انٹر نیشنلبلاگپاکستانتازہ ترینکالم

لہروں پر لکھا امن کا عہد

تحریر: محمد محسن اقبال

پاکستان کا قیام محض ایک جغرافیائی تبدیلی کا نام نہیں، بلکہ یہ سیاسی بصیرت، آئینی جدوجہد، فکری پختگی اور عزمِ مسلسل کی ایک ایسی داستان ہے جس نے برصغیر کی تاریخ کا دھارا بدل دیا۔ نظریۂ پاکستان نے مسلمانوں کو ایک الگ وطن کے حصول کے لیے فکری رہنمائی فراہم کی اور قائداعظم محمد علی جناحؒ کی مدبرانہ قیادت میں یہ خواب کسی تشدد، دہشت گردی یا خون ریزی کے ذریعے نہیں، بلکہ دلیل، مذاکرات، سیاسی حکمت اور منظم جدوجہد کے نتیجے میں حقیقت بنا۔ اس عظیم جدوجہد میں مسلمانوں نے بے شمار قربانیاں دیں، لیکن ان کی منزل ایک ایسی ریاست کا قیام تھا جہاں انسانی وقار، آزادی، تحفظ اور پُرامن بقائے باہمی کو فروغ حاصل ہو۔ یہی تاریخی ورثہ پاکستان کے تصورِ امن کی بنیاد ہے۔ امن کمزوری نہیں، بلکہ حکمت، صبر، تدبر اور ضرورت پڑنے پر اپنے دفاع کے لیے غیر متزلزل عزم کا نام ہے۔
اگست 1947ء میں آزادی کے بعد پاکستان نے ہمیشہ اپنے ہمسایہ ممالک اور عالمی برادری کے ساتھ پُرامن تعلقات کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔ تاہم، امن کی خواہش کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ قومی خودمختاری اور دفاع کے حق پر سمجھوتا کر لیا جائے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج ایک طرف وطن کی سرحدوں اور خودمختاری کی محافظ ہیں تو دوسری طرف علاقائی استحکام اور عالمی امن کے فروغ میں بھی اپنا کردار ادا کرتی ہیں۔ ان میں پاک بحریہ کو ایک منفرد مقام حاصل ہے، کیونکہ آج کے دور میں سمندر صرف پانی کی وسعتوں کا نام نہیں، بلکہ عالمی تجارت، توانائی کی ترسیل، معاشی ترقی اور تزویراتی سلامتی کی بنیادی گزرگاہ ہیں۔
دنیا کی معیشت کا بڑا حصہ سمندری راستوں سے وابستہ ہے۔ تیل اور گیس کی ترسیل سے لے کر خوراک، صنعتی خام مال اور روزمرہ استعمال کی اشیا تک، عالمی تجارت کی روانی سمندروں کے تحفظ سے جڑی ہوئی ہے۔ اگر بحری قزاقی، دہشت گردی، غیر قانونی اسمگلنگ یا عالمی طاقتوں کے درمیان کشیدگی ان راستوں کو متاثر کرے تو اس کے اثرات کسی ایک ساحل یا ملک تک محدود نہیں رہتے، بلکہ پوری دنیا کی معیشت اور سلامتی کو اپنی لپیٹ میں لے سکتے ہیں۔ اس لیے سمندری تحفظ کسی ایک ریاست کی انفرادی ذمہ داری نہیں، بلکہ یہ تمام بحری اقوام کا مشترکہ فریضہ ہے۔
اسی حقیقت کا ادراک کرتے ہوئے پاک بحریہ نے 2007ء میں کثیرالقومی بحری مشق ’’امن‘‘ کا آغاز کیا۔ اس اقدام کا بنیادی نعرہ تھا: ’’امن کے لیے متحد‘‘۔ یہ نعرہ محض الفاظ کا مجموعہ نہیں، بلکہ ایک ایسے تصور کی ترجمانی کرتا ہے جس کے تحت مختلف سیاسی نظاموں، جداگانہ تزویراتی مفادات اور مختلف سلامتی ترجیحات رکھنے والے ممالک ایک مشترکہ مقصد کے لیے اکٹھے ہو سکتے ہیں۔ اس مشق کا مقصد صرف بحری قوت کا مظاہرہ کرنا نہیں، بلکہ مختلف ممالک کی بحری افواج کو ایک دوسرے کے قریب لانا، مشترکہ تربیت کے ذریعے پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں اضافہ کرنا اور سمندری چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے باہمی تعاون کو فروغ دینا ہے۔ یوں پاکستان نے سمندر کو تقسیم اور رقابت کی علامت بنانے کے بجائے اقوام کے درمیان رابطے اور اعتماد کا ذریعہ بنانے کی کوشش کی ہے۔
