بلاگپاکستانتازہ ترینجرم-وسزاصحتکالم

14قبریں حساب مانگ رہی ہیں

بے لگام / ستارچوہدری

پمزمیں بچے نہیں جلے، ہمارا گلا سڑا نظام جلا ہے۔۔۔ پمزمیں بچے نہیں مرے، ہمارا سرکاری اداروں پراعتماد مرا ہے۔۔۔ پمزکے بچے قبروں میں نہیں اترے، ہمارا ہائبرڈ نظام قبروں میں اترا ہے۔۔۔۔ ماؤں کی گود نہیں اجڑی، حکمران لاوارث ہوئے ہیں۔۔۔۔۔
چودہ بچے ۔۔۔۔
یہ صرف ایک عدد نہیں، یہ چودہ گھرہیں، چودہ مائیں ہیں، چودہ باپ ہیں، چودہ خاندان ہیں، چودہ خواب ہیں، جو ایک ہی لمحے میں راکھ ہوگئے۔ یہ وہ ننھی زندگیاں تھیں جنہیں ابھی دنیا دیکھنی تھی، جن کے ہاتھوں میں ابھی کھلونے آنے تھے، جنہیں ابھی سکول جانا تھا، ابھی ماں کی انگلی پکڑ کرچلنا تھا۔


مگرہمارے نظام نے ان کیلئے کیا رکھا تھا۔۔۔۔؟۔۔۔۔ آگ ۔۔۔۔۔ اورپھرخاموشی ۔۔۔۔
پمزمیں صرف بچوں کے جسم نہیں جلے، ریاست کی ذمہ داری بھی جل کرراکھ ہوگئی۔۔۔۔ ان بچوں کی سانسیں نہیں رکیں، ہماری جواب دہی رک گئی۔۔۔۔ ماؤں نے صرف اپنے بچے نہیں کھوئے، ریاست نے اپنی ذمہ داری کھو دی ۔۔۔۔۔یہ کیسا ملک ہے جہاں حادثہ ہوتا ہے تو سب سے پہلے بیان آتا ہے، تحقیقات کا اعلان ہوتا ہے، کمیٹی بنتی ہے، افسوس کیا جاتا ہے، تعزیت کی جاتی ہے۔۔۔۔۔ مگر یہ سوال کوئی نہیں پوچھتا کہ ’’حادثہ ہوا ہی کیوں۔۔۔؟ ‘‘۔۔۔۔

کیا ان بچوں کی جان اتنی سستی تھی کہ اب چند بیانات، چند آنسو اورچند وعدے ان کی قیمت بن جائیں گے۔۔۔۔؟ ۔۔۔۔ نہیں۔۔۔۔ یہ بچے ہمیں چھوڑکر نہیں گئے، یہ ہمارے سامنے ایک سوال رکھ کرگئے ہیں۔۔۔۔ وہ سوال یہ ہے کہ اگرایک سرکاری اسپتال میں بھی بچے محفوظ نہیں تو پھر اس ملک کا غریب اپنے بچے کو کہاں لے جائے۔۔۔۔۔؟ پمزمیں آج صرف ایک وارڈ نہیں جلا، پورا نظام بے نقاب ہوا ہے۔ وہ نظام جو فائلوں میں مکمل ہے، اجلاسوں میں بہترین ہے، بجٹ میں شاندار ہے، تقریروں میں مثالی ہے۔۔۔۔۔

مگر جب ایک معصوم بچے کی زندگی کا سوال آتا ہے تو اچانک اس کے پاس کچھ نہیں ہوتا۔۔۔۔ نہ مناسب سہولت ۔۔۔۔ نہ بروقت علاج۔۔۔ نہ ذمہ داری۔۔۔ اورنہ جواب ۔۔۔۔ آج ان چودہ بچوں کی قبروں پرکھڑے ہوکراگر ہم نے صرف فاتحہ پڑھی اورگھر واپس آگئے تویاد رکھیے، کل کسی اورماں کی گود اجڑے گی،کسی اورباپ کے ہاتھ میں اپنے بچے کا بے جان جسم ہوگا۔۔۔ اورہم پھر یہی کہیں گے کہ حادثہ افسوسناک تھا، تحقیقات ہوں گی، ذمہ داروں کو نہیں چھوڑیں گے۔۔۔۔ ہم کب تک یہی جملے سنتے رہیں گے۔۔۔؟ ہم کب تک بچوں کو دفن کرکے فائلیں دفن کرتے رہیں گے۔۔۔۔؟

پمزمیں چودہ بچے نہیں مرے ۔۔۔۔
چودہ مرتبہ ہم سے پوچھا گیا ہے کہ ریاست کہاں تھی۔۔۔۔۔؟ اوراس سوال کا جواب کسی تقریر سے نہیں ملے گا، اس کا جواب ہمیں اپنے پورے نظام سے مانگنا ہوگا۔۔۔۔

