیے مستقل اور ٹھوس اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

ان کے مطابق محض نعروں کے بجائے معاشی پالیسیوں اور عوامی فلاح کے منصوبوں کے ذریعے کم آمدنی والے طبقات کو بااختیار بنانا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی توجہ ایسے اقدامات پر ہے جن سے مستحق افراد کو بہتر مواقع اور بنیادی سہولتیں میسر آ سکیں۔

سندھ کے افسران کی وزیراعلیٰ پنجاب سے ملاقات

دریں اثنا سندھ کے کامن ٹرینی پروگرام کے پروبیشنری افسران نے وزیراعلیٰ ہاؤس میں مریم نواز شریف سے ملاقات کی اور پنجاب میں جاری مختلف ترقیاتی و عوامی فلاحی منصوبوں کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔

وفد میں شامل خواتین افسران نے مریم نواز کو اپنے لیے رول ماڈل قرار دیا۔ پروبیشنری افسر دل رخ صحرا نے کہا کہ پاکستان کی خواتین کے لیے وزیراعلیٰ پنجاب کی قیادت قابلِ توجہ ہے، جبکہ عبدالغفار نے پنجاب میں عوامی سہولتوں اور انتظامی سرگرمیوں کو سراہا۔

زارا نے لاہور میں شجرکاری، سبزہ اور شہری ماحول کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ پنجاب کے تجربات سے سیکھ کر اپنے صوبے میں بھی قابلِ عمل اقدامات متعارف کرانے کی کوشش کریں گے۔ وفد کے ارکان نے پنجاب میں سہولت بازاروں اور مصنوعی ذہانت کے ذریعے سرکاری نظام کو مربوط بنانے سے متعلق اقدامات میں بھی دلچسپی ظاہر کی۔

ملاقات کے دوران سندھ کی پروبیشنری افسران فاطمہ شکیل اور ردا نے وزیراعلیٰ پنجاب کو روایتی سندھی شال پیش کی۔ وفد کو پنجاب کے مختلف ترقیاتی منصوبوں سے متعلق دستاویزی فلم بھی دکھائی گئی۔

مریم نواز نے کہا کہ ہر بیٹی کو اپنی صلاحیتوں پر اعتماد رکھنا چاہیے اور پیشہ ورانہ طور پر خود کو مضبوط بنانا چاہیے۔ ان کے مطابق عوامی خدمت میں ترجیحات کا تعین، بروقت فیصلے اور منصوبوں کی مسلسل نگرانی ہی بہتر حکمرانی کے بنیادی تقاضے ہیں۔

ادارتی نوٹ: ہاؤسنگ اسکیم، جرائم میں کمی، صحت و ٹرانسپورٹ کی سہولتوں اور ماحولیاتی بہتری سے متعلق اعدادوشمار وزیراعلیٰ کے بیان کے مطابق شامل کیے گئے ہیں۔ اشاعت سے قبل متعلقہ سرکاری محکموں سے ان کی تصدیق کر لینا مناسب ہوگا۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button