انٹر نیشنلبلاگپاکستانتازہ ترینتعلیم/ادبکالم

محمد شان الحق حقی دہلوی کی علمی و ادبی جہت اورپروفیسرعرفان شاہ

تحریر:محمدعبداللہ سدوزئی

تحریر:محمدعبداللہ سدوزئی
​ڈاکٹرصاحب سے میری پہلی شناسائی فون پر ہوئی تھی بڑی ہی بردباری اور شفقت سے پیش آئے اور پھر ایک دن کراچی سے شہر اقتدار نجی کام کے لیے آئے تو ان سے بالمشافہ ملاقات کا بھی شرف حاصل ہوا ۔ پروفیسر ڈاکٹر عرفان شاہ صاحب سے یہ نیاز مندی اب مستقل تعلق داری میں بدل گئی۔ علمی ادبی وضع داری، تہذیبی رکھ رکھاؤ شائشتہ گفتگوان کی شخصیت اورتخلیقات میں جا بجا نظر آتا ہے۔

ڈاکٹرصاحب مغلیہ سلطنت کے آخری فرمانروا بہادر شاہ ظفر کے خاندان کے چشم وچراغ ہونے کی نسبت سے اپنے نام کے ساتھ شاہ استعمال کرتے ہیں۔حقی صاحب کی خدمات کے حوالے سے اپنی علمی کاوش "نابغۂ لسان و ادب محمد شان الحق حقی دہلوی” میرے ذوق مطالعہ کی نظر کی میں نے کتاب پرسرسری نظر ڈالی تو اپنی کم علمی کا احساس بڑھتاگیا ساتھ یہ اطمینان قلب بھی ہوا کہ الحمدللہ اب بھی چند غیر جانبدار محقیقین علم وادب کی ادب کی موجودہ ناگفتہ بہ حالات کے باوجود معاشرےمیں علمی موتی بکھیر رہے ہیں۔

اردو ادب کی تاریخ میں کچھ شخصیات ایسی ہوتی ہیں جنہیں صرف شاعر، ادیب یا محقق کہنا ان کے مقام کو محدود کر دیتا ہے۔ شان الحق حقی صاحب بھی انہی نابغۂ روزگار اہلِ علم میں شامل تھے جنہوں نے اردو زبان و ادب کی مختلف اصناف میں اپنی گہری چھاپ چھوڑی ہے۔ وہ شاعر تھے، نقاد تھے، افسانہ نگار تھے، مترجم تھے، صحافی تھے اور سب سے بڑھ کر زبان کے مزاج، لفظ کی صحت اور اردو کی علمی روایت سے گہری وابستگی رکھنے والے لغت نویس تھے۔ ان کی زندگی اور خدمات کا مطالعہ دراصل اردو ادب کے ایک اہم دور کا مطالعہ ہے۔

شان الحق حقی صاحب کی شخصیت اور فن پر ڈاکٹر صاحب کی تحقیقی کاوش اس اعتبار سے بہت اہم ہیں کہ انہوں نے حقی صاحب کو محض ایک ادبی شخصیت کے طور پر پیش نہیں کیا بلکہ ان کی زندگی، علمی خدمات، ادبی جدوجہد اور ان کے ساتھ ہونے والے بعض ناقدرانہ رویوں کو بھی دستاویزی انداز میں سامنے لایا ہے۔ ڈاکٹر عرفان شاہ وہ پہلے محقق ہیں جنہوں نے شان الحق حقی کی شخصیت پر پی ایچ ڈی کا مقالہ تحریر کیا۔ ان کی یہ تحقیق اردو تحقیق کے میدان میں ایک قابلِ قدر اضافہ ہے۔

انہوں نے اپنی تحقیق میں شان الحق حقی کی زندگی اور فن کو آٹھ ابواب سوانح وشخصیت ، شاعری، صحافت، افسانہ نگاری، تراجم، تنقید، ترقی اردولغت بورڈ لغت نویسی اور دیگر ادبی خدمات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ہے۔ یہ کام اس لیے بھی اہم ہے کہ شان الحق حقی صاحب جیسی بڑی شخصیت کے بارے میں بکھرا ہوا مواد یکجا کر کے ایک مربوط علمی وادبی کی تاریخ کو محفوظ کردیا ہے۔

