کوئٹہ: بلوچستان کے ضلع مستونگ میں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے سرکاری محافظ محمد زمان شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد زخمی ہوگئے۔ دوسری جانب سکیورٹی فورسز نے مستونگ میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران 6 دہشتگرد ہلاک اور متعدد مشتبہ افراد کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ ادھر فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کہا ہے کہ عوام کی بھرپور حمایت سے بلوچستان میں دیرپا امن قائم کیا جائے گا۔
ولی خان ریلوے پھاٹک کے قریب حملہ
پولیس کے مطابق یہ واقعہ کوئٹہ، کراچی شاہراہ پر مستونگ کے علاقے سنگر میں ولی خان ریلوے پھاٹک کے قریب پیش آیا، جہاں نامعلوم حملہ آوروں نے جج صاحبان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کی۔
حملے کے نتیجے میں ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے سرکاری محافظ موقع پر شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد زخمی ہوئے۔ زخمیوں کو فوری طور پر ہسپتال منتقل کر دیا گیا، جبکہ حملہ آور فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔
واقعے کے بعد پولیس، ایف سی، محکمہ انسداد دہشتگردی (سی ٹی ڈی) اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے جائے وقوعہ کا محاصرہ کرکے تحقیقات کا آغاز کر دیا۔
دکی میں پولیس تھانے پر دھماکہ
دوسری جانب بلوچستان کے ضلع دکی میں نامعلوم افراد نے تھانہ نرہن کو بارودی مواد سے نشانہ بنایا، جس سے عمارت کو نقصان پہنچا، تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان کا سخت ردعمل
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ سیشن جج پر حملہ دراصل ریاست پر حملہ ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ دہشتگردوں اور ان کے سہولت کاروں کو ہر قیمت پر منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا، جبکہ دہشتگردی کے تمام نیٹ ورکس کے خلاف کارروائیاں پوری شدت سے جاری رہیں گی۔
بلوچستان بار کونسل کا یومِ سوگ اور عدالتی بائیکاٹ
بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف، عدلیہ اور قانون کی بالادستی پر حملہ قرار دیتے ہوئے صوبہ بھر میں یومِ سوگ اور عدالتی کارروائی کے بائیکاٹ کا اعلان کیا۔
بار کونسل نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ حملے میں ملوث عناصر کو فوری گرفتار کرکے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے اور ججز، وکلا اور عدالتی عملے کی سکیورٹی مزید مؤثر بنائی جائے۔
سکیورٹی فورسز کا آپریشن، 6 دہشتگرد ہلاک
سکیورٹی ذرائع کے مطابق مستونگ کے علاقے کھڈ کوچہ میں خفیہ اطلاعات پر کیے گئے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن میں 6 دہشتگرد ہلاک کر دیے گئے۔
ذرائع کے مطابق متعدد مشتبہ افراد کو گرفتار بھی کیا گیا، جن میں سہولت کار اور مرد و خواتین خودکش بمبار بھی شامل ہیں۔ کارروائی کے دوران دہشتگردوں کی کمین گاہیں تباہ اور بھاری مقدار میں اسلحہ و گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا۔
بلوچستان میں دیرپا امن لائیں گے: فیلڈ مارشل عاصم منیر
آئی ایس پی آر کے مطابق جی ایچ کیو میں 20ویں نیشنل ورکشاپ بلوچستان کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کہا کہ بلوچستان پاکستان کا فخر ہے اور یہاں کے محب وطن، باصلاحیت اور باہمت عوام اس صوبے کی سب سے بڑی طاقت ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے ترقیاتی منصوبوں کا مقصد بلوچستان کی سماجی و معاشی ترقی ہے، جبکہ سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے عوام کی مکمل حمایت سے صوبے میں دیرپا امن قائم کریں گے۔
فیلڈ مارشل نے مزید کہا کہ دہشتگرد گروہوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف ٹارگٹڈ آپریشنز پوری قوت سے جاری رہیں گے اور دہشتگردی کے مکمل خاتمے تک یہ کارروائیاں بلا تعطل جاری رکھی جائیں گی۔



