تقسیم اسکوائر جہاں تاریخ حسن اور دنیا ایک جگہ ملتے ہیں(حصہ چہارم)
فیصل درانی

استنبول میں میری رہائش تقسیم اسکوائر پر ہے شہر کے اس حصے میں قیام کا سب سے خوب صورت پہلو یہ ہے کہ یہاں دن اور رات ماضی اور حال مشرق اور مغرب ایک دوسرے میں اس طرح گھل مل جاتے ہیں کہ انسان خود کو محض ایک شہر میں نہیں بلکہ صدیوں پر پھیلی ہوئی ایک زندہ داستان کے درمیان محسوس کرتا ہے۔
کل رات میں نے تقسیم اسکوائر سے اپنی سیر کا آغاز کیا۔ رات کا وقت تھا مگر تقسیم سویا نہیں تھا بلکہ یوں محسوس ہوتا تھا جیسے دن کی مصروفیت ختم ہونے کے بعد شہر نے اپنی دوسری زندگی شروع کر دی ہو۔ چہل پہل روشنیاں کیفے ریستوران موسیقی اور دنیا بھر سے آئے ہوئے سیاح سب مل کر ایک ایسا منظر پیش کر رہے تھے جس میں استنبول اپنی پوری دلکشی کے ساتھ سامنے آتا ہے۔ تقسیم اسکوائر صرف ایک چوراہا نہیں یہ جدید استنبول کی اجتماعی یادداشت کا ایک اہم حصہ ہے۔ یہاں کھڑے ہو کر جب اردگرد نظر دوڑائی جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ شہر کی تاریخ محض عجائب گھروں یا کتابوں میں محفوظ نہیں بلکہ گلیوں عمارتوں اور لوگوں کی روزمرہ زندگی میں سانس لے رہی ہے۔

تقسیم سے آگے استقلال اسٹریٹ کی طرف بڑھا تو منظر مزید دلکش ہو گیا۔ استقلال اسٹریٹ استنبول کی ان گلیوں میں شمار ہوتی ہے جہاں قدم قدم پر دنیا سے ملاقات ہوتی ہے۔ کوئی یورپ سے آیا ہوا سیاح تھا کوئی مشرق بعید سے کوئی عرب دنیا سے اور کوئی جنوبی ایشیا سے. زبانیں مختلف تھیں لباس مختلف تھے ثقافتیں مختلف تھیں مگر سب کے چہروں پر ایک جیسا تجسس تھا استنبول کو جاننے دیکھنے اور محسوس کرنے کا تجسس۔ میں نے مختلف ملکوں سے آئے ہوئے لوگوں سے گفتگو شروع کی۔

بات چیت کا موضوع کبھی استقلال اسٹریٹ کی خوبصورتی بنتا کبھی استنبول کی تاریخ اور کبھی اس شہر کی وہ کشش جس نے صدیوں سے مختلف تہذیبوں کے لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کیا ہے دلچسپ بات یہ تھی کہ ہر شخص استنبول کو اپنے انداز میں دیکھ رہا تھا کسی کے لیے یہ خوب صورت عمارتوں اور روشن گلیوں کا شہر تھا کسی کے لیے عثمانی تاریخ کا مرکز کسی کے لیے مشرق و مغرب کے ملاپ کی علامت اور کسی کے لیے صرف ایک ایسا شہر جہاں چند دن گزار کر انسان اپنی روزمرہ زندگی سے باہر نکل سکتا ہے۔
مگر گفتگو کے دوران ایک بات مشترک محسوس ہوئی استنبول صرف دیکھا نہیں جاتا اسے محسوس کیا جاتا ہے۔ تقسیم اسکوائر سے استقلال اسٹریٹ اور پھر گلاٹا ٹاور تک چلتے ہوئے مجھے یوں محسوس ہوا جیسے میں صرف استنبول کی سیر نہیں کر رہا بلکہ ایک ہی رات میں دنیا کے کئی ملکوں کا سفر کر رہا ہوں۔ ایک یورپی سیاح جیمسن سے بات ہوئی تو اس نے استقلال اسٹریٹ کی طرف دیکھتے ہوئے کہا کہ یہاں آ کر لگتا ہے کہ آپ ایک ساتھ کئی زمانوں میں رہ رہے ہیں ایک طرف جدید دنیا ہے اور دوسری طرف تاریخ آپ کے بالکل سامنے چل رہی ہے۔
ایک نوجوان سلیم جو مشرق وسطیٰ کے ایک ملک سے آیا تھا بولا میں نے استنبول کے بارے میں بہت کچھ سنا تھا لیکن یہاں آ کر اندازہ ہوا کہ تصویروں میں اس شہر کی اصل خوب صورتی دکھائی ہی نہیں جا سکتی۔ رات کی یہ روشنیاں اور لوگوں کی چہل پہل الگ ہی احساس دیتی ہے۔ ایک خاتون پاکستانی سیاح زینب نے گلاٹا ٹاور کی طرف دیکھتے ہویے مسکرا کر کہاکہ یہ شہر خوب صورت ہونے کے ساتھ پراسرار بھی ہےجتنا دیکھتی ہوں اتنا ہی محسوس ہوتا ہے کہ ابھی بہت کچھ دیکھنا باقی ہے۔

