بلاگپاکستانتازہ ترینکالم

مزدور،محنت کش اورکان کنوں کا مسیحا،سلطان محمد خان

تحریر: محمد قیصر چوہان

پاکستان کی مزدور تحریکوں کی تاریخ صرف جلسے، جلوسوں، احتجاج اور نعروں کی تاریخ نہیں بلکہ ان لوگوں کی جدوجہد کی داستان بھی ہے جنہوں نے محنت کش طبقے کے بنیادی حقوق، روزگار کے تحفظ، بہتر اجرت اورکام کرنے کی جگہ محفوظ ماحول کے لیے اپنی زندگی کا ایک بڑا حصہ صرف کیا،جب اس جدوجہد میں بلوچستان کا ذکر آئے تو کوئٹہ میں مقیم لیبر لیڈر سلطان محمد خان کا نام نمایاں طور پر سامنے آتا ہے ۔

وہ آل پاکستان لیبر فیڈریشن کے مرکزی صدر اور پاکستان سینٹرل مائنز لیبر فیڈریشن کے مرکز ی سیکرٹری جنرل ہیں،ان کی جدوجہد کا سب سے نمایاں پہلو یہ ہے کہ انہوں نے مزدور کے مسئلے کو صرف اجرت تک محدود نہیں رکھابلکہ ان کی سرگرمیوں میں روزگار کا تحفظ، لیبر قوانین پر عمل درآمد، اجتماعی سودے بازی، پیشہ ورانہ صحت و سلامتی اور خصوصاً کان کنوں کی زندگیوں کا تحفظ بنیادی شامل ہے۔ سلطان محمد خان کی مزدور سیاست اور ٹریڈ یونین سرگرمیوں کا بنیادی محور یہ تصور ہے کہ محنت کش کو محض پیداوار کا ذریعہ نہیںبلکہ حقوق، عزت اور تحفظ رکھنے والا انسان سمجھا جائے۔

سلطان محمد خان کی ٹریڈ یونین سرگرمیوں کا ایک نمایاں پہلو یہ ہے کہ ان کی جدوجہد کسی ایک شعبے تک محدود دکھائی نہیں دیتی۔ ایک طرف وہ کان کنوں کے تحفظ اور پیشہ ورانہ صحت و سلامتی کے معاملات اٹھاتے ہیں تو دوسری طرف مختلف اداروں کے ملازمین کے روزگار، تنخواہوں اور جائز مطالبات کے لیے آواز بلند کرتے ہیں۔ان کی جدوجہد کو پاکستان کے مخصوص صنعتی اور سماجی حالات کے تناظر میں دیکھا جائے تو اس کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ مزدوروں کے مسائل کو اجتماعی آواز کے ذریعے حکومتی اور ادارہ جاتی سطح تک پہنچایا جائے ۔

ان کی سرگرمیوں میں احتجاج کے ساتھ مختلف ورکشاپس،آگاہی مہم، مذاکرات اور مزدور تنظیموں کی نمائندگی بھی شامل ہے۔ایک مو ثر مزدور تحریک صرف مطالبات پیش کرنے کا نام نہیں، اس کے لیے قانون سے آگاہی، تنظیم سازی، اجتماعی سودے بازی اور کارکنوں میں اپنے حقوق کا شعور بھی ضروری ہے،سلطان محمد خان کی سرگرمیوں میں ان پہلوو ¿ں پر بھی توجہ نظر آتی ہے۔سلطان محمد خان کی جدوجہد بنیادی طور پر اس سوال کے گرد گھومتی ہے کہ پاکستان کا محنت کش کس طرح بہتر اجرت، محفوظ کام کی جگہ، روزگار کے تحفظ اور باعزت زندگی حاصل کر سکتا ہے؟بلوچستان سمیت ملک پھر کے کان کنوں سے لے کر ملک کے مختلف شعبوں سے وابستہ مزدوروں تک، ان کی ٹریڈ یونین سرگرمیوں میں محنت کش طبقے کے مسائل کو نمایاں کرنے اور پھر انہیں حل کرانے کا سلسلہ جاری ہے۔

مزدور تحریک کی تاریخ میں ایسے رہنماو ¿ں کی اہمیت اس لیے ہوتی ہے کہ وہ ان لوگوں کی آواز کو منظم انداز میں سامنے لاتے ہیں جو اپنی روزمرہ محنت سے معیشت کا پہیہ چلاتے ہیں ،سلطان محمد خان کی جدوجہد بھی اسی وسیع تر مزدور حقوق کی تحریک کا حصہ ہے ایک ایسی جدوجہد جس کا بنیادی مقصد محنت کرنے والے انسان کے لیے روزگار، تحفظ ، عزت اور انصاف کا حصول ہے۔