اپنی نجی مصروفیت کے باعث کتاب کے مطالعہ میں باربار تعطل آتارہا لیکن ڈاکٹرشاہ کی محبت اور حقی صاحب کےایک روحانی خاندان کے چشم چراغ ہونے کے ناطے اس علمی کاوش کا ادراک کرنا باعث ثواب گردانتے ہوئے اس کو پڑھنا شروع کیا تو ورطہ حیرت میں ڈوبتا گیا کہ کوئی انسان اس قدر بھی علمی و ادبی کام کر سکتا ہے جو تائید ایزدی بغیر ناممکن لگتا ہے۔

شان الحق حقی کا تعلق دہلی کے ایک ایسے خاندان سے تھا جس میں علم، ادب اور زبان کی روایت موجود تھی۔ ان کے خاندان کا سلسلہ حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ اور ان کے علمی خانوادے سے ملتا ہے۔ ان کے والد مولوی احتشام الدین دہلوی خود ایک بلند پایہ عالم، ادیب اور زبان دان تھے۔ فارسی اور انگریزی زبان پر ان کی گہری دسترس تھی۔ وہ علی گڑھ سے وابستہ رہے، فارسی کے استاد رہے اور علمی حلقوں میں عزت کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔ دیوانِ حافظ کے منظوم ترجمے “ترجمان الغیب” اور “مطالعۂ حافظ” جیسی تصانیف ان کے علمی مقام کا ثبوت ہیں۔

مولوی احتشام الدین دہلوی اردو لغتِ کبیر کے منصوبے سے بھی وابستہ تھے۔ یہی وجہ ہے کہ شان الحق حقی کو لغت نویسی، زبان کی صحت اور الفاظ کی تحقیق کا ذوق ورثے میں ملا۔ حقی صاحب نے اردو کو محض اظہار کا ذریعہ نہیں سمجھا بلکہ اسے تہذیبی، علمی اور تاریخی سرمایہ تصور کیا۔ ان کی لغت نویسی کی خدمات اردو زبان کے لیے ان کے گہرے احساسِ ذمہ داری کی علامت ہیں۔

شان الحق حقی کی ابتدائی زندگی دہلی کے تہذیبی اور علمی ماحول میں گزری۔ ان کی پرورش ایسے گھرانے میں ہوئی جہاں تعلیم، ادب، تہذیب اور زبان کی اہمیت کو بنیادی حیثیت حاصل تھی۔ بچپن ہی سے ان میں ذہانت، مشاہدے اور مطالعے کا شوق نمایاں تھا۔ ان کی شخصیت میں دہلی کی تہذیب کی شائستگی بھی تھی اور علی گڑھ کی علمی روایت کا اثر بھی۔

زمانۂ طالب علمی میں شان الحق حقی تحریکِ آزادی سے متاثر ہوئے۔ وہ قائداعظم محمد علی جناح کی شخصیت سے گہری عقیدت رکھتے تھے اور مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کی طلبہ سیاست میں سرگرم رہتے تھے۔ ان سرگرمیوں کے باعث برطانوی حکومت کی خفیہ اداروں نے ان کے بارے میں رپورٹیں مرتب کیں اور انہیں حکومت مخالف عناصر میں شمار کیا گیا۔ یہ واقعہ اس بات کی دلیل ہے کہ حقی صاحب صرف کتابوں اور ادب کی دنیا تک محدود نہیں تھے بلکہ اپنے عہد کے سیاسی اور قومی مسائل سے بھی پوری طرح باخبر تھے۔

تقسیمِ ہند کے ہنگامہ خیز دنوں میں شان الحق حقی نے ہجرت کی اذیت، فسادات کے خوف اور بے یقینی کے حالات کا سامنا کیا۔ مختلف شہروں سے گزرتے ہوئے وہ لاہںور پہنچے اور بعدازاں کراچی کو اپنا مستقل مسکن بنایا۔ ہجرت کا یہ تجربہ ان کی شخصیت اور تحریروں پر بھی اثرانداز ہںوا۔ ان کی زندگی کا یہ پہلو صرف ذاتی دکھ نہیں بلکہ ایک پوری نسل کے اجتماعی کرب کی نمائندگی کرتا ہے۔