ایک نوجوان جو پہلی مرتبہ استنبول آیا تھا نے کہا کہ مجھے یہاں سب سے زیادہ یہ بات حیران کرتی ہے کہ رات گئے بھی سڑکیں زندہ ہیں لوگ گھوم رہے ہیں موسیقی سن رہے ہیں ایسا لگتا ہے شہر سو نہیں رہا۔ ان مختصر گفتگوؤں میں مجھے ایک دلچسپ بات محسوس ہوئی کہ مختلف ملکوں مختلف زبانوں اور مختلف ثقافتوں سے تعلق رکھنے والے ان لوگوں کے تجربات الگ الگ تھے مگر استنبول کے بارے میں ان کے جذبات حیرت انگیز طور پر ایک جیسے تھے۔
کسی نے شہر کی خوب صورتی کو سراہا کسی نے اس کی راتوں کو یادگار قرار دیا کسی نے تاریخی فضا کی تعریف کی اور کسی نے یہاں ملنے والے لوگوں کو اپنے سفر کی سب سے اچھی یاد قرار دیا۔ مجھے محسوس ہوا کہ سفر میں بعض اوقات سب سے قیمتی چیز وہ جگہ نہیں ہوتی جہاں آپ پہنچتے ہیں بلکہ وہ لوگ ہوتے ہیں جن سے راستے میں چند لمحوں کی ملاقات ہمیشہ ہمیشہ دل میں اتر جاتی ہے۔استقلال اسٹریٹ پر چلتے ہوئے ایسا لگتا ہے جیسے آپ کسی ایک زمانے میں نہیں بلکہ کئی زمانوں کے درمیان سفر کر رہے ہیں ایک طرف جدید دکانیں اور عالمی برانڈز ہیں دوسری طرف پرانی عمارتیں تاریخی گرجا گھر کیفے اور وہ گلیاں جو شہر کے ماضی کی کہانیاں سناتی محسوس ہوتی ہیں۔ تاریخی ٹرام اپنی مخصوص رفتار سے گزرے تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے جدید دور کے بیچ تاریخ اچانک حرکت میں آ گئی ہو۔
رات کی روشنیوں میں استقلال اسٹریٹ کی خوبصورتی اور بھی نمایاں ہو جاتی ہے۔ عمارتوں کے روشن اگواڑے لوگوں کی آوازیں سڑک پر چلتے قدم موسیقی اور کہیں کہیں کھانے کی خوشبو یہ سب مل کر ایک ایسی فضا پیدا کرتے ہیں جو یادداشت میں دیر تک زندہ رہتی ہے۔ استقلال سے آگے چلتے ہوئے میرا رخ گلاٹا ٹاور کی طرف تھا۔ گلاٹا ٹاور کے قریب پہنچ کر منظر کا مزاج بدل جاتا ہے۔ یہاں استنبول کی تاریخ اور بھی نمایاں محسوس ہوتی ہے۔ صدیوں پرانا یہ ٹاور شہر کے ماضی کا خاموش گواہ ہے اس کے گرد کھڑے ہو کر انسان سوچتا ہے کہ کتنی نسلیں اس شہر سے گزری ہوں گی کتنے حکمران آئے اور چلے گئے کتنے مسافر یہاں پہنچے ہوں گے اور کتنے لوگوں نے اسی شہر کے منظر کو اپنی آنکھوں میں محفوظ کیا ہوگا۔

