
کل بھی بھٹو زندہ تھا، بھٹو آج بھی زندہ ہے، لیکن 1970 والا بھٹو جس نے مجیب الرحمن کی دو تہائی اکثریت کو ماننے سے انکار کیا اور بنگال میں فوجی آپریشن کی حمایت کی، آج اس کے ہی سیاسی جانشینوں نے دوبارہ (کے پی کے میں پی ٹی آئی کی) دو تہائی اکثریت کو ماننے سے انکار کیا اور کے پی کے میں گورنر راج اور ایمرجنسی نافذ کردی اور صوبہ ٹیکنو کریٹس کے حوالے کر دیا ہے ۔ تاریخ اپنے آپ کو دوبارہ دہراتی ہے، مگر افسوس کے ساتھ ہم تاریخ سے کچھ نہیں سیکھ پاتے۔

شہر چراغ بجھے تو سوال اٹھے،
حکومتوں سے ہی اعتماد اٹھے۔
یہ کیسا عہد ہے، جہاں انصاف بھی خاموش کھڑا ہے؟
کرسی پر بیٹھنے سے کوئی افضل نہیں ہوتا،
دل جیتنے سے رہبر پیدا ہوتے ہیں۔
اگر سڑک پر کھڑا آدمی ہی مایوس ہو،
تو ترقی کا ہر دعویٰ جھوٹا لگے۔
جو قوم کے زخموں پر مرہم نہ رکھ سکے،
وہ اقتدار میں تو رہ سکے مگر وفا نہ کر سکے۔
عوام بھوک سے لڑتی رہے تو کیا فتح؟
کمال حکومت تو تب ہے جب ہر گھر میں نور ہو۔
اگر تاریخ پر نظر ڈالیں تو کچھ لوگ یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ خیبر پختونخوا میں تو اگست 1947 میں بھی گورنر راج نافذ ہوا تھا اور وہ گورنر راج بانیِ پاکستان قائدِ اعظم محمد علی جناح نے نافذ کیا تھا۔ اگر وہ گورنر راج ٹھیک تھا تو یہ بھی ٹھیک ہے اور اگر وہ غلط تھا تو یہ بھی غلط ہے۔

لیکن جو اگست 1947 میں قائدِ اعظم محمد علی جناح نے بطور گورنر جنرل اس وقت کے NWFP (صوبہ سرحد) میں گورنر راج لگا تھا اس کے سیاق و سباق بالکل مختلف تھا سب سے پہلی اور بنیادی بات یہ ہے کہ قائدِ اعظم محمد علی جناح نے بطور پہلے گورنر جنرل صوبہ سرحد میں کوئی عمومی گورنر راج نافذ نہیں کیا تھا اور نہ ہی آئین یا صوبائی اسمبلی کو معطل کیا تھا۔
انہوں نے صرف آئینی اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے قائم مقام چیف منسٹر کی حکومت کو برطرف کیا تھا اور اس کی جگہ پر ایک نئی سیاسی قیادت کو نگران ذمہ داری سونپی تھی۔ اس فیصلے کے پس منظر کو سمجھنے کے لیے 1946ء کے عام انتخابات اور تقسیمِ ہند کے طے شدہ طریقہ کار کو مدِ نظر رکھنا ضروری ہے۔ 1946ء کے انتخابات کے نتیجے میں صوبہ سرحد میں انڈین نیشنل کانگریس نے اکثریت حاصل کی تھی اور ڈاکٹر عبد الجبار خان (المعروف ڈاکٹر خان صاحب، جو خان عبد الغفار خان کے بھائی تھے) کی سربراہی میں کانگریس کی وزارتی حکومت قائم ہوئی تھی۔
جب 3 جون 1947ء کے منصوبہ کے تحت برطانوی حکومت نے ہندوستان کی تقسیم اور پاکستان کے قیام کا حتمی اعلان کیا، تو صوبہ سرحد کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کے لیے جولائی 1947ء میں عوامی ریفرنڈم کروانے کا طریقہ کار طے پایا۔ اس کا بنیادی مقصد یہ معلوم کرنا تھا کہ صوبہ سرحد کے عوام پاکستان میں شمولیت چاہتے ہیں یا ہندوستان میں۔ ریفرنڈم سے قبل سیاسی ماحول انتہائی گرم تھا، اور چیف منسٹر ڈاکٹر خان صاحب نے اعلانیہ طور پر یہ دعویٰ اور وعدہ کیا تھا کہ اگر صوبہ سرحد کے 30 فیصد پختونوں نے بھی پاکستان کے حق میں ووٹ دے دیا تو وہ اخلاقی طور پر فوراً اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیں گے۔