ان کی عملی زندگی کا آغاز 1940ء میں ہوا۔ ابتدا میں وہ مانیٹرنگ آفس سے وابستہ رہے، بعد میں عسکری ادروں میں بطور مترجم خدمات انجام دیں۔ فوجی مواد کا درست، سلیس اور اصطلاحی اردو میں ترجمہ کرنا ایک نہایت ذمہ دارانہ کام تھا، جس کے لیے زبان پر مکمل عبور ضروری تھا۔ حقی صاحب نے اس ذمہ داری کو اپنی علمی صلاحیت سے بخوبی نبھایا۔

قیامِ پاکستان کے بعد وہ وزارتِ اطلاعات و نشریات سے وابستہ ہوئے۔ انہوں نے مختلف عہدوں پر خدمات انجام دیں اور سرکاری اطلاعاتی نظام میں اہم کردار ادا کیا۔ 1965ء میں وہ وزارتِ اطلاعات کی جانب سے برطانیہ جانے والے ابتدائی پاکستانی افسران میں شامل تھے۔ ان کی سرکاری زندگی بھی ان کی علمی اور ادبی زندگی کی طرح ذمہ داری، محنت اور وقار سے عبارت تھی۔

شان الحق حقی نے ادبی اداروں کی تشکیل اور فروغ میں بھی نمایاں کردار ادا کیا۔ وہ پاکستان رائٹرز گلڈ کے تاسیسی ارکان میں شامل تھے۔ آرٹس کونسل آف پاکستان اور مجلسِ افادۂ اردو سے بھی ان کی وابستگی رہی۔ اردو لغت بورڈ میں بطور اعزازی سیکریٹری ان کی خدمات خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں۔ اردو لغت بورڈ کا کام صرف الفاظ کی فہرست تیار کرنا نہیں بلکہ اردو زبان کے تاریخی، تہذیبی اور ادبی سرمایہ کو محفوظ کرنا تھا، اور حقی صاحب نے اس مقصد کے لیے نہایت سنجیدگی سے کام کیا۔

ان کی ادبی خدمات کا دائرہ بہت وسیع ہے۔ شاعری میں ان کا لہجہ منفرد، زبان شستہ اور فکر گہری تھی۔ ان کا شعری مجموعہ “تارِ پیرہن” اردو شاعری میں ان کے مقام کی نمائندگی کرتا ہے۔ تنقید میں وہ کسی مخصوص ادبی گروہ یا نظریاتی دباؤ سے متاثر نہیں ہوتے تھے۔ وہ تخلیق کو براہِ راست پڑھتے، اس کے فنی اور فکری پہلوؤں کو سمجھتے اور پھر اپنی آزاد رائے قائم کرتے تھے۔ ان کا تنقیدی مجموعہ “نکتۂ راز” ان کے سنجیدہ تنقیدی شعور کا مظہر ہے۔

افسانہ نگاری میں بھی شان الحق حقی نے اپنی الگ پہچان بنائی۔ ان کا پہلا مطبوعہ افسانہ “حیوانِ ناطق” 1939ء میں شائع ہوا۔ ان کے افسانوں میں انسانی نفسیات، سماجی رویے، تہذیبی تبدیلی اور زندگی کے پیچیدہ تجربات نمایاں ہیں۔ ان کی خودنوشت نوعیت کی تصنیف “افسانہ در افسانہ” بھی اردو ادب میں ایک منفرد حیثیت رکھتی ہے۔ اس کتاب میں انہوں نے زندگی کے واقعات کو روایتی زمانی ترتیب کے بجائے یادداشت، احساس اور تجربے کی بنیاد پر بیان کیا ہے۔ اس میں دہلی کی تہذیب، خاندان، دوست، اساتذہ، ادبی دنیا اور ذاتی زندگی کے مختلف رنگ موجود ہیں۔