سلطان محمد خان کی جدوجہد کا سب سے نمایاں میدان بلوچستان کی کوئلے کی کانوں میں کام کرنے والے کان کن ہیں۔ کان کنی ایسا شعبہ ہے جہاں معمولی حفاظتی غفلت بھی انسانی جان کے ضیاع کا سبب بن سکتی ہے۔ گیس کا اخراج، کان کا منہدم ہونا، ناقص حفاظتی انتظامات اور تربیت کی کمی جیسے مسائل کان کنوں کے لیے مستقل خطرہ رہتے ہیں۔

پاکستان سینٹرل مائنز لیبر فیڈریشن کے مرکزی سیکرٹری جنرل کی حیثیت سے سلطان محمد خان نے ہمیشہ کان کنوں کی مشکلات اور حفاظتی انتظامات کی کمی کو نمایاں کیا ہے۔ انہوں نے کان کنی کو انتہائی مشکل کام قرار دیتے ہوئے کان کنوں کے لیے پیشہ ورانہ صحت و سلامتی، مناسب تربیت اور بین الاقوامی معیار کے حفاظتی اقدامات پر زور دیتے ہوئے کان کنی سے متعلق عالمی ادارہ محنت کے کنونشن -C 176کی توثیق کا مطالبہ بھی کیا ہے۔سلطان محمد خان نے بلوچستان کے کان کنوں کے مسائل کو مقامی احتجاج سے نکال کر قومی اور بین الاقوامی سطح پر پیش کرنے کی عملی طور پر کوشش کی ہے۔

سلطان محمد خان کی جدوجہد کا ایک اور نمایاں پہلومحنت کش طبقے میں قانونی اور تنظیمی شعور پیدا کرنا ہے اس حوالے سے وہ انڈسٹری آل گلوبل یونین اور آئی ایل اوکے تعاون سے لیبر قوانین، اجتماعی سودے بازی اور پیشہ ورانہ صحت و سلامتی کے موضوع پر بلوچستان سمیت پاکستان کے مختلف شہروں میں ورکشاپس کااہتمام بھی کراتے ہیں،جس میں کان کنوں اور مختلف یونینوں کے نمائندے شریک ہوتے ہیں۔ورکشاپس میں کان کنوں کو حفاظتی آلات کے استعمال اور حفاظتی تدابیر کے بارے میں بھی تربیت دی جاتی ہے اورمزدو روں کو لیبر قوانین، اجتماعی سودے بازی اور پیشہ ورانہ صحت و سلامتی سے بھی آگاہ کیا جاتاہے۔

یہ سرگرمی اس بات کو واضح کرتی ہے کہ سلطان محمد خان کے نزدیک مزدور تحریک کا مقصد صرف احتجاج کرنا نہیںبلکہ مزدورکو اپنے قانونی حقوق اور حفاظتی ذمہ داریوں سے آگاہ کرنا بھی ہے۔ایک ٹریڈ یونین رہنما کا اصل امتحان اس وقت ہوتا ہے جب کسی ادارے کے ملازمین کو برطرفی، کم اجرت، غیر محفوظ ماحول یا انتظامیہ کے ساتھ تنازع کا سامنا ہو۔ سلطان محمد خان کے ٹریڈ یونین کردار میں احتجاج کے ساتھ ساتھ اجتماعی مذاکرات اور قانونی حقوق پر زور بھی نظر آتا ہے۔

سلطان محمد خان کی مزدور جدوجہد دراصل اس بنیادی سوال کے گرد گھومتی ہے کہ جو انسان اپنی محنت سے صنعت، کان، ادارے اور معیشت چلاتا ہے، اسے کام کی جگہ پر کتنی حفاظت، عزت، اجرت اور سماجی ضمانت حاصل ہونی چاہیے۔ان کے لیے کان کن کا مسئلہ صرف مزدوری نہیںبلکہ انسانی زندگی اور وقار کا مسئلہ ہے۔ اسی لیے ان کی سرگرمیوں میں لیبر قوانین، اجتماعی سودے بازی، حفاظتی تربیت، سماجی تحفظ اور بین الاقوامی مزدور معیارات بار بار سامنے آتے ہیں۔

سلطان محمد خان کی جدوجہد کا ایک اہم سبق یہ ہے کہ مزدور کے حقوق محض کاغذ پر موجود قوانین سے محفوظ نہیں ہوتے بلکہ ان کے لیے منظم آواز، اجتماعی نمائندگی، قانونی شعور اور مسلسل جدوجہد بھی ضروری ہوتی ہے۔ بلوچستان کی مائننگ سے لے کر قومی مزدور تنظیموں تک ان کا سفر اسی مسلسل جدوجہد کی ایک دستاویزی مثال ہے، بلاشبہ محنت کش طبقے، مزدوروں اور کان کنوں کے لیے سلطان محمد خان ایک مسیحا کی حیثیت رکھتے ہیں ۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button