گورنر راج یا ایمرجنسی، ضرورت پڑی تو سب ہوگا:وفاقی وزرا
سب کچھ نہ صرف ہوگا بلکہ نظر بھی آئے گا: اعظم نذیر تارڑ،پی ٹی آئی ٹی ٹی پی کی بی ٹیم :عطا تارڑ، کے پی کی سیاسی قیادت 14 سال سے فورسز کی پشت پر کھڑی نہیں ہوئی: طلال
اسلام آباد:(ویب ڈیسک)وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے آپشن کو آئینی قرار دے دیا۔وزیر قانون نے صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے خیبرپختونخوا میں گورنر راج سے متعلق سوالات کے جواب دیئے۔انہوں نے کہا کہ آئین پاکستان چیزوں کو بہت واضح کرتا ہے، اگر ایسے حالات ہوئے یا ہیں جہاں آئین اجازت دیتا ہے گورنر راج اور ایمرجنسی لگ سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ آئین کے اندر اس کا طریقہ کار موجود ہے اور جب ضرورت پڑے گی تو یہ سب کچھ نہ صرف ہوگا بلکہ نظر بھی آئے گا۔اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ آئین کے تقاضے پر خیبرپختونخوا میں گورنر راج لگ سکتا یا ایمرجنسی نافذ ہوسکتی ہے تاہم ضرورت پڑنے پر آئینی طریقہ کار اپنایا جائے گا۔
علاوہ ازیں وفاقی وزیر اطلاعات عطا اﷲ تارڑ نے کہا ہے کہ وزیرِ اعلیٰ خیبر پختون خوا سہیل آفریدی فیصلہ کریں کہ پاکستان کے ساتھ ہیں یا افغانستان کے؟ افغانستان سے ہونے والے دہشت گرد حملوں پر آپ کے منہ سے ایک لفظ نہیں نکلتا،آپ کو بلٹ پروف گاڑیاں دی جاتی ہیں، آپ وہ واپس کرتے ہیں، نیا پولیس ایکٹ جو آیا ہے اس میں پولیس کا اختیار لینے کی کوشش کی۔
وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چودھری کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے عطا اﷲ تارڑ نے کہا افغانستان سے ہونے والے دہشت گرد حملوں پر آپ کے منہ سے ایک لفظ نہیں نکلتا۔انہوں نے کہا کسی بھی صوبے کے حالات بدلنے کے لئے ساڑھے 12 سال کافی ہوتے ہیں، اے این پی، مسلم لیگ (ن،) جے یو آئی کی قیادت دہشت گردی کے خلاف جانوں کی قربانی دے چکی ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ صرف پی ٹی آئی کو دہشت گرد کچھ نہیں کہتے، ایسا کیوں ہے؟ پی ٹی آئی دہشت گردوں کی مالی معاونت میں ملوث ہے، یہ ٹی ٹی پی کی بی ٹیم ہے۔
عطا تارڑ نے کہا کہ کے پی میں نان کسٹم پیڈ گاڑیاں کیوں چل رہی ہیں؟ کے پی میں موٹر سائیکل پر بھی نمبر پلیٹ موجود نہیں، پی ٹی آئی خیبر پختون خوا میں نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کو جان بوجھ کر قانونی دائرے میں نہیں لا رہی، یہی نان کسٹم پیڈ گاڑیاں دہشت گرد کارروائیوں میں استعمال ہوتی ہیں۔
عطاء اﷲ تارڑ نے کہا خیبرپختونخوا دہشت گردی کی آگ میں جل رہا ہے جبکہ صوبائی قیادت ایک قیدی کو چھڑانے کے لئے اپنی توانائیاں صرف کررہی ہیں۔عطاء اﷲ تارڑ نے کہا کہ صوبائی حکومت کی نیت بھی خراب ہے اور طبیعت بھی۔وزیر اطلاعات نے کہا کہ سہیل آفریدی انتظامی طور پر ناکام ہونے کے بعد اب سیاسی طور پر بھی ناکام ہو چکے ہیں۔
اس موقع پر وزیر مملکت سینیٹر طلال چودھری نے بتایا کہ ڈی آئی خان چیک پوسٹ حملے میں سکیورٹی اہلکاروں سمیت معصوم سویلینز، خواتین، بچے اور غیر مسلح ریسکیو اہلکار شہید ہوئے، ہلاک دہشت گرد کا نادرا میں کوئی ریکارڈ نہیں ملا، تاہم اوپن سورس انٹیلی جنس کے ذریعے تصدیق ہوئی کہ اس کی تصویر کابل کے ایک چوک کی ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ پراکسیز مشرقی سرحد سے فنڈ اور مغربی سرحد کی محفوظ پناہ گاہوں سے آپریٹ ہو رہی ہیں۔
وزیر مملکت نے کہا کہ پاکستان نے دو طرفہ سطح، بین الاقوامی فورمز، ڈوزیئرز اور مذاکرات کے ذریعے بارہا کابل انتظامیہ کو سمجھایا لیکن افغان عبوری حکومت نے اپنی سرزمین کا پاکستان کے خلاف استعمال نہیں روکا، معصوم شہریوں اور ریسکیو اہلکاروں پر حملے ڈالروں کے عوض کی جانے والی کھلی دہشت گردی ہے۔انہوں نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے دورہ ڈی آئی خان پر سوال اٹھایا کہ اتنی طویل پریس کانفرنس میں وزیراعلی نے افغانستان کا نام لے کر مذمت کیوں نہیں کی؟ صوبائی قیادت دہشت گردوں کے خلاف آخر کیوں نرم گوشہ اپنائے ہوئے ہے؟ انہوں نے کہا کہ کے پی کی سیاسی قیادت 14 سال سے سکیورٹی فورسز کی پشت پر کھڑی نہیں ہوئی۔
صحافیوں کے سوالات کے جواب دیتے ہوئے طلال چودھری نے واضح کیا کہ اسلام آباد کے 325 راستوں میں سے کوئی بند نہیں کیا گیا، شہریوں کے جان و مال کے تحفظ اور عدالتی احکامات کے تحت کنٹینرز سمیت احتیاطی انتظامات رکھے گئے ہیں جنہیں ضرورت پڑنے پر استعمال کیا جائے گا۔