امن مشق کا سفر اس حقیقت کا عکاس ہے کہ عالمی برادری میں اس اقدام کی اہمیت مسلسل بڑھ رہی ہے۔ مارچ 2007ء میں منعقد ہونے والی پہلی مشق میں 28 ممالک نے شرکت کی، جب کہ 2017ء میں یہ تعداد 34 اور 2019ء میں 46 تک پہنچ گئی۔ امن 2023ء میں 49 ممالک کی شرکت نے اس سلسلے کو مزید وسعت دی۔ پھر فروری 2025ء میں شمالی بحیرۂ عرب میں منعقد ہونے والی نویں مشق میں 58 ممالک کی شرکت نے اسے ایک نمایاں عالمی بحری سرگرمی کے طور پر اجاگر کیا۔ مختلف ممالک کے بحری جہازوں، خصوصی دستوں، دفاعی حکام اور مبصرین کی شرکت اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ سمندری سلامتی کے مشترکہ تقاضے قومی سرحدوں اور سیاسی اختلافات سے کہیں آگے کی حقیقت ہیں۔
ان مشقوں کی اصل کامیابی شریک ممالک کی تعداد یا بحری جہازوں کی کثرت میں نہیں، بلکہ ان روابط میں پوشیدہ ہے جو مختلف قوموں کے درمیان قائم ہوتے ہیں۔ جب مختلف ممالک کے بحری اہلکار ایک دوسرے کے ساتھ تربیت حاصل کرتے ہیں، تجربات کا تبادلہ کرتے ہیں اور مشترکہ سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں تو پیشہ ورانہ ہم آہنگی کے ساتھ باہمی اعتماد بھی فروغ پاتا ہے۔ ایسے روابط مشکل حالات میں رابطے کے مؤثر ذرائع فراہم کرتے اور غلط فہمیوں کے امکانات کم کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ بین الاقوامی سیاست میں جہاں بداعتمادی اور مسابقت اکثر تعلقات پر حاوی ہو جاتی ہیں، وہاں ایسے اقدامات کی اہمیت دوچند ہو جاتی ہے۔
پاکستان کا عالمی امن میں کردار صرف امن مشق تک محدود نہیں۔ اقوام متحدہ کے امن مشنز میں پاکستان کی شرکت اور اقوام متحدہ کے مینڈیٹ کے تحت قائم مشترکہ بحری افواج میں کمبائنڈ ٹاسک فورسز 150 اور 151 کے ذریعے تعاون بھی اسی وسیع تر حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔ ان سرگرمیوں کا مقصد سمندری دہشت گردی، بحری قزاقی اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں کے خلاف مشترکہ کوششوں کو تقویت دینا ہے۔ اس طرح پاک بحریہ قومی دفاع کے ساتھ ساتھ عالمی سمندری راستوں کے تحفظ میں بھی اپنا حصہ ڈالتی ہے۔
اب امن مشق کا دسواں ایڈیشن، امن 2027ء، 29 جنوری سے 2 فروری 2027ء تک منعقد کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ اس موقع پر مشق کے ساتھ دوسرے ’’امن ڈائیلاگ‘‘ کا انعقاد بھی اہمیت کا حامل ہوگا۔ اس مکالمے میں بحری افواج اور ساحلی محافظ دستوں کے سربراہان، دفاعی حکام اور سمندری امور کے ماہرین کو علاقائی سلامتی کے ابھرتے ہوئے مسائل پر تبادلۂ خیال کا موقع ملے گا۔ سیمینارز، کلیدی خطابات اور دوطرفہ و کثیرالقومی ملاقاتوں کے ذریعے موجودہ تعاون کا جائزہ لینے اور مستقبل کے چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے نئے راستے تلاش کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
