انٹر نیشنلبلاگپاکستانتازہ ترینتعلیم/ادب

محبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا تقاضہ

تحریر: فرخ ریاض بٹ

اللہ تعالیٰ کے آخری رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کا تعلق نہ کسی خاص مہینے سے ہے، نہ کسی خاص مقام اور موسم سے، یہ تو وہ سدابہار کیفیت ہے جو ایمان کے پہلے لمحے سے زندگی کے آخری سانس تک مومن کا سرمایہ زیست ہے، شرط ایمان کی ہے۔

شعوری طور پر، حتیٰ کہ صرف رسمی طور پر بھی جب ایک شخص اپنے مسلمان ہونے کا اعلان یہ کہہ کر کرتا ہے کہ وہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کو اپنا وحدہ لاشریک رب مانتا ہے اور خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ کا سچا رسول اور بندہ تسلیم کرتا ہے ، تو وہ اللہ اوررسول صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک پیمانِ محبت باندھتا ہے اور اپنے آپ کو اپنے رب، مالکِ حقیقی اور اپنے رہنما، قائد، محسن اور ہادی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک ایسے رشتے میں منسلک کرتا ہے جو اسے رنگ و نسل، خون اور مقام کی قید سے آزاد امت مسلمہ اور امت محمدیہ کا ایک جزولاینفک بنادیتا ہے۔

بلاشبہہ اس رشتے کا اصل لطف شعوری تعلق کی صورت میں ہے لیکن یہ بھی اللہ کا انعام ہے کہ جس شخص نے صرف زبان سے اظہار اور دل سے اقرار کیا ہو، اور اس نے اس رشتے سے وابستہ ہونے کے مطالبات اور شرائط و واجبات پر غور نہ بھی کیا ہو، تب بھی وہ اپنے قائد و رہنما محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کو دل کی ہر دھڑکن میں محسوس کرتا ہے اور یہ محبت ساری زندگی اس کی رگوں میں خون کی شکل میں گردش کرتی رہتی ہے۔

یہ محبت، یہ تعلق، یہ وابستگی ربیع الاول میں کچھ زیادہ واضح شکل اس لیے اختیار کرلیتی ہے اور ذکررسول صلی اللہ علیہ وسلم امت کی زندگی میں نئی روح پھونکنے کا ذریعہ بنتا ہے، لیکن یہ حقیقت بھی ہر لمحے سامنے رکھنا ضروری ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کا تعلق کسی خاص مہینے سے نہیں بلکہ ایمان کے پہلے لمحے سے زندگی کے آخری سانس تک مومن کا سرمایہ زیست ہے، شرط ایمان کی ہے۔

عشق رسول سے مراد مومن کے دل کا ایسا لگاﺅکہ وہ اس ذات کے سامنے اپناسب کچھ لٹانے کو تیار ہو جائے، اس کے والدین ،اولاد، بہن بھائی، ازواج، قوم، قبیلہ، مال و دولت، گھر، تجارت، عیش پسند زندگی اور اس کے سب لوازمات اللہ اور اس کے رسولکے مقابلے میں کچھ بھی حیثیت نہ رکھتے ہوں بلکہ اسے اپنے آپ سے بھی وہ محبت نہ ہو جیسی خالص محبت اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہو،وہ ہر آن اس فکر میں غلطاں رہے کہ اللہ اور اس کے رسولکو کس طرح خوش اور راضی رکھے۔

اپنے قول اور عمل سے مسلسل اسی محبت کو پیش کرتا رہے اور یہ اس کے اعمال کی فہرست میں سب سے قیمتی توشہ ہو،اگر مومن کی زندگی سے محبت رسول کو نکال دیا جائے تو ایمان نامکمل رہ جاتا ہے۔ قرآن کریم میں رسول ِکریم سے محبت کو ایمان کے واجبات میں شامل کیا گیا ہے۔ارشاد ہے:”اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! کہہ دو کہ اگر تمھارے باپ اور تمھارے بیٹے، اور تمھارے بھائی، اور تمھاری بیویاں اور تمھارے عزیز واقارب اور تمہارے وہ مال جو تم نے کمائے ہیں، اور تمھارے وہ کاروبار جن کے ماند پڑ جانے کا تم کو خوف ہے، اور تمھارے وہ گھر جو تم کو پسند ہیں، تم کو اللہ اور اس کے رسولاور اس کی راہ میں جہاد سے عزیز تر ہیں تو انتظار کرو یہاں تک کہ اللہ اپنا فیصلہ تمہارے سامنے لے آئے اور اللہ فاسق لوگوں کی رہنمائی نہیں کیا کرتا“۔ (التوبہ، ۲۴)۔

