ڈرونز کیخلاف چین ،ترکیہ کی مددسے تیار پاکستانی فضائیہ کا نیا دفاعی سسٹم کیا ہے؟

راولپنڈی:(ویب ڈیسک)ڈرونز اور لوئٹرنگ میونیشنز کے بڑھتے ہوئے استعمال نے دنیا بھر کی افواج کے لیے فضائی دفاع کو مزید چیلنجنگ بنا دیا ہے اور یہ سوال اہم ہو چکا ہے کہ آخر کم قیمت اور چھوٹے ڈرونز کے بڑے پیمانے پر حملوں کو کیسے روکا جائے؟
بظاہر اسی چیلنج کے جواب میں پاکستان ایئر فورس (پی اے ایف) نے اپنے مختصر فاصلے کے فضائی دفاع (SHORAD) کو مضبوط کرنے کے لیے چینی اور ترک ساختہ نظاموں پر مشتمل ایک تہہ در تہہ دفاعی ڈھانچہ متعارف کرایا ہے، جس میں میزائل، خودکار توپ اور کاؤنٹر ڈرون ٹیکنالوجی کو یکجا کیا گیا ہے۔
پی اے ایف کی جانب سے سات ستمبر کو جاری کی گئی ویڈیو میں تین مختلف فضائی دفاعی سسٹم دکھائی دیتے ہیں: چین میں تیار کردہ ایچ کیو-17 اے ای مختصر فاصلے کا سطح سے فضا میں مار کرنے والا میزائل سسٹم ، ترکی کا ایسیلسان کورکُٹ 35 ملی میٹر خودکار فضائی دفاعی توپ سسٹم اور ایسیلسان ساہن 40 ملی میٹر کاؤنٹر ڈرون سسٹم۔
یہ سسٹم مل کر ایک مربوط دفاعی حصار تشکیل دیتے ہیں، جس کا مقصد اہم فوجی تنصیبات کو ڈرونز، لوئٹرنگ میونیشنز، ہیلی کاپٹرز، کروز میزائلز اور کم بلندی پر پرواز کرنے والے طیاروں سمیت مختلف فضائی خطرات سے تحفظ فراہم کرنا ہے۔

یہ سسٹم کیسے کام کرتا ہے؟
تین تہوں والے مختصر فاصلے کے فضائی دفاع کا بنیادی تصور یہ ہے کہ آنے والے خطرے سے نمٹنے کے لیے ایک ہی ہتھیار پر انحصار کرنے کے بجائے مختلف فاصلے پر مختلف دفاعی سسٹم استعمال کیے جائیں۔ اس طرح کسی فضائی ہدف کو اپنے مطلوبہ ہدف تک پہنچنے سے پہلے تلاش کرنے، اس کا سراغ لگانے اور اسے تباہ کرنے کے متعدد مواقع حاصل ہوتے ہیں۔
دفاعی تجزیہ کار فاروق چوہدری کے مطابق اوپن سورس معلومات کی بنیاد پر دستیاب شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ پی اے ایف نے ڈرونز اور دیگر کم بلندی پر پرواز کرنے والے فضائی خطرات سے نمٹنے کے لیے توپوں پر مبنی دفاع کی متعدد تہوں کو چینی ساختہ ایچ کیو-17 اے ای میزائل نظام کے ساتھ جوڑنے کی حکمتِ عملی اختیار کی ہے۔
ان کے مطابق ڈرونز کے خلاف استعمال ہونے والے اس دفاعی ڈھانچے میں توپوں پر مبنی دفاع کی تین مختلف تہیں شامل ہیں۔
ساہن 40 ملی میٹر مختصر فاصلے پر، تقریباً 700 میٹر تک، چھوٹے ڈرونز کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے
کورکُٹ 35 ملی میٹر کی مؤثر رینج تقریباً چار کلومیٹر تک ہے
76 ملی میٹر ایل ڈی-76 تقریباً 10 کلومیٹر تک کی رینج کے ساتھ اس توپوں پر مبنی دفاع کی ایک مزید بیرونی تہہ فراہم کر سکتا ہے۔
تاہم فاروق کے مطابق پی اے ایف کی جانب سے جاری کردہ مذکورہ ویڈیو میں ایل ڈی-76 باضابطہ طور پر نہیں دکھایا گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ تاہم چند ہفتے قبل پی اے ایف کی ایک سرکاری شیلڈ کی تصویر سامنے آئی تھی جس پر ایل ڈی-76 کے ساتھ پاکستان اور چین کے پرچم دکھائی دے رہے تھے، جس کی بنیاد پر وہ سمجھتے ہیں کہ شاید مستقبل میں اس سسٹم کا آرڈر دیا جا سکتا ہے۔

ان کے مطابق ان توپوں پر مبنی نظاموں کو چینی ساختہ ایچ کیو-17 اے ای میزائل پر مبنی مختصر فاصلے کے فضائی دفاعی نظام کی مدد حاصل ہے، جو ڈرونز کے خلاف تقریباً 15 کلومیٹر تک مؤثر ہے اور مختلف ایسے فضائی ہتھیاروں کے خلاف بھی استعمال کیا جا سکتا ہے جنھیں توپوں کے ذریعے روکنا ممکن نہیں ہوتا۔
