
پاکستان کی دینی اور سیاسی تاریخ میں بعض شخصیات ایسی ہوتی ہیں جن کی شناخت کسی عہدے سے نہیں بلکہ ان کے کردار، فکر، اخلاص اور مسلسل جدوجہد سے بنتی ہے۔ امیر العظیم بھی ایسی ہی شخصیات میں شمار ہوتے ہیں۔ انہوں نے اپنی پوری زندگی اسلامی فکر کی ترویج، جمہوری جدوجہد، تنظیمی استحکام اور کارکن سازی کے لیے وقف کیے رکھی۔ ان کی رحلت سے جماعت اسلامی ایک تجربہ کار رہنما سے محروم ہوئی جبکہ پاکستان کی مذہبی اور سیاسی فضا نے ایک ایسا شخص کھو دیا جو اختلاف کے باوجود شائستگی، دلیل اور اخلاق کے ساتھ اپنی بات پیش کرنے کے لیے پہچانا جاتا تھا۔امیر العظیم 1952ء میں کراچی میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم بھی کراچی ہی میں حاصل کی۔ نوجوانی ہی میں ان کا رجحان اسلامی فکر اور طلبہ کی دعوتی سرگرمیوں کی طرف بڑھنے لگا۔

اسی زمانے میں وہ اسلامی جمعیت طلبہ سے وابستہ ہوئے۔ یہی وابستگی بعد میں ان کی پوری زندگی کا راستہ متعین کر گئی۔ جمعیت میں انہوں نے ایک عام کارکن کے طور پر کام شروع کیا اور اپنی محنت، تنظیمی صلاحیت اور نظریاتی وابستگی کے باعث مختلف ذمہ داریاں سنبھالتے گئے۔اسلامی جمعیت طلبہ اس دور میں پاکستان کی سب سے متحرک طلبہ تنظیموں میں شمار ہوتی تھی۔ امیر العظیم نے تعلیمی اداروں میں دعوتی سرگرمیوں، طلبہ کے مسائل کے حل اور تنظیمی ڈھانچے کو مضبوط بنانے میں نمایاں کردار ادا کیا۔ ان کی گفتگو میں شائستگی اور دلیل ہوتی تھی جس کی وجہ سے وہ نوجوانوں میں جلد مقبول ہو گئے۔ وہ ہمیشہ اس بات پر زور دیتے تھے کہ اختلاف کو دشمنی میں تبدیل نہیں ہونا چاہیے بلکہ دلیل اور کردار کے ذریعے اپنا مؤقف پیش کرنا چاہیے۔تعلیم مکمل کرنے کے بعد انہوں نے جماعت اسلامی پاکستان کی باقاعدہ رکنیت اختیار کی۔
جماعت اسلامی کے بانی، سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کے افکار سے وہ گہرا فکری تعلق رکھتے تھے۔ بعد ازاں میاں طفیل محمدؒ، قاضی حسین احمدؒ، سید منور حسنؒ اور سراج الحق کے ساتھ مختلف ادوار میں قریبی تنظیمی ذمہ داریاں انجام دیں۔ ان کی سب سے نمایاں خصوصیت یہ تھی کہ وہ تنظیم کے اندر کارکنوں سے مسلسل رابطے میں رہتے تھے۔ چھوٹے اجتماعات ہوں یا بڑے کنونشن وہ ہر جگہ کارکنوں کی تربیت کو اولین ترجیح دیتے تھے۔وقت گزرنے کے ساتھ انہیں جماعت اسلامی میں مختلف اہم ذمہ داریاں ملتی رہیں۔ وہ جماعت اسلامی کے سیکریٹری اطلاعات بھی رہے، مرکزی سیکریٹری جنرل بھی رہے اور جماعت کے ترجمان کے طور پر بھی طویل عرصہ خدمات انجام دیں۔ ٹیلی ویژن پروگراموں، سیاسی مباحثوں اور پریس کانفرنسوں میں وہ جماعت اسلامی کا مؤقف انتہائی مدلل انداز میں پیش کرتے تھے۔ ان کی گفتگو میں جذبات سے زیادہ استدلال اور شائستگی نمایاں ہوتی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ سیاسی مخالفین بھی ان کے اندازِ گفتگو کا احترام کرتے تھے۔امیر العظیم کی سیاسی زندگی کا ایک اہم پہلو یہ بھی تھا کہ وہ جمہوری عمل پر یقین رکھتے تھے۔

وہ سمجھتے تھے کہ پاکستان کے مسائل کا حل آئین، قانون اور عوامی رائے کے احترام میں پوشیدہ ہے۔ انہوں نے ہمیشہ پُرامن سیاسی جدوجہد کی حمایت کی اور کارکنوں کو بھی صبر، برداشت اور نظم و ضبط کی تلقین کرتے رہے۔انہوں نے جماعت اسلامی کے تنظیمی ڈھانچے کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں بھی کردار ادا کیا۔ نوجوان کارکنوں کی تربیت، تنظیمی کورسز، فکری نشستوں اور عوامی رابطہ مہمات میں وہ سرگرم رے۔ ان کا ماننا تھا کہ صرف نعروں سے معاشرہ تبدیل نہیں ہوتا، بلکہ کردار سازی، تعلیم اور مسلسل محنت کے ذریعے تبدیلی آتی ہے۔امیر العظیمؒ ایک اچھے مقرر ہونے کے ساتھ ساتھ صاحبِ قلم بھی تھے۔ انہوں نے مختلف موضوعات پر مضامین تحریر کیے۔ دینی، سماجی اور سیاسی موضوعات پر ان کی گفتگو ہمیشہ متوازن ہوتی تھی۔ وہ میڈیا کے بدلتے ہوئے کردار سے بھی واقف تھے اور نوجوانوں کو جدید ذرائع ابلاغ کو مثبت انداز میں استعمال کرنے کی تلقین کرتے تھے۔ان کی شخصیت کا ایک نمایاں پہلو انکساری تھا۔ وہ بڑے عہدوں پر فائز رہنے کے باوجود عام کارکنوں سے اسی محبت اور خلوص سے ملتے تھے جیسے برسوں پہلے جمعیت کے زمانے میں ملا کرتے تھے۔ وہ اختلافِ رائے کو برداشت کرتے تھے اور ہمیشہ مکالمے کے ذریعے مسائل حل کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ جماعت اسلامی کے اندر مختلف نسلوں کے کارکن ان سے خصوصی وابستگی رکھتے تھے۔زندگی کے آخری برسوں میں امیر العظیمؒ مختلف بیماریوں کا شکار رہے۔ صحت کے مسائل کے باوجود انہوں نے اپنی تنظیمی سرگرمیاں مکمل طور پر ترک نہیں کیں۔ جہاں ممکن ہوتا، اجتماعات میں شریک ہوتے، رہنمائی فراہم کرتے اور کارکنوں سے رابطہ برقرار رکھتے۔ بیماری کے دوران بھی ان کے حوصلے میں کمی نہیں آئی۔ وہ صبر اور اللہ تعالیٰ پر توکل کی تلقین کرتے رہے۔وقت کے ساتھ ان کی صحت مزید کمزور ہوتی گئی۔ ڈاکٹروں کی نگرانی میں علاج جاری رہا مگر بیماری شدت اختیار کرتی گئی۔ بالآخر وہ اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے۔ ان کی رحلت کی خبر سامنے آئی تو جماعت اسلامی کے کارکنوں، مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں، صحافیوں، دانشوروں اور سماجی شخصیات نے گہرے دکھ کا اظہار کیا۔ سوشل میڈیا پر بھی ہزاروں افراد نے انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا اور ان کی خدمات کو یاد کیا۔ان کی وفات کے بعد جماعت اسلامی کی قیادت نے انہیں ایک نظریاتی، مخلص اور باکردار رہنما قرار دیا۔ مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے بھی اپنے تعزیتی پیغامات میں ان کی شائستگی، دیانت داری اور جمہوری رویے کو سراہا۔ ان کی نمازِ جنازہ میں مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد کی بڑی تعداد نے شرکت کی، جو اس بات کا اظہار تھا کہ انہوں نے اپنے کردار سے وسیع حلقوں میں احترام حاصل کیا۔امیر العظیمؒ کی زندگی اس حقیقت کی مثال ہے کہ نظریات سے وابستگی صرف تقریروں سے ثابت نہیں ہوتی بلکہ پوری زندگی کی عملی جدوجہد سے ثابت ہوتی ہے۔ انہوں نے اقتدار سے زیادہ تنظیم کو اہمیت دی، عہدے سے زیادہ ذمہ داری کو ترجیح دی اور ذاتی مفاد کے بجائے اجتماعی مقصد کے لیے کام کیا۔ یہی خصوصیات انہیں دیگر سیاسی شخصیات سے ممتاز بناتی ہیں۔پاکستان کی سیاست میں اختلافات ہمیشہ موجود رہے ہیں، مگر امیر العظیمؒ نے اپنے طرزِ عمل سے یہ پیغام دیا کہ اختلاف کے باوجود احترام باقی رہنا چاہیے۔ ان کی گفتگو میں کبھی ذاتی حملے نہیں ہوتے تھے، بلکہ وہ دلائل کے ذریعے اپنا نقطۂ نظر بیان کرتے تھے۔ آج کے سیاسی ماحول میں یہ رویہ مزید اہمیت اختیار کر جاتا ہے۔ان کی رحلت جماعت اسلامی کے لیے یقیناً ایک بڑا نقصان ہے، لیکن ان کی خدمات، ان کے تربیت یافتہ کارکنوں کی بڑی تعداد اور ان کی فکری میراث آنے والے برسوں تک یاد رکھی جائے گی۔ انہوں نے جس اخلاص کے ساتھ اپنی زندگی دعوت، تنظیم اور سیاست کے لیے وقف کی، وہ نئی نسل کے لیے ایک مثال ہے۔امیر العظیمؒ اب ہمارے درمیان موجود نہیں رہے، مگر ان کی جدوجہد، ان کا اخلاق، ان کی شائستگی اور ان کی نظریاتی استقامت پاکستان کی سیاسی اور دینی تاریخ کا مستقل حصہ بن چکی ہے۔ ایسے لوگ جسمانی طور پر دنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں، لیکن ان کا کردار اور ان کی خدمات آنے والی نسلوں کے لیے ہمیشہ مشعلِ راہ بنی رہتی ہیں۔اللہ تعالیٰ امیر العظیمؒ کی کامل مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند کرے، ان کے اہلِ خانہ، رفقا اور تمام وابستگان کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ آمین۔