یہاں اللہ تعالیٰ نے محبتوں کے رنگ اور ان کی مثالیں بیان کر دی ہیں۔ کون سے تعلقات، کون سے روابط اور کون سے لذائذ ایمان کے خلاف ہوں گے تاکہ انہیں ترازو کے ایک پلڑے میں رکھا جائے اور ایمان اور اسلام کے تقاضوں کو دوسرے پلڑے میں رکھ کر مشخص اور ممثل انداز میں بتایا جائے۔خون، نسب کے رشتے اور قرابت داریاں اور اموالِ تجارت اور زندگی کی لذتوں کو ایک پلڑے میں رکھ کر دوسرے میں حب الٰہی، حب رسول، اور جہاد میں رکھ کر دعوت انتخاب دی جاتی ہے۔ یہ بڑی مشقت آمیز راہ ہے اور نہایت ہی عظیم ذمہ داری! یہ پوری امت مسلمہ سے مطالبہ ہے۔

اور یہ اللہ کی نہایت کریمی ہے کہ اس نے اس ضعیف انسان کے اندر اس قدر صلاحیت اور طاقت رکھی ہے کہ وہ اس قدر مخلصانہ معیار پیش کرے اور اس قدر مشکلات برداشت کرے۔ اور اس کو اس خلوص اور شعور کے اندر وہ لذت دی ہے کہ وہ اس کی خاطر تمام لذات ارضی کو خیرباد کہہ سکتا ہے۔ اور جب بھی اس دنیا کی سفلی لذات اس کا دامن کھینچتی ہیں تو وہ اپنی نگاہیں بلند افق پر ایک روشن نصب العین پر مرکوز کر دیتا ہے، اور ان سب سے دامن چھڑا لیتا ہے۔

جب دلوں میں محبت رسول جاگزیں ہو جاتی ہے تو اس کا اثر افعال میں نظر آتا ہے، اور بظاہر ایک عام عمل بھی اس گہری محبت کے اثر سے خاص ہو جاتا ہے۔آپ سے محبت کا اصل اور بڑا مظہر آپ کی پیروی کرنا ہے۔مومن کی زندگی کا سب سے بڑا مقصد اللہ کی محبت حاصل کرنا ہے، اور وہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے احکام کی اطاعت اور تعمیل میںہی ملتی ہے، اور وہی اس کا مقصودِ اوّل ہے۔رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت جنت کا راستہ ہے، اور یہ اللہ کی محبت پانے کا دروازہ ہے۔

یہ مومن کے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے اخلاص کی دلیل ہے۔جب مومن اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلمسے محبت کرتا ہے تو ان کی اطاعت اور اتباع میں اس کے قدم تیز ہو جاتے ہیں، اور جس کام سے آ پ نے منع کیا یا نا پسندیدگی کا اظہار کیا وہ اس کو چھوڑ دیتا ہے، اور ایسی چیزوں سے کنارہ کشی اختیار کر لیتا ہے۔

اور اس کی محبت کی سچائی اور اخلاص کی دلیل یہ ہے کہ محبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم فقط اس کے دل میں بسیرا نہیں کرتی بلکہ وہ اس کی خوشبو سے دوسروں کو بھی معطر کرنے لگتا ہے۔اللہ تعالیٰ کا کتنا بڑا کرم ہے کہ اس نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کو ایمان کا حصّہ بنایااور اسی محبت اور اطاعت کو اللہ کی محبت پانے کا ذریعہ بھی قرار دیا،اسی لیے اس محبت کے حصول کے لیے اپنے نفس کی تربیت کرنا ضروری ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button