پہلی دفاعی تہہ: چینی ساختہ ایچ کیو-17 اے ای
بیرونی دفاعی تہہ ایچ کیو-17 اے ای فراہم کرتا ہے، جو چین میں تیار کیا گیا ایک متحرک سطح سے فضا میں مار کرنے والا مختصر فاصلے کا میزائل سسٹم ہے۔
اسے طیاروں، ہیلی کاپٹروں، ڈرونز، کروز میزائلز اور دیگر فضائی اہداف کے خلاف استعمال کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ اس کی موبائل نوعیت اسے مختلف مقامات پر تعینات کرنے کی سہولت دیتی ہے۔
اس دفاعی ڈھانچے میں ایچ کیو-17 اے ای نسبتاً زیادہ فاصلے پر آنے والے فضائی خطرات کو نشانہ بنا کر محفوظ فوجی تنصیبات کے لیے دفاع کی پہلی لائن کے طور پر کام کرتا ہے۔
دوسری دفاعی تہہ کورکُٹ 35 ملی میٹر خودکار فضائی دفاعی توپ کے نظام پر مشتمل ہے، جسے ترکی کی دفاعی کمپنی ایسیلسان نے تیار کیا ہے۔

ٹریک شدہ پلیٹ فارم پر نصب اس نظام میں دو 35 ملی میٹر خودکار توپیں شامل ہیں۔
کورکُٹ قابلِ پروگرام فضائی دھماکا خیز گولہ بارود استعمال کرتا ہے، جو فضا میں پھٹ کر ٹکڑوں کا ایک ایسا بادل پیدا کرتا ہے جو ڈرونز، فضا میں منڈلا کر حملہ کرنے والے ہتھیاروں اور دیگر کم بلندی پر پرواز کرنے والے اہداف کو نشانہ بنا سکتا ہے۔
یہ نظام خاص طور پر بڑے پیمانے پر ہونے والے ڈرون حملوں کے خلاف مؤثر سمجھا جاتا ہے اور نسبتاً کم قیمت والے فضائی خطرات کے خلاف مہنگے میزائل استعمال کرنے کے مقابلے میں زیادہ کم خرچ متبادل فراہم کرتا ہے۔
سب سے اندرونی دفاعی تہہ ساہن 40 ملی میٹر کاؤنٹر ڈرون نظام پر مشتمل ہے۔اسے خصوصی طور پر چھوٹے اور انتہائی چھوٹے بغیر پائلٹ فضائی طیاروں کے خلاف کارروائی کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
ساہن سسٹم ریڈار، الیکٹرو آپٹیکل سینسرز اور خودکار فائر کنٹرول نظام سے لیس ہے اور ہدف کے قریب پہنچ کر فضا میں دھماکا کرنے والے 40 ملی میٹر ایئر برسٹ گرینیڈز استعمال کرتا ہے۔
اہم تنصیبات کے گرد آخری دفاعی حصار کے طور پر کام کرتے ہوئے یہ نظام ان چھوٹے فضائی خطرات کو ختم کرنے کے لیے بنایا گیا ہے جو دفاع کی پہلی دو تہوں سے بچ نکلیں۔
پی اے ایف کی بدلتی حکمتِ عملی
دفاعی تجزیہ کار فاروق چوہدری کے مطابق 2025 تک پی اے ایف کی توجہ روایتی طور پر فضائی دفاع کے لیے اپنے لڑاکا طیاروں اور فضائی صلاحیتوں پر رہی ہے۔
ان کے مطابق ڈرونز اور دیگر فضائی ہتھیاروں سے لاحق خطرے کے باعث اب پی اے ایف کو اپنی حکمتِ عملی میں تبدیلی لانا پڑی ہے اور وہ زمینی فضائی دفاع میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کر رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پی اے ایف کی جانب سے حال ہی میں دکھائے گئے تین مختصر فاصلے کے فضائی دفاعی (SHORAD) نظام اسی وسیع تر حکمتِ عملی کا حصہ ہیں، جس کے تحت پی اے ایف ڈرونز کے خلاف استعمال کے لیے مختصر فاصلے کے فضائی دفاعی نظام شامل کرنے کو ترجیح دے رہی ہے۔
فاروق چوہدری کے مطابق یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ پی اے ایف نے مئی 2025 کے بعد ایک سال کے اندر یہ نظام اپنے دفاعی ڈھانچے میں شامل کیے، جو ان کی خریداری اور تعیناتی کی رفتار کو ظاہر کرتا ہے۔
