انٹر نیشنلبلاگپاکستانتازہ ترینکالم

ترکیہ جہاں مہمان صرف مہمان نہیں رہتا(حصہ اول)

فیصل خان درانی

دنیا میں بہت سے ممالک ایسے ہیں جہاں سیاح خوب صورت عمارتیں، تاریخی مقامات، بلند و بالا پہاڑ، سمندر اور جدید شہر دیکھنے جاتے ہیں، لیکن کچھ سرزمینیں ایسی ہوتی ہیں جہاں انسان صرف مقامات نہیں دیکھتا بلکہ لوگوں کے دل بھی پڑھتا ہے۔ ترکیہ بھی ایسی ہی ایک سرزمین ہے۔ یہاں قدم رکھتے ہی تاریخ استقبال کرتی ہے، ثقافت مسکراتی ہے اور لوگ اپنے خلوص سے اجنبی کو بھی اپنائیت کا احساس دلاتے ہیں۔

ترک لوگوں کی مہمان نوازی کا ذکر ہو تو سب سے پہلے ایک مسکراہٹ یاد آتی ہے۔ ایک ایسی مسکراہٹ جس میں بناوٹ کم اور خلوص زیادہ ہوتا ہے۔ چاہے آپ کسی ہوٹل میں ٹھہرے ہوں بازار میں خریداری کر رہے ہوں کسی ریسٹورنٹ میں بیٹھے ہوں یا راستہ تلاش کر رہے ہوں اکثر کوئی نہ کوئی ترک شہری آپ کی مدد کے لیے آگے بڑھتا دکھائی دیتا ہے۔ زبان ایک رکاوٹ ضرور بن سکتی ہے مگر ترک لوگوں کا اندازِ گفتگو اشاروں سے سمجھانے کی کوشش اور مسکراہٹ اس رکاوٹ کو بہت حد تک ختم کر دیتی ہے۔

ترکیہ میں مہمان نوازی صرف سیاحت کی صنعت تک محدود نہیں ترک معاشرے میں مہمان کو عزت دینا ایک قدیم روایت ہے گھر میں آنے والے شخص کے سامنے چائے کا کپ رکھنا اس کی خیریت دریافت کرنا کھانے میں شریک کرنا اور اسے رخصت کرتے وقت دوبارہ آنے کی دعوت دینا اس ثقافت کا حصہ ہے۔ ترک چائے کا ایک چھوٹا سا گلاس بظاہر معمولی چیز ہے لیکن اس کے اندر صدیوں پرانی ایک تہذیبی روایت کی گرمی محسوس ہوتی ہے اور پھر استنبول ایسا شہر جسے دیکھتے ہوئے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے تاریخ نے یہاں اپنا مستقل گھر بنا لیا ہو باسفورس کے کنارے آباد یہ شہر یورپ اور ایشیا کے درمیان ایک پل ہی نہیں بلکہ تہذیبوں مذاہب اور سلطنتوں کے درمیان بھی ایک تاریخی رابطہ ہے۔

استنبول کی گلیوں میں چلتے ہوئے کبھی عثمانی دور کی یاد آتی ہے کبھی بازنطینی تاریخ سامنے آ کھڑی ہوتی ہے اور کبھی جدید ترکیہ اپنی پوری توانائی کے ساتھ دکھائی دیتا ہے۔ اسی تاریخی منظرنامے میں آیا صوفیہ مسجد اپنی پوری عظمت کے ساتھ صدیوں پر محیط تاریخ اپنے اندر سمیٹے استنبول کی شناخت کا ایک اہم نشان ہے۔ اس کا شاندار گنبد بلند و بالا محرابیں اور اندرونی فنِ تعمیر دیکھنے والے کو ایک لمحے کے لیے خاموش کر دیتے ہیں۔ آیا صوفیہ کے اندر داخل ہو کر محسوس ہوتا ہے کہ انسان کسی عمارت میں نہیں بلکہ تاریخ کے ایک زندہ باب میں داخل ہو گیا ہے۔

آیا صوفیہ کے بالکل قریب بلیو مسجد یعنی سلطان احمد مسجد واقع ہے۔ اس کے بلند و بالا مینار عظیم گنبد اور خوب صورت ازنک ٹائلیں عثمانی فنِ تعمیر کی عظمت بیان کرتی ہیں خاص طور پر جب شام کے وقت مسجد کے گنبدوں پر سورج کی آخری کرنیں پڑتی ہیں تو پورا منظر ایسا لگتا ہے جیسے استنبول نے اپنے سر پر روشنی کا تاج رکھ لیا ہو لیکن ان تاریخی عمارتوں سے بھی بڑھ کر جو چیز دل میں رہ جاتی ہے وہ یہاں کے لوگوں کا رویہ ہے۔ سیاح جب کسی ملک سے واپس آتا ہے تو وہ عموماً تصویریں تحائف اور یادگاریں ساتھ لاتا ہے مگر ترکیہ سے واپس آنے والا شخص ایک اور چیز بھی ساتھ لے کر آتا ہےوہ ہے ترک لوگوں کی محبت کی یاد۔

ترک معاشرے میں خاندان دوستوں اور مہمانوں کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھانے کی روایت آج بھی مضبوط ہے۔ کھانے کی میز محض کھانے کی جگہ نہیں بلکہ گفتگو تعلق اور محبت کا مرکز ہوتی ہے۔ ترک کھانوں کی وسعت بھی اسی اجتماعی مزاج کی عکاس ہے۔دسترخوان پر مختلف پکوان سجانا اور مہمان کو بار بار کھانے کی پیشکش کرنا اس بات کا اظہار ہے کہ میزبان چاہتا ہے کہ اس کا مہمان خوش اور آسودہ رہے۔

شاید یہی وجہ ہے کہ ترکیہ میں اجنبی پن زیادہ دیر قائم نہیں رہتا آپ کسی بازار میں دکاندار سے بات کریں کسی ٹیکسی ڈرائیور سے راستہ پوچھیں یا کسی کیفے میں بیٹھ کر چائے پئیں کہیں نہ کہیں انسانی تعلق کی ایک ڈور ضرور بن جاتی ہے کیونکہ قوموں کی پہچان صرف ان کی عمارتوں سڑکوں اور معیشت سے نہیں ہوتی اصل پہچان ان کے رویوں سے ہوتی ہے اور ترکیہ نے دنیا کو آیا صوفیہ اور بلیو مسجد جیسے تاریخی شاہکار ضرور دیے ہیں مگر اس کی ایک بڑی دولت وہ انسانی خلوص بھی ہے جو ایک مسافر کو بار بار اس سرزمین کی طرف کھینچتا ہے۔

استنبول سے رخصت ہوتے ہوئے شاید دل میں یہی خیال رہ جاتا ہے کہ ہم ایک شہر سے نہیں بلکہ ایک احساس سے جدا ہو رہے ہیں۔ باسفورس پیچھے رہ جاتا ہے آیا صوفیہ کے گنبد نظروں سے اوجھل ہو جاتے ہیں بلیو مسجد کے مینار دور ہوتے جاتے ہیں مگر ترک لوگوں کی محبت اور مہمان نوازی کی یاد دل میں دیر تک روشن رہتی ہے کیونکہ ترکیہ کی اصل خوب صورتی شاید یہی ہے کہ یہاں آنے والا شخص صرف مہمان بن کر آتا ہے مگر جاتے ہوئے کسی نہ کسی ترک خاندان, شہر یا دل و دماغ میں رچ بس جانے والی یادیں اپنے ساتھ لے جاتا ہے۔ جاری ہے

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button