تاہم، جولائی 1947ء کے ریفرنڈم کے نتائج توقعات سے کہیں زیادہ شاندار رہے؛ صوبے کی واضح اکثریت یعنی تقریباً 99 فیصد ووٹرز نے پاکستان کے حق میں فیصلہ دیا۔ اس تاریخ ساز عوامی فیصلے کے بعد ڈاکٹر خان صاحب کی حکومت کا اخلاقی اور جمہوری جواز مکمل طور پر ختم ہو چکا تھا، لیکن اپنے پہلے سے کیے گئے واضح اعلانات اور جمہوری روایت کے برعکس انہوں نے استعفیٰ دینے سے صاف انکار کر دیا۔ سیاسی تجزیہ نگاروں کے مطابق یہ انکار ایک طے شدہ حکمتِ عملی کا حصہ تھا تاکہ حکومت سے استعفیٰ دینے کے بجائے برطرفی کا راستہ اختیار کیا جائے اور یوں سیاسی مظلومیت یا "سیاسی شہادت” کا کارڈ کھیلا جا سکے۔
14 اگست 1947ء کو جب پاکستان قائم ہوا تو ملک بھر کے تمام صوبائی دارالحکومتوں میں پرچم کشائی کی پروقار تقریبات منعقد کی گئیں۔ لیکن پشاور میں ڈاکٹر خان صاحب کی حکومت کی موجودگی اور عدم تعاون کی وجہ سے پاکستان کا قومی پرچم لہرانے اور سرکاری تقریب کے انعقاد میں شدید انتظامی و آئینی مشکلات پیش آئیں۔
آخری برطانوی وائسرائے لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے تقسیم سے قبل وعدہ کیا تھا کہ ریفرنڈم کا نتیجہ آتے ہی وہ صوبائی حکومت کا فیصلہ کریں گے، مگر بعد میں انہوں نے اپنی ذمہ داری سے پہلو تہی کی اور معاملہ قائدِ اعظم پر چھوڑ دیا۔ ایسی صورتِ حال میں، جہاں عوام کا حتمی منڈیٹ پاکستان کے ساتھ تھا اور صوبائی حکومت اپنے ہی وعدے سے انحراف کر رہی تھی، قائدِ اعظم محمد علی جناح کے پاس عوامی رائے کے تحفظ اور نوزائیدہ ریاست کے انتظامی استحکام کے لیے ڈاکٹر خان صاحب کی حکومت کو برطرف کرنے اور مسلم لیگ کے خان عبدالقیوم خان کو نیا وزیرِ اعلیٰ نامزد کرنے کے سوا کوئی آئینی و سیاسی چارہ کار نہ تھا۔
لہٰذا، 11 اکتوبر 2026ء کو خیبر پختونخوا میں نافذ کی جانے والی ایمرجنسی یا گورنر راج کا موازنہ قائدِ اعظم کے 1947ء کے فیصلے سے کرنا تاریخی، آئینی اور سیاسی طور پر بالکل غلط اور غیر منطقی ہے۔ 1947ء میں قائدِ اعظم کے اقدام کی بنیاد ایک باضابطہ عوامی ریفرنڈم اور قومی و ملکی سلامتی کے ناگزیر تقاضے تھے، جبکہ موجودہ حالات میں گورنر راج یا ایمرجنسی کے نفاذ کی وجوہات اور سیاسی کشمکش کی نوعیت بالکل جداگانہ ہے۔ موجودہ منظرنامے میں ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کچھ سیاسی قوتیں لانگ مارچ کی متوقع ناکامی یا اسلام آباد تک نہ پہنچ پانے کے خدشات کے پیشِ نظر ایسی فضا قائم کرنا چاہتی ہیں جس سے حکومت کو گورنر راج یا ایمرجنسی جیسے غیر معمولی اقدامات پر مجبور کیا جا سکے، تاکہ وہ اس کے نتیجے میں سیاسی مظلومیت حاصل کر کے اپنے بیانیے کو تقویت دے سکیں۔
