
رات کے دو بج رہے تھے۔۔۔۔گھرمیں سب سو رہے تھے، مگروہ جاگ رہا تھا۔۔۔۔ وہ کئی برس سے اس گھر میں رہتا تھا، لیکن اس رات پہلی باراسے محسوس ہوا کہ اس گھرمیں ایک کمرہ ایسا بھی ہے جس کا دروازہ اس نے کبھی نہیں کھولا۔۔۔۔ وہ اٹھا، دبے قدموں سے برآمدے میں آیا اور دیوار کے آخری سرے پرجا کر رک گیا، وہاں واقعی ایک دروازہ تھا۔۔۔۔ پرانا سا دروازہ ۔۔۔۔ اس پر دھول جمی ہوئی تھی، جیسے برسوں سے کسی نے اسے ہاتھ نہ لگایا ہو، اس نے حیرت سے بیوی کو آواز دینے کیلئے منہ کھولا، پھر رک گیا۔۔۔۔
نہیں۔۔۔۔ یہ دروازہ تو گھر کے نقشے میں بھی نہیں تھا، وہ کچھ دیراسے دیکھتا رہا، پھرنہ جانے کیوں اس کا ہاتھ آگے بڑھا اور دروازے کے ہینڈل پرجا ٹھہرا، ہینڈل ٹھنڈا تھا، اس نے آہستہ سے دروازہ کھولا، اندر کچھ بھی نہیں تھا، نہ میز، نہ کرسی، نہ الماری، صرف ایک کھڑکی تھی، جس سے چاند کی ہلکی سی روشنی اندر آ رہی تھی۔۔۔۔ اورفرش پرایک پرانی تصویر پڑی تھی۔۔۔۔ اس نے تصویر اٹھائی، تصویرمیں وہ تھا، مگرعمرشاید دس سال تھی، وہ چونک گیا، تصویر کے پیچھے صرف ایک جملہ لکھا تھا ’’ مجھے کب سے بھول گئے ہو۔۔۔۔؟ ‘‘
اس کے ہاتھ کانپنے لگے، وہ تصویرکو دیکھتا رہا، پھراچانک اسے احساس ہوا کہ تصویر میں موجود بچہ مسکرا نہیں رہا تھا، وہ رو رہا تھا۔۔۔۔ اورپہلی بار اسے سمجھ آیا کہ یہ کمرہ گھر کے اندر نہیں تھا۔۔۔۔ یہ کمرہ تو اس کے اندر تھا۔۔۔۔ شاید ہم سب کے اندرایک ایسا ہی کمرہ ہوتا ہے۔۔۔۔ ایک خالی کمرہ ۔۔۔۔ جس میں ہماری وہ خواہشیں رہتی ہیں جنہیں ہم نے وقت کی کمی کہہ کر چھوڑ دیا۔۔۔۔ وہ لوگ رہتے ہیں جنہیں ہم نے مصروفیت کے نام پر کھو دیا۔۔۔۔ وہ خواب رہتے ہیں جنہیں ہم نے حالات کے سامنے دفن کر دیا۔۔۔۔ اورکہیں ایک کونے میں ہمارا وہ بچپن بھی بیٹھا ہوتا ہے جو آج بھی ہم سے پوچھتا ہے۔۔۔۔ ’’ تم بڑے تو ہوگئے۔۔۔۔ مگرخوش کب ہوئے۔۔۔۔؟ ‘‘۔۔۔۔
وہ دیرتک اس بچے کو دیکھتا رہا،پھراسے اپنا بچپن یاد آنے لگا،وہ بچہ جو ہرشام گلی میں کرکٹ کھیلنا چاہتا تھا، مگرباپ کی ڈانٹ سے کتاب کھول کربیٹھ جاتا تھا،وہ لڑکا جو بڑا ہو کر مصنف بننا چاہتا تھا، مگراسے بتایا گیا کہ ’’ تحریروں ‘‘ سے گھر نہیں چلتے،وہ نوجوان جو ایک دن شہر چھوڑ کر اپنی مرضی کی زندگی جینا چاہتا تھا، مگر پھر ذمہ داریوں نے اسے روک لیا،زندگی چلتی رہی۔۔۔۔ نوکری کی، شادی ہوئی، بچے ہوئے، گھر بنا۔۔۔۔