گلاٹا ٹاور صرف ایک تاریخی عمارت نہیں بلکہ استنبول کی شناخت کا ایک نمایاں استعارہ بن چکا ہے۔ اس کے آس پاس رات گئے تک موجود سیاح اس بات کا ثبوت تھے کہ تاریخ آج بھی انسان کو اپنی طرف کھینچتی ہے بشرطیکہ تاریخ کو زندہ انداز میں پیش کیا جائے۔ گلاٹا کے قریب ایک بار پھر مختلف ملکوں کے لوگوں سے ملاقات ہوئی۔ گفتگو میں کبھی ترکی کا ذکر آیا کبھی پاکستان اور ہندوستان کا کبھی یورپ کے شہروں کا اور کبھی ان تاریخی راستوں کا جنہوں نے دنیا کی مختلف تہذیبوں کو ایک دوسرے کے قریب کیا۔ میں نے محسوس کیا کہ سفر کی اصل خوبصورتی شاید یہی ہے کہ انسان کسی دوسرے ملک میں جا کر صرف عمارتیں نہیں دیکھتا بلکہ انسانوں سے ملتا ہے۔ ایک اجنبی شخص سے چند منٹ کی گفتگو بھی کبھی کبھی پوری کتاب سے زیادہ کچھ سکھا دیتی ہے۔
استنبول اس لحاظ سے ایک غیر معمولی شہر ہے۔ یہاں آنے والا شخص اگر صرف تاریخی عمارتیں دیکھ کر واپس چلا جائے تو شاید اس نے شہر کا ایک حصہ دیکھا۔ اصل استنبول تو اس وقت سامنے آتا ہے جب آپ اس کی گلیوں میں چلتے ہیں کسی چھوٹے سے کیفے کے باہر بیٹھے لوگوں کو دیکھتے ہیں مقامی لوگوں کی گفتگو سنتے ہیں اور دنیا کے مختلف حصوں سے آئے مسافروں کے ساتھ چند لمحے بانٹتے ہیں۔ تقسیم استقلال اور گلاٹا کے درمیان چلتے ہوئے مجھے بار بار یہ احساس ہوا کہ استنبول دراصل ایک شہر سے زیادہ ایک ملاقات ہے تہذیبوں کی ملاقات تاریخ کی ملاقات مشرق اور مغرب کی ملاقات اور سب سے بڑھ کر انسانوں کی انسانوں سے ملاقات۔
رات گہری ہوتی گئی پھر آہستہ آہستہ اندھیرے چھٹنے لگے مگر شہر کی رونق کم نہیں ہوئی واپسی پر جب دوبارہ تقسیم اسکوائر پہنچا تو دل میں ایک عجیب سا اطمینان تھا۔ چند گھنٹے قبل میں صرف سیر کے لیے نکلا تھا لیکن واپس آتے ہوئے میرے ساتھ کئی اجنبی چہروں کی مسکراہٹیں مختلف زبانوں میں کہی گئی باتیں اور استنبول کے بارے میں کئی نئی کہانیاں تھیں۔ شاید کسی شہر کو جاننے کا بہترین طریقہ یہی ہے کہ اس کی سڑکوں پر بے مقصد چلتے ہوئے لوگوں سے بات کی جائے اور شاید استنبول اس کام کے لیے دنیا کے بہترین شہروں میں سے ایک ہے کیونکہ یہاں ہر گلی کے پاس ایک تاریخ ہے ہر عمارت کے پاس ایک قصہ ہر موڑ پر ایک نیا منظر اور ہر مسافر کے پاس استنبول کو دیکھنے کی اپنی ایک الگ کہانی۔ تقسیم اسکوائر سے شروع ہونے والی میری وہ رات بھی اب میرے لیے محض ایک سیاحتی سیر نہیں رہی وہ ایک ایسی یاد بن چکی ہے جس میں استنبول کی روشنیاں استقلال اسٹریٹ کی رونق گلاٹا ٹاور کی تاریخ اور دنیا کے مختلف ملکوں سے آئے لوگوں کی گفتگو سب ایک ساتھ محفوظ ہیں۔
استنبول شاید اسی لیے خوب صورت ہے کہ یہ کسی ایک قوم ایک زبان یا ایک تہذیب کا شہر نہیں یہ ان سب کا شہر ہے اور رات کے وقت تقسیم سے گلاٹا تک چلتے ہوئے یہ حقیقت سب سے زیادہ خوب صورت انداز میں محسوس ہوتی ہے۔