متعلقہ قیادت نے استعفیٰ نہیں دیا۔ اس سے یہ سوال جنم لیتا ہے کہ آخر انہوں نے استعفیٰ کیوں نہیں دیا؟اب دیکھیں ، وہ بھی تو سیاستدان تھے ۔ وہ چاہتے تھے کہ ان کی حکومت کو برطرف کیا جائے اور وہ سیاسی شہید بن جائیں اور ایسا ہی ہوا۔
بدل دو حکومت یہی زمانے کی صدا ہے
عوام کی خوشحالی میں ہی وطن کی بقا ہے
خدا نے تم کو یہ منصب امانت دی ہے
اب اس امانت کا حق دو یہی سیاست ہے
وجوہات اور پس منظر چاہے کچھ بھی ہوں، لیکن ایک تاریخی اور سیاسی حقیقت یہ ہے کہ جب بھی کسی صوبے میں گورنر راج یا ایمرجنسی نافذ کی جاتی ہے، تو اس کے سب سے زیادہ اور براہِ راست اثرات عام عوام کو بھگتنے پڑتے ہیں۔ گورنر راج کا نفاذ دراصل عوام کے منتخب نمائندوں کے اختیارات کی معطلی اور جمہوری عمل کے عارضی خاتمے کا نام ہے، جس کے نتیجے میں عوام اور حکومت کے درمیان پایا جانے والا رابطہ منقطع ہو جاتا ہے۔

جب آئینی بحران یا شدید سیاسی کشمکش کے باعث صوبائی اسمبلی کو تحلیل یا غیر فعال کر دیا جاتا ہے اور تمام تر انتظامی اختیارات وفاق کے نامزد کردہ گورنر کو منتقل ہو جاتے ہیں، تو فیصلے عوام کی ضرورتوں کے بجائے انتظامی احکامات اور بیوروکریسی کی مرضی کے مطابق ہونے لگتے ہیں۔ اس غیر معمولی صورتحال کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوتا ہے کہ عوام کے روزمرہ کے بنیادی مسائل، جیسے صحت، تعلیم، اور صفائی کے نظام کی دیکھ بھال، ترجیحی فہرست سے نکل جاتے ہیں کیونکہ بیوروکریسی کا بنیادی توجہ کا مرکز امن و امان کی بحالی اور سیاسی کنٹرول ہوتا ہے۔
اس کے علاوہ، گورنر راج کے دوران معاشی اور ترقیاتی سرگرمیاں شدید متاثر ہوتی ہیں۔ نئے منصوبوں کی منظوری اور جاری ترقیاتی فنڈز کا اجراء روک دیا جاتا ہے، جس سے روزگار کے مواقع کم ہوتے ہیں اور مقامی معیشت جمود کا شکار ہو جاتی ہے۔ تاجر برادری اور سرمایہ کار غیر یقینی سیاسی صورتحال کی وجہ سے نیا سرمایاکاری کرنے سے گریز کرتے ہیں، جس کا براہِ راست بوجھ مہنگائی اور بے روزگاری کی صورت میں عام آدمی پر پڑتا ہے۔
آئینی و قانونی سطح پر بھی بنیادی انسانی حقوق اور شہریوں کی آزادیاں محدود کر دی جاتی ہیں، اجتماعات پر پابندیاں عائد ہوتی ہیں اور امن و امان کے نام پر عام شہریوں کو سخت انتظامی قوانین اور پولیس کے نامناسب رویے کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ بالآخر، گورنر راج کا طویل ہونا نہ صرف عوامی اداروں کو کمزور کرتا ہے بلکہ جمہوری نظام پر عوام کے اعتماد کو بھی شدید نقصان پہنچاتا ہے، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ کسی بھی سیاسی حل کے لیے غیر آئینی یا غیر جمہوری اقدامات کا حتمی خراج ہمیشہ عام عوام ہی ادا کرتے ہیں۔