لیکن اس سب کے درمیان ایک چیز کہیں پیچھے رہ گئی۔۔۔۔’’ وہ خود ‘‘۔۔۔۔اس نے تصویر دوبارہ دیکھی، اب اسے سمجھ آ رہی تھی کہ خالی کمرہ خالی نہیں تھا، اس میں اس کی بہت سی ادھوری خواہشیں پڑی تھیں، کچھ خواب جن پرگرد جم چکی تھی، کچھ معافیاں جو کبھی مانگی نہیں گئیں، کچھ محبتیں جن کا اظہارنہیں کیا گیا۔۔۔۔ اور کچھ آنسو، جو مرد ہونے کے نام پر پی لیے گئے تھے۔۔۔۔ وہ اچانک مسکرا دیا۔۔۔۔ شاید انسان کی سب سے بڑی مصروفیت یہی ہے کہ وہ ساری عمر دنیا کے کمروں کو سجاتا رہتا ہے، مگر اپنے اندر کے کمرے کا دروازہ کھولنے سے ڈرتا ہے، کیونکہ وہاں کوئی اور نہیں ہوتا۔۔۔۔’’ وہاں صرف ہم ہوتے ہیں ‘‘۔۔۔۔
وہ کمرے سے باہرنکل آیا،مگراس رات پہلی باراسے اپنے گھرکی خاموشی عجیب محسوس ہوئی، بیوی سو رہی تھی، بچے اپنے کمروں میں تھے، موبائل میز پرخاموش پڑا تھا، سب کچھ اپنی جگہ موجود تھا، مگراسے لگ رہا تھا جیسے زندگی میں سے کوئی بہت اہم چیز غائب ہے، وہ آئینے کے سامنے جا کھڑا ہوا، کچھ دیراپنے چہرے کو دیکھتا رہا، پھر خود سے پوچھا ’’ آخرمیں کب آخری بارخوش ہوا تھا۔۔۔؟ ‘‘۔۔۔۔ اسے جواب نہیں ملا ۔۔۔۔
اسے یاد آیا، وہ دوسروں کی خوشی کیلئے کتنی بار مسکرایا تھا، مگراپنی خوشی کیلئے شاید برسوں سے وقت نہیں نکال پایا۔۔۔۔ ہم عجیب لوگ ہیں، گھرکے ہرفرد کی ضرورت یاد رکھتے ہیں، مگر اپنی ضرورت بھول جاتے ہیں، بچوں کے خواب پورے کرتے ہیں، اپنے خوابوں کو سمجھاتے ہیں کہ اب تمہاری عمر نہیں رہی، ماں باپ کی خواہشیں پوری کرتے ہیں، دوستوں کے دکھ سنتے ہیں، دنیا کے مطالبے پورے کرتے ہیں۔۔۔۔
اورپھرایک دن اچانک معلوم ہوتا ہے کہ اندر کا وہ کمرہ بہت عرصے سے بند ہے۔۔۔۔ وہ دوبارہ اسی دروازے کے سامنے جا کھڑا ہوا، اس بار دروازہ کھولنے کی ہمت نہیں ہوئی، کیونکہ اسے ڈر تھا کہ اندر شاید کوئی خواب اب بھی زندہ ہو۔۔۔۔ اورزندہ خواب ، انسان سے حساب مانگتے ہیں ۔۔۔۔
صبح ہونے والی تھی،وہ دوبارہ اپنے بستر پرآ گیا، مگراس رات اس کی آنکھوں میں نیند نہیں تھی،وہ سوچ رہا تھا، آخراس خالی کمرے کا کیا کرے۔۔۔؟ اسے بند رہنے دے یا کبھی کبھار وہاں جا کر اپنے آپ سے ملتا رہے۔۔۔۔؟ پھراسے خیال آیا، شاید زندگی کا مقصد ہرخواب پورا کرنا نہیں، مگر یہ بھی ضروری نہیں کہ ہرخواب کو دفن کردیا جائے۔۔۔۔
کچھ خواب صرف اس لیے زندہ رہنے چاہئیں کہ وہ ہمیں یاد دلاتے رہیں کہ ہم صرف ذمہ داریوں کا مجموعہ نہیں ہیں، ہم ایک انسان بھی ہیں، ہم سب کے اندر ایک خالی کمرہ ہے،کسی کے اندرادھوری محبت رکھی ہے، کسی کے اندرکوئی خواب، کسی کے اندر بچپن، کسی کے اندر کوئی ایسا شخص جس سے وہ کبھی دل کی بات نہیں کہہ سکا۔۔۔۔ مسئلہ خالی کمرے کا نہیں، مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے اس کا دروازہ کھولنا چھوڑ دیا ہے، کبھی تنہائی میں خود سے مل کردیکھیے، شاید اندرکوئی آپ کا انتظارکررہا ہو۔۔۔۔ وہ شخص ۔۔۔۔ جسے دنیا کی دوڑ میں کہیں بہت پیچھے چھوڑ آئے تھے۔۔۔۔ اور شاید وہی۔۔۔۔۔۔ آپ کا اصل وجود ہے۔۔۔۔



