مراکش سے 60 ہزار تارکین وطن سپین میں داخل ہونے کی کوشش، کم از کم 40 افراد ہلاک
میڈرڈ (مانیٹرنگ ڈیسک) مراکش سے تعلق رکھنے والے تقریباً 60 ہزار غیر قانونی تارکین وطن نے سپین کے خودمختار شہر سیوٹا میں داخل ہونے کی کوشش کی، جس کے دوران پیش آنے والے مختلف واقعات میں کم از کم 40 افراد ہلاک ہوگئے، جبکہ متعدد دیگر زخمی ہونے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔
سمندری اور زمینی راستوں سے سرحد عبور کرنے کی کوشش
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ہزاروں تارکین وطن نے مراکش سے سمندری اور زمینی راستوں کے ذریعے سپین کے شہر سیوٹا میں داخل ہونے کی کوشش کی۔ اس غیر معمولی نقل و حرکت کے باعث سرحدی علاقوں میں ہنگامی صورتحال پیدا ہوگئی اور ہسپانوی سکیورٹی فورسز نے بڑے پیمانے پر کارروائیاں کیں۔
رپورٹس کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد میں مزید اضافے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔
سپین کا ردعمل
ہسپانوی وزیراعظم پیڈرو سانچیز نے واقعے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ سیوٹا میں پیش آنے والا واقعہ سپین کی علاقائی خودمختاری کی خلاف ورزی ہے۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ انسانی اسمگلنگ میں ملوث گروہ سپین کی سپریم کورٹ کے فیصلے کی غلط تشریح کرتے ہوئے غیر قانونی ہجرت کو فروغ دے رہے ہیں۔
وزیراعظم کے مطابق غیر قانونی طور پر داخل ہونے والے تارکین وطن کی وطن واپسی کا عمل تیز کر دیا گیا ہے، جبکہ اس سلسلے میں مراکشی حکام کے تعاون کو بھی سراہا گیا۔
سیوٹا اور میلیلا کیوں اہم ہیں؟
سیوٹا اور میلیلا شمالی افریقہ میں واقع سپین کے دو خودمختار علاقے ہیں، جو افریقہ اور یورپی یونین کے درمیان واحد زمینی سرحد رکھتے ہیں۔
یہ علاقے برسوں سے غیر قانونی ہجرت کا اہم راستہ سمجھے جاتے ہیں، جہاں سے ہزاروں تارکین وطن یورپ پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں۔