مزید برآں، مقامی حکومتوں اور بلدیاتی اداروں کا نظام بھی گورنر راج کے نفاذ کی زد میں آ جاتا ہے۔ جب صوبائی اسمبلی غیر فعال ہوتی ہے تو مقامی سطح پر گلی محلوں کے مسائل، پینے کے صاف پانی کی فراہمی، نکاسیِ آب اور سڑکوں کی مرمت جیسے بنیادی کام مکمل طور پر معطل ہو کر رہ جاتے ہیں۔ عام شہری اپنے روزمرہ کے مسائل کے حل کے لیے اپنے منتخب کونسلروں یا اراکینِ اسمبلی کے پاس جانے کے بجائے بیوروکریٹس کے دفاتر کے چکر لگانے پر مجبور ہو جاتے ہیں، جہاں نہ تو ان کی سنوائی آسان ہوتی ہے اور نہ ہی ان کے مسائل کو ہمدردی سے حل کیا جاتا ہے۔ بیوروکریسی کا رویہ روایتی طور پر غیر لچکدار اور دفتری شاہی پر مبنی ہوتا ہے، جس سے عوامی بے چینی اور مایوسی میں مزید اضافہ ہوتا ہے۔

سیاسی اور سماجی نقطہ نظر سے گورنر راج خطے میں ایک عارضی سیاسی جمود پیدا کر دیتا ہے جو بالآخر تشدد اور بدامنی کا سبب بھی بن سکتا ہے۔ جب سیاسی جماعتوں کو اپنے خیالات کے اظہار اور جمہوری جدوجہد کی اجازت نہیں ملتی تو سیاسی ماحول میں کرواہٹ اور تلخی بڑھ جاتی ہے۔ صوبے کے عوام اپنے اندر وفاق کے خلاف محرومی اور عدم تحفظ کا احساس محسوس کرنے لگتے ہیں، جو کہ وفاقی اکائیوں کے باہمی تعلقات کے لیے انتہائی نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔ تعلیمی اداروں کا ماحول، طلبہ کی نصابی و ہم نصابی سرگرمیاں اور نوجوانوں کے مستقبل کے منصوبے اس طرح کے ہنگامی حالات کے باعث شدید تذبذب کا شکار ہو جاتے ہیں۔
تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جب بھی مرکز نے صوبوں کے اختیارات پر شب خون مارا یا جمہوری قیادت کے بجائے بیوروکریٹک اور غیر منتخب ڈرافٹ کو مسلط کیا، اس سے نہ تو انتظامی استحکام حاصل ہو سکا اور نہ ہی مستقل امن و امان قائم ہوا۔ گورنر راج دراصل کسی بیماری کا علاج نہیں بلکہ ایک عارضی مرہم ہوتا ہے جو حقیقت میں مسئلے کو دبانے کی کوشش کرتا ہے۔ ایک پائیدار اور مستحکم معاشرے کے لیے ضروری ہے کہ سیاسی بحرانوں کا حل آئینی اور جمہوری دائرہ کار کے اندر رہ کر مذاکرات کے ذریعے نکالا جائے، تاکہ عام شہریوں کو کسی غیر جمہوری ایڈونچر کا خمیازہ نہ بھگتنا پڑے۔

میں حالیہ گورنر راج کے بحران کو حل کرنے کے لیے ایک جامع آئینی حل پیش کرتا ہوں، جس کے تحت آئینِ پاکستان (1973ء) کے آرٹیکل 101، 109، 116، 128 اور 234میں ایسی اہم ترامیم تجویز کی گئی ہیں جن کا مقصد بنیادی طور پر گورنر کے منصب کی غیر جانبداری کو یقینی بنانا، ان کے اختیارات کے غلط استعمال کو سختی سے روکنا، اور گورنر راج کو کسی بھی سیاسی مقصد کے لیے بطور ہتھیار استعمال کرنے کے رجحان کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ کرنا ہے۔ ان مجوزہ اصلاحات کے نفاذ سے وفاق اور صوبوں کے مابین موجودہ کشیدگی اور سیاسی ڈیڈلاک کا ایک پائیدار تدارک ممکن ہو سکے گا۔