ہم نے سانحے بہت دیکھے ہیں، مگرشاید ہم نے ان سے کچھ نہیں سیکھا، اے پی ایس کے معصوم بچوں سے لے کر آج کے پمز تک، کہانیاں بدلتی رہیں، لاشیں بدلتی رہیں، مگرہمارا نظام وہیں کھڑا ہے۔۔۔۔اے پی ایس کے بعد غم زدہ ماؤں نے جو سوال اٹھائے تھے، وہ آج بھی ہمارے سامنے کھڑے ہیں۔ ان ماؤں کے دکھ اورریاستی بے حسی سے جڑے بعض جملے آج تک لوگوں کے حافظے میں موجود ہیں،جب ایک طاقتورشخص نے احتجاج کرتی ماؤں سے کہا تھا ’’ بچے مرگئے تو کیا ہوا،اورپیدا کرلینا ‘‘۔۔۔

کسی روز لاہور کے چلڈرن اسپتال چلےجانا،جتنے بچے پمز میں مرے،یہاں تو روز اتنے بچے مرتے ہیں،مائیں خاموشی سے اپنے بچوں کی لاش لپیٹ کر گھر لے جاتی ہیں،نہ رونے کی آوازآتی ہے،نہ شوراٹھتا ہے،نہ میڈیا کی گاڑیاں دوڑ کر آتی ہیں،نہ تعزیتی پیغام جاری ہوتے ہیں،نہ انکوائریاں ہوتی ہیں،نہ کمیٹیاں بنتی ہیں۔۔۔۔ میں نے اپنی آنکھوں سے ایسے مناظر دیکھے ہیں جنہیں الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہے،سوچیں،ہم کونسے پتھرکے زمانے میں زندہ ہیں،بچوں کو ہاتھ سے پمپنگ کرکے آکسیجن دی جاتی ہے،ایمرجنسی میں صرف دس سے بارہ مشینیں ہیں،ہاتھ سے پمپنگ کرنے سے بچے مر جاتے ہیں،کسی پر کوئی الزام نہیں آتا۔۔۔۔ بس۔۔۔ اللہ تعالیٰ کو یہی منظورتھا۔۔۔۔

اور سب سے خوفناک بات یہ ہے کہ یہ سب نیا نہیں، یہ سب ہمارے سامنے ہوتا ہے، روز ہوتا ہے، مگر ہماری توجہ چند دن بعد کسی نئے واقعے کی طرف منتقل ہوجاتی ہے۔۔۔۔ بچے مرتے رہتے ہیں، مائیں روتی رہتی ہیں، اسپتال اپنی کمیوں کے ساتھ کھڑے رہتے ہیں۔۔۔۔ اور حکمران نئی تقریروں کے ساتھ آگے بڑھ جاتے ہیں، پھر ایک دن کوئی نیا سانحہ ہمیں جھنجھوڑتا ہے۔۔۔۔ اورہم پوچھتے ہیں، آخر اس ملک میں بچوں کی زندگی کی قیمت کتنی ہے۔۔۔۔۔؟۔۔۔

شاید ہم اس ملک کے سب سے بے حس لوگ ہیں،ہمارے بچے مرتے ہیں، ہم چند دن روتے ہیں، موم بتیاں جلاتے ہیں، تعزیتی بیانات پڑھتے ہیں اورپھرزندگی معمول پرآجاتی ہے،مگران ماؤں کی زندگی کبھی معمول پرنہیں آتی،جن گھروں میں آج کھلونے خاموش پڑے ہیں، وہاں کل بھی خاموشی ہوگی،جس ماں نے اپنے بچے کو آخری بارسینے سے لگایا ہے، وہ ساری عمراپنے اندر وہ آخری لمحہ اٹھائے پھرے گی۔۔۔۔۔ اورہم۔۔۔۔۔؟ ہم پھر کسی نئے سانحے کا انتظارکریں گے۔۔۔۔ نہیں، اب انتظار نہیں ہونا چاہیے۔۔۔۔ اب یہ نہیں پوچھنا چاہیے کہ آگ کیسے لگی، کتنے بچے مرے اور کتنے زخمی ہوئے۔ اصل سوال یہ ہے کہ وہ نظام کہاں تھا جسے ان بچوں کی حفاظت کرنی تھی۔۔۔۔؟

اگر ایک سرکاری اسپتال میں بچے محفوظ نہیں، اگرایک ماں اپنے بچے کو علاج کے لیے لے جائے اور اسے سہولت کے بجائے بے بسی ملے، اگر زندگی بچانے والی مشینیں ناکافی ہوں اوروالدین اپنے بچوں کو اپنی آنکھوں کے سامنے دم توڑتے دیکھیں، تو پھر ہمیں تسلیم کرلینا چاہیے کہ مسئلہ صرف اسپتال کا نہیں۔۔۔۔ مسئلہ پورے نظام کا ہے۔۔۔۔ اور حکمرانوں سے آج صرف ایک سوال ہے، آپ کے بیانات، آپ کی کمیٹیاں، آپ کے وعدے اور آپ کے دعوے اپنی جگہ، مگر اگلی ماں کی گود اجڑنے سے پہلے آپ کیا کریں گے۔۔۔۔؟ کیونکہ چودہ بچوں کی قبریں ہم سے صرف فاتحہ نہیں مانگ رہیں، وہ حساب مانگ رہی ہیں۔۔۔۔ اور یاد رکھیے !! جب ریاست اپنے بچوں کی حفاظت نہیں کرپاتی تو صرف بچے نہیں مرتے، ریاست کا اعتباربھی مرجاتا ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button