google-site-verification=lY9Q0ltSKw-SRzooqMn9sstbtAm06IiRncsiBe1xwnw
بلاگپاکستانتازہ ترینجرم-وسزاصحتعلاقائی خبریںکالم

محکمہ پرائمری ہیلتھ کے تیس مار خان

فیصل خان درانی

افسر جب کسی ماتحت پر مہربان ہو جائے تو اسے سات خون بھی معاف کر دیے جاتے ہیں پھر من پسند افسر کے لیے قانون کو موم کی ناک بنا کر من پسند کی خواہشات کے مطابق ڈھال دیا جاتا ہے۔ کچھ اسی طرح کی چند مثالوں کا محکمہ پرائمری ہیلتھ میں انکشاف ہوا ہے یہ انکشاف اس محکمے کے بارے ہوا ہے جہاں پر تعینات سیکرٹری نادیہ ثاقب کے حوالے سے زبان زد و عام پر ہے کہ وہ انتہائی محنتی اور قانون پر عمل درآمد کرانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتی مگر کاریگر افسروں نے ان کی کاوشوں کو بھی چکمہ دے رکھا ہے۔

محکمہ پرائمری ہیلتھ سے موصول ہونے والی چند دستاویزات چیخ چیخ کر قانون کی دھجیاں اڑانے کے اقدامات کو آشکار کر رہی ہیں حکومت پنجاب نے صوبے بھر میں کام کے بوجھ کو کم کرنے کے لیے پنجاب میں دو سیکرٹریٹ تشکیل دیئے اور جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ کے لیے کروڑوں روپے کے اخراجات کیے گئے۔

حکومت کی پالیسیوں کے مطابق جنوبی پنجاب میں نہ صرف نئے دفاتر کی تشکیل کی گئی بلکہ ہر محکمہ کے محنتی اور قابل افسران کو جنوبی پنجاب میں تعینات کر دیا گیا مگر انتہائی چابک دستی اور مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ڈی جی نرسنگ کے عہدے پر مارچ 2025 سے اب تک سولہ ماہ گزرنے کے باوجود عمل درآمد نہ ہو سکا۔

سرکاری دستاویزات کے مطابق حکومت پنجاب آئی این سی نے آئین پاکستان کے آرٹیکل ون139 رول 49 پنجاب گورنمنٹ رول آف بزنس 2011 کے تحت مارچ 2025 میں ایک ترمیمی نوٹیفکیشن جاری کیا جس میں سیریل نمبر 15 بی کے تحت جنوبی پنجاب میں ڈائریکٹر جنرل نرسنگ کی نئی سیٹ تشکیل پائی گئی تو شعبہ نرسنگ کا ایک طاقتور مافیا اس پر عمل درآمد کے خلاف سیسہ پلائی دیوار بن گیا۔

کیونکہ طاقتور مافیہ کسی حالت میں بھی اختیارات کی تقسیم نہیں چاہتا اور صوبے بھر کے نرسنگ کالجز اور ہسپتالوں پر سیاہ و سفید کا مالک بنے رہنا چاہتا ہے۔ محکمہ کی بے شمار قابل اور معیار پر پورا اترنے والی سینئر نرسز نے حکومت پنجاب ہی کے جاری کیے گئے نوٹیفکیشن پر عمل درآمد کرانے کی سر توڑ کوششیں کیں مگر نرسنگ میں موجود طاقتور مافیا کی جانب سے کھڑی کی گئی آہنی دیوار کو قانون کے دائرے میں رہ کر عبور کرنے کی بھی تمام کوششوں کو ناکام بنا دیا۔

شعبہ نرسنگ کی چند مخلص افسران کا کہنا ہے کہ ڈائریکٹر جنرل نرسنگ پنجاب کا عہدہ اتنا پرکشش ہے خاص طور پر اس لیے بھی کہ ڈائریکٹر جنرل نرسنگ پنجاب نرسنگ کونسل کی ممبر ہے اور پنجاب میں بھی پرائیویٹ نرسنگ کالجز کے قیام میں اپنا اہم کردار ادا کرتی ہے۔

دوسری جانب مختلف افراد کی درخواستوں پر ایف ائی اے میں گھوسٹ نرسنگ کالجز کی انکوائریاں چل رہی ہیں جن میں کروڑوں روپے وصول کرنے کے الزامات ہیں اس طرح مخصوص نرسنگ مافیا کے پرائمری ہیلتھ کی طاقتور سیکرٹری کو ان کے ماتحت عملے کی آشیر باد سے ناکون چنے چبا دیے گئے ہیں اور نوٹیفکیشن پر عمل درآمد نہ ہو سکا ہے۔

پنجاب کی نرسز خاص طور پر جنوبی پنجاب کی نرسز اور طالبات کا مطالبہ ہے کہ جنوبی پنجاب میں ڈائریکٹر جنرل نرسنگ کی سیٹ پر کسی اہل افسر کی تعیناتی کی جائے تاکہ ان کو اپنے مسائل کے حل کے لیے لاہور نہ آنا پڑے اسی طرح ان کا مطالبہ ہے کہ جنوبی پنجاب میں قائم گھوسٹ نرسنگ کالجز کے خلاف کاروائی کرتے ہوئے ان کی تشکیل میں ملوث نرسنگ افسران کو بھی کیفر کردار تک پہنچایا جائے یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ جنوبی پنجاب میں ڈی جی نرسنگ کے عہدے پر اہل افسر کی تعیناتی سے حکومت کو ایسے لا تعداد کرپشن کے رازآشکار ہوں گے جو محکمہ صحت کی بنیادیں ہلا دیں گے۔

