انٹر نیشنلبلاگپاکستانتازہ ترینکالم

پاک، سعودیہ و ترکیہ دفاعی معاہدہ

شاہد جاوید ڈسکوی / دستک

 

خطے کی موجودہ تزویراتی، عسکری اور سیاسی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان مشترکہ دفاعی معاہدہ اسلامی دنیا کی تاریخ کا ایک روشن، یادگار اور تاریخ ساز موڑ ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب عالمی سطح پر طاقت کا توازن تیزی سے بدل رہا ہے اور مشرقِ وسطیٰ و جنوبی ایشیا میں متعدد چیلنجز سر اٹھا رہے ہیں، جدہ میں منعقد ہونے والے اس تاریخی اجلاس اور معاہدے نے عالمِ اسلام میں مسرت، اطمینان اور فخر کی ایک بے مثال لہر دوڑا دی ہے۔

امت مسلمہ طویل عرصے سے جس اتحاد، خودکفالت اور اجتماعی دفاع کے خواب دیکھ رہی تھی اس سہ فریقی سمجھوتے کی بدولت وہ خواب ایک حقیقت کا روپ بن کر دنیا کے سامنے نظر آچکا ہے۔ یہ پیش رفت صرف چند دستاویزات پر دستخط تک محدود نہیں ہوں گی بلکہ یہ دنیا کی تین سب سے اہم اسلامی طاقتوں کے درمیان عسکری، معاشی، صنعتی اور تزویراتی انضمام کا آغاز ہوگا، جو آنے والے عشروں تک خطے اور دنیا کی سیاست کو متاثر کرتا رہے گا۔

اس تاریخی اور انقلابی پیش رفت کا تمام تر سہرا سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان، ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان اور پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف سمیت پاکستان کے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے سر جاتا ہے۔ ان رہنماؤں نے اپنے سیاسی تدبر، بے باک عزم اور دور اندیشانہ حکمتِ عملی سے یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ نہ صرف اپنے اپنے ممالک کے مفادات کے محافظ ہیں بلکہ پوری مسلم امت کے وقار اور دفاع کی علامت ہیں۔

سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی میزبانی اور فعال سفارت کاری، صدر رجب طیب اردوان کی جرات مندانہ ویژن اور ٹیکنالوجی کی دنیا میں ترکیہ کا بڑھتا ہوا اثر و رسوخ اور پاکستان کی جانب سے مسلم دنیا کی یکجہتی اور امن کے لیے مسلسل کاوشیں ان تینوں قیادتوں کے اعلیٰ تدبر کو ظاہر کرتی ہیں۔

ان رہنماؤں نے ثابت کیا ہے کہ جب اسلامی دنیا کے فیصلہ ساز اکٹھے ہوتے ہیں تو وہ دنیا کے نقشے پر ایک ناقابلِ تسخیر طاقت بن کر ابھر سکتے ہیں۔اگر ہم اس سہ فریقی اتحاد کی ساخت اور طاقت پر نظر ڈالیں تو یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ تینوں ممالک ایک دوسرے کی قوت میں بے پناہ اضافہ کرتے ہیں۔

یہ ایک ایسا قدرتی اور ہم آہنگ امتزاج ہے جہاں ہر ملک کے پاس وہ کچھ ہے جو دوسرے کو مزید مضبوط بناتا ہے۔ سعودی عرب اسلامی دنیا کا مرکز اور مالی لحاظ سے ایک انتہائی مضبوط و بااثر ریاست ہے۔ اس کے پاس جدید ترین تکنیکی منصوبوں میں سرمایہ کاری کرنے کے لیے بے پناہ معاشی وسائل، خطے میں وسیع سیاسی اثر و رسوخ اور عالمی سطح پر ایک کلیدی حیثیت موجود ہے۔

دوسری جانب پاکستان دنیا کی واحد اسلامی ایٹمی طاقت ہے، جس کے پاس دنیا کی بہترین تربیت یافتہ، جنگ دیدہ اور پیشہ ورانہ مسلح افواج موجود ہیں۔ پاکستان کی فوج نے دہشت گردی کے خلاف جنگ اورمعرکہ حق سمیت دیگر پیچیدہ معرکوں میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے جبکہ اس کی دفاعی پیداوار کی صنعت بھی تیزی سے ترقی کر رہی ہے۔ تیسری اہم ترین کڑی ترکیہ ہے جو نیٹو کی دوسری بڑی عسکری طاقت ہے اور جس نے گزشتہ دو دہائیوں میں دفاعی صنعت کے میدان میں معاشی و تکنیکی انقلاب برپا کیا ہے۔

ترکیہ نے خود کو ایک اسلحہ درآمد کرنے والے ملک سے ایک خودکفیل اور جدید ترین عسکری ٹیکنالوجی برآمد کرنے والے ملک میں تبدیل کر دیا ہے۔ ترکیہ کی شمولیت اس اتحاد کی تکنیکی قوت کو ایک بالکل نئے مقام پر لے جاتی ہے۔ آج ترکیہ اپنی دفاعی ضروریات کا 80 فیصد سے زائد حصہ مقامی طور پر تیار کرتا ہے۔

