انٹر نیشنلبلاگپاکستانتازہ ترینکالم

سندھ قوم پرستوں کا…

حسنین جمیل

"جناب! آج سندھ میں شفاف الیکشن ہوں تو ہم اور دوسری قوم پرست سیاسی جماعتیں پیپلز پارٹی کو ہرا سکتی ہیں۔” جب میں نے یہ جملہ سنا تو چونک پڑا۔ میرے سامنے سید زین شاہ براجمان تھے، جو سندھ یونائیٹڈ پارٹی کے صدر ہیں اور آج کل یورپ کے دورے پر ہیں۔ جب وہ لندن آئے تو لارڈ پاشا نے ان کے اعزاز میں ‘میٹ دی پریس’ کا اہتمام کیا۔

پاشا صاحب ہمہ گیر شخصیت ہیں، لندن کے سماجی و سیاسی حلقوں میں بہت ہر دل عزیز ہیں، بائیں بازو کی سیاسی سوچ کے حامل ہیں اور روشن خیال فکر کے داعی ہیں۔

زین شاہ کہتے ہیں کہ سندھ میں بیداری کی لہر اٹھ چکی ہے۔ آپ نے دیکھا کہ جب دریائے سندھ کا پانی نہروں کے ذریعے چوری کرنے کی کوشش کی گئی تو کیسا تاریخ ساز احتجاج دیکھنے میں آیا! اور سندھ کی تقسیم کا جو منصوبہ ہیئتِ متدرہ بنا رہی ہے، وہ کبھی کامیاب نہیں ہوگا۔ پی پی پی ہیئتِ متدرہ کی آلہ کار بن چکی ہے جو اپنے انجام کی طرف بڑھ رہی ہے۔ اگر پچھلے دو الیکشنز میں پی پی پی کے سر پر ہیئتِ متدرہ ہ کا ہاتھ نہ ہوتا تو زرداری کی پارٹی یہ الیکشن ہار چکی ہوتی۔ یہ بات وہ اچھی طرح سمجھتے ہیں، اسی لیے ہیئتِ متدرہ کی ہر شرط مان لیتے ہیں۔

سندھ کی تقسیم کے پیچھے بھی پی پی پی ہیئتِ متدرہ کی بغل بچہ بن چکی ہے۔ زین شاہ کے مطابق آج وطنِ عزیز کے حالات بہت خراب ہو چکے ہیں۔ کشمیر، بلوچستان، خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان اور سندھ میں شدید بے چینی ہے۔ کہیں بھی اصل سیاسی قیادت سے بات نہیں کی جا رہی، ہر جگہ فارم 47 کی حکومتیں ہیں۔ کے پی کے (KPK) میں اصل سیاسی حکومت ہے مگر ان کو دیوار کے ساتھ لگا دیا گیا ہے۔

عمران خان، ماہ رنگ بلوچ، علی وزیریہ سب ناحق قید ہیں۔ ہم ‘آئینِ تحفظِ پاکستان’ کے پلیٹ فارم سے پاکستان میں آزادیِ اظہار، قانون کی بحالی اور بنیادی انسانی حقوق کی جنگ لڑ رہے ہیں۔

زین شاہ کہتے ہیں کہ اس وقت پاکستان میں غیر اعلانیہ مارشل لا ہے۔ ہمیں مجبور کیا جا رہا ہے کہ ہم عالمی اداروں کو خط لکھیں کہ وفاق نے ہمارے بنیادی انسانی حقوق معطل کر رکھے ہیں۔

زین شاہ کی گفتگو فکر انگیز تھی۔ ہماری ہیئتِ متدرہ اور ان کے فارم 47 کے بغل بچے حکمران عوامی خواہشات کے برعکس فیصلے کر رہے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ مزید صوبے وقت کی ضرورت ہیں، مگر ان صوبوں کی اصل سیاسی قیادت سے مشاورت کر کے اور روڈ میپ بنا کر نئے صوبے بنائے جائیں۔ بات چیت ہی واحد حل ہوتا ہے۔

اگر آپ آمرانہ طرزِ عمل اختیار کریں گے تو سوائے سیاسی افراتفری اور عدم استحکام کے کچھ ہاتھ نہ آئے گا۔ لہٰذا مذاکرات کریں، عمران خان، ماہ رنگ بلوچ، علی وزیر اور دوسرے سیاسی اسیران کو رہا کریں تاکہ ملک میں سیاسی استحکام آئے اور پھر سب کی مشاورت سے نئے صوبے بنائے جائیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button