پرائمری ہیلتھ کے کاریگر افسران کا ایک اور کارنامہ منظر عام پر آیا ہے جس میں ایک تحصیل پاپولیشن افسر صائمہ ڈار پر نوازشات کی برسات کرتے ہوئے سیکرٹریٹ اور دیگر الاؤنسز سے نوازا جاتا رہا آڈٹ ہوا اعتراضات لگے مگر زمین جنبد نہ جنبد گل محمد کے مترادف افسران کے سر پر جوں تک نہ رینگی اور نوازشات کی بارشیں ہوتی رہیں۔

ایک تحصیل پاپولیشن ویلفیئر افسر کو سیکرٹریٹ کی سیٹ پر اس طرح رکھا گیا کہ تمام خزانے کی چابیاں اس کے حوالے کر کے سیاہ و سفید کا مالک بنا دیا۔آڈٹ پیرا نمبر دو پیفرا رول کے مطابق آڈٹ نےصائمہ ڈار سے غیر قانونی طور پر وصول کیے جانے والے الاؤنس واپسی کی مد میں نو لاکھ چار ہزار دو سو 98 روپے واپس لینے کی ہدایت جاری کیں مگر آڈٹ کے ان احکامات کو ہوا میں اڑا دیا گیا اور طاقت کے سرچشمہ افسران نے ایک بار پھر اپنی حاکمیت قائم کرتے ہوئے قانون قاعدے اور ضابطوں کو پاؤں تلے روند ڈالا ۔

سیکشن افسر جنرل کی جانب سے پندرہ مارچ 2018 کو وضاحت طلب کرتے ہوئے پوچھا گیا کہ تنخواہ میں تبدیلی کا لیٹر ڈرائنگ اینڈ ڈسبرسنگ افسر کی وساطت سے بھیجنے کے بجائے براہ راست کیوں بھیجا گیا۔ چوبیس اپریل 2018 کو تحصیل پاپولیشن ویلفیئر آفیسر صائمہ ڈار کو نوٹس جاری کرتے ہوئے لکھا گیا کہ مجاز اتھارٹی کی منظوری کے بغیر پنجاب ڈیلیگیشن اف فائننشل پاور رولز 2016 کی خلاف ورزی کی گئی ہے جس پر انہیں محتاط رہنے کی ہدایت کی گئی۔

پانچ دسمبر 2024 کو محکمہ پاپولیشن سیکرٹیریٹ نے مختلف عہدوں پر تعینات چھ اہلکار مرزا محمد قاسم،فیض احمد، فراز مسیح، شیرون ظفر،محمد صدیق، محمد شہزاد کو تو پاپولیشن سیکرٹریٹ سے واپس ان کے محکمہ پاپولیشن میں بھیج دیا مگر سیکشن افسر بجٹ جو کہ تحصیل پاپولیشن افسر ہیں کو واپس نہ بھیجا جا سکا۔

اسی طرح اکتیس جنوری 2025 کو سیکشن افسر جنرل نے ڈائریکٹر ٹی ار این پی کو لیٹر لکھا کہ 2014 سے 2021 تک جن افسران کو قوانین سے ہٹ کر الاؤنس دیے گئے ہیں جو صرف سیکرٹریٹ ملازمین کو مل سکتے ہیں وہ واپس کیے جائیں مگر اس پر طاقتور افسران کی مداخلت سے عمل درامد نہ ہو سکا۔

بائیس اپریل 2025 کو ایک بار پھر طاقتور افسران نے تحصیل پاپولیشن ویلفیئر افسر کو سیکشن افسر بجٹ، سیکشن افسر جنرل اور ڈرائنگ اینڈ ڈسپرسنگ افیسر کی ذمہ داریاں سونپ دیں کیونکہ محکمے میں ان سے قابل افسران کا قحط ہے۔ دستاویزات کے مطابق محکمے کو ڈیپارٹمنٹل آڈٹ کمیٹی کی تیس اگست اور اٹھ دسمبر کو ہونے والی میٹنگ میں بھی بارہا آگاہ کیا گیا کہ پیرا ایک سے تین ابھی تک زیر التوا ہیں اور سات مختلف افسران کو زائد الاؤنسز کی ادائیگی پر ذمہ داری فکس کی جائے جس پر عمل درآمد نہ ہو سکا۔

محکمے سے حاصل کی جانے والی پے سلپ کے مطابق تحصیل پاپولیشن ویلفیئر افیسر کو دو لاکھ 77 ہزار 970 روپے تنخواہ دی جا رہی ہے جس میں سول سیکرٹریٹ الاؤنس بیاسی ہزار چھ سو نوے، دو سپیشل الاؤنس سات ہزار پانچ سو ترانوے اور چار ہزار نو سو پچیس ، یوٹیلٹی الاؤنس 14 ہزار دیا جا رہا ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button