موجودہ آئینی ڈھانچے کے مطابق آرٹیکل 101کے تحت صوبائی گورنر کا تقرر صدرِ پاکستان کی جانب سے وزیرِ اعظم کے صوابدیدی مشورے پر کیا جاتا ہے، جو اکثر سیاسی وفاداریوں اور ترجیحات کی بنیاد پر ہوتا ہے۔ اس بحران کا شافی علاج یہ پیش کیا گیا ہے کہ گورنر کا تقرر اکیلے صدر یا وزیرِ اعظم کے اختیار سے ہٹا کر ایک ایسی اعلیٰ سطحی کونسل کے سپرد کیا جائے جس میں صوبائی حکومت کے نمائندے، وفاقی حکومت کے اراکین اور معزز سپریم کورٹ کے جج صاحبان شامل ہوں اور صدرِ پاکستان اس کونسل کے سربراہ ہوں۔ اس کونسل پر مبنی تقرری کے نظام سے گورنر کے منصب پر عائد ہونے والے سیاسی جانبداری کے الزامات کا ازالہ ہوگا اور تقرر کا عمل شفاف اور قابلِ اعتماد بن جائے گا۔
مزید برآں، آرٹیکل 109کے روایتی اختیارات کے تحت گورنر کو صوبائی اسمبلی کا اجلاس طلب کرنے اور برخاست کرنے کا اختیار حاصل ہے، مگر موجودہ بحران میں اس کا بے دریغ سیاسی استعمال دیکھا گیا ہے۔ اس خرابی کو دور کرنے کے لیے تجویز دی گئی ہے کہ اگرچہ گورنر کو وزیرِ اعلیٰ اور صوبائی حکومت کی کارکردگی اور جوابدہی کے حوالے سے نگرانی کا حق حاصل ہو، لیکن اس کے ساتھ یہ لازمی شرط بھی عائد کی جائے کہ گورنر اپنے ان تمام اختیارات کے استعمال کے دوران مکمل طور پر غیر جانبدار رہے گا اور اس دائرہ کار کو کسی بھی سیاسی دباؤ یا انتقامی کارروائی کے لیے استعمال نہیں کرے گا۔
قانون سازی کے معاملات میں، آرٹیکل 112کے تحت گورنر کی جانب سے بلوں کی واپسی کے عمل میں بھی اصلاح کی گئی ہے تاکہ سیاسی ڈیڈلاک پیدا نہ ہو۔ مجوزہ ترمیم کے مطابق اگر گورنر کسی بل کو واپس بھیجتا ہے اور صوبائی اسمبلی اسے دوبارہ دو تہائی (2/3) اکثریت سے پاس کر لیتی ہے تو گورنر کی توثیق کی ضرورت ختم ہو جائے گی، اور اگر اسمبلی کے کم از کم پانچ فیصد (5%) اراکین (MPAs) یا کوئی سیاسی جماعت اس پر اعتراض کی درخواست دے تو معاملہ عوامی ریفرنڈم کے ذریعے طے کیا جائے گا، جس کے بعد گورنر عوام کے فیصلے کو روکنے کا مجاز نہیں ہوگا۔ اسی طرح، آرٹیکل 128کے تحت گورنر کے یکطرفہ آرڈیننس جاری کرنے کے اختیار پر قابو پانے کے لیے صوبائی کابینہ کو یہ طاقت دی گئی ہے کہ وہ گورنر کے آرڈیننس کو اووررول یا مسترد کر سکے، تاکہ ایگزیکٹو برانچ کے اس اختیار کا ناجائز فائدہ نہ اٹھایا جا سکے۔

آخر کار، آرٹیکل 234کے تحت صوبوں میں آئینی مشینری کی ناکامی کی آڑ میں گورنر راج یا صدر راج مسلط کرنے کے رحجان کو روکنے کے لیے ایک فول پروف عدالتی حصار قائم کیا گیا ہے۔ موجودہ بحران کا سب سے بڑا حل یہ پیش کیا گیا ہے کہ اب کسی بھی صوبے پر گورنر راج نافذ کرنے سے قبل پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کی منظوری کے ساتھ ساتھ عدالت کی باضابطہ اور لازمی منظوری حاصل کرنا بھی شرط ہوگی۔ اس عدالتی جانچ پڑتال کے نفاذ سے گورنر راج کو سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی تمام راہیں ہمیشہ کے لیے بند ہو جائیں گی اور صوبائی خودمختاری، جمہوری اصولوں اور آئین کی حقیقی روح کا بھرپور تحفظ یقینی بنایا جا سکے گا۔