اس کے تیار کردہ جدید ترین میزائل سسٹمز، بکتر بند گاڑیاں، جنگی بحری جہاز اور آٹھویں نسل کے دفاعی آلات نے دنیا بھر کے جنگی میدانوں میں اپنی برتری ثابت کی ہے۔ بعض جنگ زدہ ممالک میں ترک ٹیکنالوجی کے مظاہرے نے عالمی عسکری ماہرین کو حیران کر دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی درجہ بندی میں ترک دفاعی کمپنیوں کا گراف مسلسل اوپر جا رہا ہے اور ترکیہ دنیا کے سب سے بڑے اسلحہ برآمد کنندگان کی فہرست میں شامل ہو چکا ہے۔ جب ترکیہ کی یہ جدید ٹیکنالوجی، پاکستان کا عسکری تجربہ، جیو پولیٹیکل مہارت و جوہری قوت اور سعودی عرب کی مالی طاقت و سرمایہ کاری ایک جگہ یکجا ہوتی ہیں تو یہ ایک ایسا تزویراتی اتحاد بناتی ہیں جس کا دنیا کی کسی بھی دوسری قوت کے پاس کوئی جواب نہیں ہے۔

اس عظیم الشان معاہدے کی افادیت صرف دفاعی سازوسامان کی خرید و فروخت تک محدود نہیں رہے گی، بلکہ یہ ایک طویل المدتی اور پائیدار شراکت داری کی بنیاد رکھے گی۔ اس سے تینوں ممالک کے درمیان مشترکہ دفاعی پیداوار، ٹیکنالوجی کی منتقلی، جدید ہتھیاروں کی مشترکہ تحقیق و ترقی ، عسکری مشقوں اور انٹیلی جنس شیئرنگ کے بے شمار راستے کھلیں گے۔

پاکستان اور ترکیہ کی ڈرون اور میزائل سازی کی صلاحیتیں جب سعودی سرمائے کے ساتھ ملیں گی تو تینوں ممالک غیر ملکی اسلحہ ساز کمپنیوں پر اپنا انحصار مکمل طور پر ختم کر سکیں گے۔ اس سے نہ صرف ان کی معیشتوں کو سہارا ملے گا اور اربوں ڈالر کے مبادلہ کی بچت ہوگی بلکہ تینوں ممالک کے نوجوانوں کے لیے جدید ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور سائنس کے شعبوں میں روزگار اور تحقیق کے بے شمار مواقع پیدا ہوں گے۔

خطے کی موجودہ جغرافیائی اور سیاسی صورتحال میں یہ اتحاد وقت کا سب سے بڑا تقاضا تھا۔ مشرقِ وسطیٰ، بحیرہ احمر اور آبنائے ہرمز میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور غیر یقینی حالات کے پیش نظر مسلم دنیا کو ایک ایسے مضبوط نقطہِ نظر اور طاقتور بلاک کی اشد ضرورت تھی جو خطے میں امن اور استقامت کا ضامن بن سکے۔

یہ معاہدہ کسی کے خلاف جارحیت کے لیے نہیں بلکہ خطے میں طاقت کا توازن برقرار رکھنے اور متوقع خطرات کا مؤثر سدِباب کرنے کے لیے ایک معلوماتی اور دفاعی ڈھال کا کام کرے گا۔ پاکستان کی جانب سے سفارتی سطح پر ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کی راہ ہموار کرنے اور آبنائے ہرمز پر اتفاقِ رائے پیدا کرنے کی کوششیں یہ ظاہر کرتی ہیں کہ یہ اتحاد محض عسکری طاقت کا مظاہرہ نہیں بلکہ خطے میں پائیدار امن، تنازعات کے پرامن حل اور سفارتی توازن کے قیام کا علمبردار ہے۔

عالمِ اسلام کے عوام کے لیے یہ دن ایک عید کی مانند ہے کیونکہ اس معاہدے نے مسلم امت کو ایک نیا خوداعتماد اور وقار بخشا ہے۔ دنیا بھر کے مسلمان جو اکثر اپنے مسائل اور تنازعات میں خود کو تنہا محسوس کرتے تھے آج پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کی اس عظیم پیش رفت پر شاداں و فرحاں ہیں۔ گلی محلات، میڈیا اور تجزیاتی حلقوں میں اس معاہدے کا خیرمقدم کیا جا رہا ہے اور تینوں ممالک کے سربراہان کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا جا رہا ہے۔

اس اتحاد نے یہ پیغام بالکل واضح کر دیا ہے کہ امتِ مسلمہ اب اپنے دفاع اور تحفظ کے لیے کسی بیرونی طاقت کی محتاج نہیں رہی بلکہ وہ اپنے وسائل، اپنی صلاحیتوں اور اپنی قیادت کی بدولت اپنی قسمت کا فیصلہ خود کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔اس معاہدے کے اثرات دور رس اور مستقل ہوں گے۔

یہ ایک ایسا سنگِ میل ہے جو آنے والی نسلوں کو ایک محفوظ، مستحکم اور ترقی یافتہ ماحول فراہم کرے گا۔ یہ اتحاد ثابت کرتا ہے کہ جب نیتیں صاف ہوں، عزم پختہ ہو اور قیادت میں بصیرت ہو تو جغرافیائی دوریاں اور سیاسی رکاوٹیں ختم ہو جاتی ہیں۔ سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کا یہ مشترکہ دفاعی قدم صرف ایک تزویراتی معاہدہ نہیں بلکہ اسلامی تاریخ کے ایک شاندار اور سنہری باب کا آغاز ہے، جس پر ہر مسلمان کو فخر ہے اور جو آنے والے وقت میں خطے و دنیا میں امن، توازن اور اسلامی یکجہتی کا سب سے بڑا ستون ثابت ہوگا۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button