ڈرونز کے خلاف تہہ در تہہ دفاعی نظام
دفاعی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ بظاہر یہ کثیر تہوں پر مشتمل دفاعی ڈھانچہ حالیہ تنازعات (انڈیا پاکستان، پاکستان افغانستان) سے حاصل ہونے والے اسباق کی عکاسی کرتا ہے، جہاں ڈرونز اور لوئٹرنگ میونیشنز کے بڑھتے ہوئے استعمال نے روایتی فضائی دفاعی نظاموں کی خامیوں کو نمایاں کیا اور ان کے لیے نئے چیلنجز پیدا کیے ہیں۔
اور اسی لیے دنیا بھر کی افواج ایسے تہہ در تہہ فضائی دفاعی نظام اپنانے کی جانب بڑھ رہی ہیں جو مختلف نوعیت کے فضائی خطرات کا مؤثر مقابلہ کرنے کے ساتھ ساتھ لاگت اور کارکردگی کے درمیان بہتر توازن بھی برقرار رکھ سکیں۔
ہر آنے والے ڈرون یا فضائی خطرے کے خلاف مہنگے میزائل استعمال کرنے کے بجائے، کثیر تہوں والے دفاعی نظام میزائل، فضائی دفاعی توپوں اور کاؤنٹر ڈرون سسٹمز کو یکجا کرتے ہیں۔
اس حکمتِ عملی میں کسی خطرے کی نوعیت، فاصلے اور سائز کے مطابق میزائل، خودکار توپ یا کاؤنٹر ڈرون نظام کا انتخاب کیا جا سکتا ہے، جس سے دفاعی وسائل کے زیادہ مؤثر استعمال میں مدد ملتی ہے۔
چینی میزائل اور ترک توپیں
فاروق چوہدری کے مطابق پی اے ایف ترک ساختہ توپوں کی ٹیکنالوجی کو چینی میزائل نظام کے ساتھ ملا کر ایک مربوط بیس ڈیفنس فراہم کرنا چاہتی ہے، جسے وہ سی آئی ڈبلیو ایس (Close-In Weapon System) کہتی ہے۔
ان کے مطابق اس طریقۂ کار کے ذریعے پی اے ایف ڈرونز سے لے کر کم بلندی پر پرواز کرنے والے کروز میزائلز اور توسیع شدہ رینج والے بموں تک مختلف فضائی ہتھیاروں کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت حاصل کرنا چاہتی ہے۔
یہ تعاون پاکستان کے چین اور ترکی کے ساتھ بڑھتے ہوئے دفاعی تعلقات کو بھی ظاہر کرتا ہے، جہاں مختلف ذرائع سے حاصل کی گئی ٹیکنالوجی کو ایک مشترکہ دفاعی ضرورت کے لیے یکجا کیا جا رہا ہے۔
کیا یہ ہر فضائی خطرے کے خلاف کافی ہے؟
یہ نظام بنیادی طور پر مختصر فاصلے اور کم بلندی پر آنے والے فضائی خطرات سے نمٹنے کے لیے بنائے گئے ہیں، اس لیے انھیں پاکستان کے لیے مکمل فضائی دفاع کا متبادل نہیں سمجھا جا سکتا۔
فاروق چوہدری کے مطابق یہ نظام براہموس جیسے تیز رفتار کروز میزائل کے خلاف تحفظ فراہم نہیں کرتے اور ایسے خطرات سے نمٹنے کے لیے پی اے ایف کو ممکنہ طور پر کسی دوسری دفاعی صلاحیت پر انحصار کرنا ہوگا۔
نئے SHORAD سسٹم پی اے ایف کے وسیع تر فضائی دفاعی ڈھانچے کا ایک حصہ ہیں، جس میں مختلف فاصلے اور مختلف نوعیت کے فضائی خطرات سے نمٹنے کے لیے الگ الگ صلاحیتیں درکار ہیں۔
پی اے ایف کی جانب سے مختصر فاصلے کے میزائل، خودکار توپوں اور کاؤنٹر ڈرون ٹیکنالوجی کو ایک مربوط دفاعی ڈھانچے میں شامل کرنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ڈرونز نے فضائی دفاع کی ترجیحات کو کس حد تک تبدیل کیا ہے۔
اب چیلنج صرف تیز رفتار جنگی طیاروں یا کروز میزائلز کو روکنا نہیں بلکہ ایسے چھوٹے اور نسبتاً کم قیمت والے ڈرونز سے بھی نمٹنا ہے جو بڑی تعداد میں استعمال کیے جا سکتے ہیں۔
تینوں نوعیت کے نظاموں کو ایک ہی دفاعی ڈھانچے میں شامل کرنے کا مقصد اسی بدلتے ہوئے خطرے کے مطابق دفاعی ردِعمل کو زیادہ متنوع، تہہ در تہہ اور مؤثر بنانا ہے۔



