
لاہور پریس کلب میں وہ پریس کانفرنس نہیں تھی،وہ کراچی سے لاہور تک ایک ماں کے آنسوؤں کا سفر تھا،سامنے عائزل کی ماں بیٹھی تھی۔ چہرہ اترا ہوا، آنکھیں سوجی ہوئی، ہاتھ بے قرار اور لب جیسے کسی بہت بڑے دکھ کا بوجھ اٹھاتے اٹھاتے تھک چکے ہوں۔
وہ کراچی سے لاہور آئی تھی… اپنی ڈیڑھ سالہ عائزل کو واپس لینے نہیں، اس کے لیے انصاف مانگنے۔

اس کی بچی اس دنیا سے جا چکی ہے۔
وہ واپس نہیں آئے گی۔
ماں جتنی مرضی دعائیں کر لے، جتنی مرضی دہائیاں دے دے، اپنی بچی کو دوبارہ گود میں نہیں اٹھا سکتی۔
مگر شاید اسی لیے وہ لاہور تک آئی۔
اس امید کے ساتھ کہ اس کی عائزل تو واپس نہیں آئے گی، مگر کسی اور کی عائزل درندوں کی ہوس کا شکار نہ بنے۔
وہ بات شروع کرتی تو آواز لرز جاتی۔ ایک جملہ مکمل ہوتا، آنکھوں سے آنسو نکل آتے۔ وہ انہیں پونچھتی، خود کو سنبھالتی، پھر بولنے کی کوشش کرتی۔
مگر ماں کا دکھ کہاں لفظوں کا محتاج ہوتا ہے۔۔؟
اس کی آنکھیں سب کچھ کہہ رہی تھیں۔
کبھی وہ چند لمحوں کے لیے خاموش ہو جاتی، سامنے دیکھتی رہتی۔ یوں لگتا تھا جیسے آنکھوں کے سامنے اپنی بچی کا چہرہ ہو۔
وہ شاید دل ہی دل میں اسے پکار رہی تھی۔
وہ بچی جس کے رونے پر کبھی ماں فوراً اس کے پاس پہنچتی ہوگی۔ جس کی معمولی سی تکلیف بھی اس کے لیے قیامت بن جاتی ہوگی۔
آج وہی ماں اپنی ڈیڑھ سالہ عائزل کے لیے کچھ نہیں کر سکتی۔
نہ اسے گود میں اٹھا سکتی ہے، نہ اس کے آنسو پونچھ سکتی ہے، نہ اس کے ننھے ہاتھ تھام کر کہہ سکتی ہے:
”امی تمہارے پاس ہے۔“
یہی تو ماں کی سب سے بڑی بے بسی ہے۔
بچہ بول نہ سکے تو ماں اس کی خاموشی سمجھ لیتی ہے۔ اس کے رونے سے جان لیتی ہے کہ کہیں درد ہے۔

لیکن جب بچہ ہی دنیا سے چلا جائے تو ماں اپنے سوال کس سے پوچھے۔۔؟
عائزل کی ماں آج اپنے لیے نہیں لڑ رہی۔
وہ شاید یہ کہنے آئی تھی:
”میری عائزل تو چلی گئی… اسے واپس نہیں لایا جا سکتا۔ لیکن خدا کے لیے ایسا نظام بنا دو کہ کسی اور ماں کی عائزل کسی درندے کی ہوس کا شکار نہ ہو۔“
یہ صرف ایک ماں کی فریاد نہیں۔
یہ پاکستان کی ہر ماں کی فریاد ہے۔
اب صرف مذمت، بیانات اور سوشل میڈیا کا شور کافی نہیں۔
ریاست کو ایسا مضبوط نظام بنانا ہوگا جہاں ایسے جرائم کی تفتیش میں کوئی کمزوری نہ ہو، مقدمات غیر ضروری طور پر نہ گھسیٹیں اور قانون کی پیچیدگیاں کسی مجرم کے لیے ڈھال نہ بن سکیں۔
جو درندے معصوم بچوں کو ہوس کا نشانہ بناتے ہیں، ان کے خلاف قانون کی پوری طاقت استعمال ہونی چاہیے۔
کیونکہ بچوں کی حفاظت کسی ایک گھر کی ذمہ داری نہیں، پورے معاشرے اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔
عائزل کی ماں صرف انصاف مانگنے آئی تھی۔
اس کی عائزل تو واپس نہیں آئے گی، مگر ریاست چاہے تو کسی اور ماں کی عائزل کو بچا سکتی ہے۔

اب وقت مذمت کا نہیں، فیصلہ کن اقدام کا ہے۔
ایسے درندوں کے خلاف قانون کی گرفت اتنی مضبوط ہونی چاہیے کہ کسی ماں کی گود اجڑنے سے پہلے ہی ان کے قدم روک دیے جائیں۔
عائزل چلی گئی… مگر اس کی ماں کے آنسو ہمیں جھنجھوڑ کر کہہ رہے ہیں:
میری گود اجڑ گئی… درندوں سے کسی کی گود بچا لو!



