انٹر نیشنلپاکستانتازہ ترینجرم-وسزاسپورٹس

ایک بار پھرمیچ فکسنگ کی گونج۔۔۔۔

حسنین جمیل

ایک بار پھر پاکستان کرکٹ میچ فکسنگ کے حوالے سے چرچا میں ہے۔ اس وقت بین الاقوامی میڈیا لارڈز ٹیسٹ میچ میں پاکستان کی شکست کے بعد اس واقعے کو رپورٹ کر رہا ہے جب میچ کے بعد کھلاڑی ہوٹل واپس جانے لگے تو وہاں سیکورٹی آفیسر نے دو کھلاڑیوں امام الحق اور محمد رضوان کے موبائل فون قبضے میں لے لیے اور تین گھنٹے بعد سارا ڈیٹا ایک ہارڈ ڈسک میں منتقل کرنے کے بعد کھلاڑیوں کو فون واپس کر دیے۔

اس واقعے کا بہت چرچا ہو رہا ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ نے اس بات کا ابھی تک کوئی اعتراف نہیں کیا، تاہم ایک پریس ریلیز میں یہ کہا گیا ہے کہ ڈسپلن یا کسی اور معاملے کا بورڈ کا اپنا ضابطہ اخلاق ہے اور وہ اس کے مطابق کارروائی کرتا ہے۔ جب تک کسی حتمی نتیجے پر نہ پہنچ جائیں، تب تک کوئی بھی رسمی اعلامیہ جاری نہیں کیا جاتا۔

2010 کے بعد ایک بار پھر میچ فکسنگ کا شور و غوغا بلند ہوا ہے۔ تب محمد آصف، سلمان بٹ اور محمد عامر اس کی زد میں آئے تھے۔ آئی سی سی کا اینٹی کرپشن یونٹ بہت فعال ہے اور اس کا ایک آفیسر ہر وقت ہر کرکٹ سیریز کے دوران ٹیموں کے ساتھ موجود ہوتا ہے۔ ابھی تک یہ بات واضح نہیں ہو رہی کہ جس سیکورٹی آفیسر نے امام الحق اور محمد رضوان سے مبینہ طور پر موبائل فون لیے تھے، وہ پی سی بی کا اپنا آفیسر تھا یا آئی سی سی کا؟ اور اگر وہ پی سی بی کا سیکورٹی آفیسر تھا، تو کیا اس بات کو آئی سی سی کے نوٹس میں لایا گیا ہے یا نہیں؟

معاملہ جو بھی ہے، پاکستان کرکٹ کے لیے بہت برا ہو رہا ہے۔ ایک طرف مسلسل شکستیں ہو رہی ہیں اور دورانِ سیریز ہیڈ کوچ سرفراز احمد اور بولنگ کوچ عمر گل کو تبدیل کیا جا رہا ہے، تو دوسری طرف میچ فکسنگ کے الزامات نے ماحول کو مزید آلودہ کر دیا ہے۔

اب پاکستان کرکٹ بورڈ ایک عجیب دو راہے پر ہے۔ دورانِ میچ سابق کپتان عمران خان کی قید پر ان کے بیٹے اور سابق کھلاڑی بھی بات کر رہے ہیں۔ محسن نقوی، جو کرکٹ بورڈ کے چیئرمین ہونے کے ساتھ ساتھ وزیرِ داخلہ اور ہیئتِ مقتدرہ کے خاص آدمی بھی ہیں، ان پر چاروں طرف سے شدید دباؤ بڑھ چکا ہے۔

پاکستان اور انگلینڈ کا اگلا ٹیسٹ میچ بھی شروع ہونے والا ہے۔ ان حالات میں کپتان بابر اعظم اور پوری ٹیم شدید دباؤ کا شکار ہو گی اور ایسی صورتحال میں اچھی کارکردگی دکھانا کسی چیلنج سے کم نہیں ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button