ترجمے کے میدان میں ان کی خدمات بھی غیر معمولی ہیں۔ “بھگود گیتا”، “انتونی کلیوپیٹرا”، “درپن درپن” اور “آکسفورڈ اردو انگلش ڈکشنری” جیسے کام ان کی زبان دانی اور علمی وسعت کا ثبوت ہیں۔ ان کے نزدیک ترجمہ صرف الفاظ کی تبدیلی نہیں تھا بلکہ ایک زبان کی روح، تہذیب اور مفہوم کو دوسری زبان میں منتقل کرنے کا فن تھا۔

ڈاکٹر عرفان شاہ کی تحقیق کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ اس میں شان الحق حقی کی علمی عظمت کے ساتھ ان کی جدوجہد اور ان کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں کو بھی نظرانداز نہیں کیا گیا۔ڈاکٹر شاہ نے اس علمی تحقیق کے دوران نایاب دستاویزات، خطوط، کتابوں اور دیگر مواد تک رسائی ایک مشکل مرحلہ کا بھی ذکر کیا، لیکن مصنف نے اس کام کو مسلسل محنت اور لگن سے مکمل کیا۔ حقی خاندان، اساتذہ اور دوستوں کے تعاون نے بھی اس تحقیق کو مضبوط بنیاد فراہم کی۔

یہ مقالہ صرف شان الحق حقی کی شخصیت کا تعارف نہیں بلکہ اردو تحقیق کے لیے ایک اہم دستاویز ہے۔ اس سے مستقبل کے محققین کے لیے کئی نئے موضوعات سامنے آتے ہیں، خصوصاً شان الحق حقی کی لغت نویسی، لسانی خدمات، تراجم، تنقیدی نظریات، صحافتی کردار اور خودنوشت نگاری پر مزید کام کی ضرورت ہے۔

حقی صاحب کے بارے میں مزید مصنف نے لکھا ہے کہ ” حقی صاحب نے اپنی خودنوشت میں قلم کو نہ کھل کر کھیلنے کا موقع دیا ہے اور نہ پابہ زنجیر کیا ہے وہ تجربات ذاتی کو اس حد تک بیان کرنے کے قائل ہیں جس سے معاشرتی، اخلاقی، مذہبی یا سیاسی انتشار برپا نہ ہو۔ لیکن ایسے تجربات و مشاہدات، جو زندگی کے لیے سبق آموز ہوں، انھی اخفاء رکھنے کو حقی صاحب ایک طرح کی خیانت سمجھتے ہیں اس تناظر میں ،افسانہ در افسانہ، میں قلم کیا آمین دکھائی دیتا ہے اور جا بجا ان کی تحریر میں دیانت، بے باکی، مدافعت، جواز اور خودفریبی کے رنگ جھلکتے نظر آتے بن ہیں اور خلوص کے اوصاف قاری کو اپنی طرف متوجہ کرنے میں کامیاب رہتے ہیں”

میرے ذاتی رائے میں یہ اوصاف ان کو نسبی طور پر عطا ہوئے ہیں چونکہ روحانی وصف کے بغیر حقیقت اشیاء کا ادراک ناممکنات میں سے ہے۔ ان کے ادبی کاموں میں اللہ کی خاص مدد جابجا نظر آتی ہے۔

شان الحق حقی کی زندگی یہ پیغام دیتی ہے کہ علم کی اصل بنیاد مسلسل محنت، زبان سے وفاداری، فکری دیانت اور اصولی موقف ہے۔ ڈاکٹر عرفان شاہ کی تحقیق نے ایک ایسے ادیب اور دانش ور کی خدمات کو محفوظ کیا ہے جسے اردو ادب کی تاریخ میں اس کے شایانِ شان مقام دینا ضروری ہے۔ یہ کام شان الحق حقی کے لیے ایک علمی خراجِ تحسین بھی ہے اور اردو زبان و ادب کے لیے ایک اہم خدمت بھی۔اللہ ڈاکٹر عرفان صاحب کی علمی نشرحات کو مزید زور سخن عطا فرمائے آمین

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button