آج سمندری سلامتی کا تعلق صرف جنگی جہازوں یا دفاعی صلاحیتوں تک محدود نہیں رہا۔ توانائی کی فراہمی، ماحولیاتی تحفظ، جدید ٹیکنالوجی اور نیلی معیشت کی ترقی بھی اسی سے وابستہ ہیں۔ سمندر معاشی خوش حالی کے وسیع امکانات رکھتے ہیں، لیکن ان امکانات سے بھرپور اور پائیدار فائدہ اٹھانے کے لیے امن، ذمہ دارانہ نظم و نسق اور علاقائی تعاون ناگزیر ہے۔ پاکستان جیسے ملک کے لیے یہ پہلو خصوصی اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ بحری تجارت، ساحلی ترقی اور سمندری وسائل کا مؤثر استعمال مستقبل کی معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
یہ حقیقت بھی پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ کسی ملک کا مثبت عالمی تشخص محض تقریبات، نعروں یا تشہیری سرگرمیوں سے تشکیل نہیں پاتا۔ اس کی اصل بنیاد اس کے طرزِ عمل میں تسلسل، وعدوں کی پاسداری اور دوسروں کے ساتھ تعمیری تعاون ہے۔ امن مشق پاکستان کو اپنی بحری صلاحیتوں اور پیشہ ورانہ مہارت کے اظہار کے ساتھ عالمی برادری کے سامنے ایک ایسے ملک کے طور پر اپنا کردار پیش کرنے کا موقع دیتی ہے جو قومی سلامتی کے تقاضوں کو سمجھنے کے ساتھ مشترکہ عالمی مفادات کے تحفظ میں بھی دلچسپی رکھتا ہے۔
تاہم، امن مشق کی حقیقی کامیابی کا فیصلہ اس وقت ہوگا جب اس کے نتیجے میں قائم ہونے والے روابط عملی تعاون میں تبدیل ہوں گے۔ بحری مشقیں عالمی رقابتوں کا خاتمہ نہیں کر سکتیں اور نہ ہی مکالمہ ہر تنازع کو فوری طور پر حل کرنے کی ضمانت دیتا ہے، لیکن یہ غلط فہمیوں کو کم کرنے، تیاری بہتر بنانے اور اختلافات کے باوجود رابطے کے دروازے کھلے رکھنے میں مدد ضرور دے سکتا ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو تصادم کے امکانات کم کرنے اور مشترکہ سلامتی کے تصور کو مضبوط بنانے میں معاون ثابت ہوتا ہے۔
آج جب دنیا کے مختلف خطوں میں کشیدگی، مسابقت اور عدم اعتماد کی فضا موجود ہے، پاکستان کی امن مشق ایک اہم پیغام دیتی ہے: سلامتی کا حصول تنہائی میں ممکن نہیں، اور مشترکہ خطرات کا مقابلہ مشترکہ کوششوں ہی سے کیا جا سکتا ہے۔ سمندر کسی ایک قوم کی ملکیت نہیں؛ اس کی وسعتیں تمام اقوام کو جوڑتی ہیں اور اس کے تحفظ کی ذمہ داری بھی سب پر عائد ہوتی ہے۔
پاک بحریہ کی امن مشق اور اس کے ساتھ منعقد ہونے والا مکالمہ اسی سوچ کی ترجمانی کرتے ہیں کہ پائیدار امن طاقت کے مظاہرے سے آگے بڑھ کر اعتماد، تعاون اور ذمہ داری کے احساس سے جنم لیتا ہے۔ اگر قومیں اپنے اختلافات کے باوجود مشترکہ مفادات کو پہچاننے اور ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کام کرنے کا حوصلہ پیدا کر لیں تو سمندر محض تجارت کے راستے نہیں رہتے، بلکہ اقوام کے درمیان دوستی، مفاہمت اور امن کے سفیر بن سکتے ہیں۔ یہی وہ پیغام ہے جو پاکستان کی بحری سفارت کاری دنیا تک پہنچانا چاہتی ہے: سمندروں کی حفاظت سب کی ذمہ داری ہے، اور امن کی منزل مشترکہ عزم سے ہی حاصل ہو سکتی ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button