اسلام آباد، لاہور (ویب ڈیسک) امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ پٹرولیم لیوی کے خاتمے اور عوام کو حقیقی ریلیف دلوانے تک جماعت اسلامی اپنا احتجاج جاری رکھے گی۔ حکومت نے مطالبات تسلیم نہ کیے تو ملک بھر میں مکمل پہیہ جام کیا جائے گا، جس کے دوران نہ کوئی گاڑی سڑک پر ہوگی اور نہ ہی کوئی پٹرول پمپ کھلے گا۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ ملک بھر میں ہڑتال اور احتجاج کے بعد حکومت کو بھی عوام کے غم و غصے کا اندازہ ہوگیا ہے، جس کے بعد حکومت نے جماعت اسلامی سے رابطہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو یہ رابطہ پہلے ہی کرنا چاہیے تھا۔
امیر جماعت اسلامی نے بتایا کہ پرسوں سے ٹیکنیکل کمیٹی کی سطح پر حکومت کے ساتھ مذاکرات شروع ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی مکمل تیاری کے ساتھ مذاکرات میں شرکت کرے گی اور ان کے مطالبات ایسے نہیں جن پر عملدرآمد ممکن نہ ہو۔
حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ حکومت کو براہ راست عوام کو ریلیف فراہم کرنا چاہیے تھا، تاہم حکومت کا اپنا طریقہ کار ہے۔ انہوں نے حکمرانوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ حکمران عوامی مسائل حل کرنے کے بجائے لندن پر زیادہ توجہ دے رہے ہیں، جبکہ عوام مہنگائی اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں بڑھنے کا اثر فوری طور پر عوام پر منتقل کر دیا جاتا ہے، لیکن جب عالمی سطح پر قیمتیں کم ہوتی ہیں تو اس کا فائدہ عوام کو اس تناسب سے نہیں دیا جاتا۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے اشیائے ضروریہ، ٹرانسپورٹ کے کرایوں سمیت ہر شعبہ متاثر ہوتا ہے اور اس کا سارا بوجھ عام آدمی پر ڈال دیا جاتا ہے۔
حافظ نعیم الرحمان نے واضح کیا کہ جب تک عوام کو مناسب ریلیف نہیں دیا جاتا، دھرنے جاری رہیں گے۔ اگر حکومت کے ساتھ مذاکرات آگے نہ بڑھے تو مکمل پہیہ جام کیا جائے گا، جبکہ اس سلسلے میں ٹرانسپورٹرز اور پٹرول ڈیلرز سے بھی مشاورت کی جائے گی۔
انہوں نے بتایا کہ پہیہ جام کے ساتھ اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا آپشن بھی جماعت اسلامی کے پاس موجود ہے اور اس حوالے سے اپوزیشن جماعتوں سمیت تمام سیاسی قوتوں سے مشاورت کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ہر سیاسی جماعت اور شہری کو احتجاج کا حق حاصل ہے، اس لیے سب سے بات کی جائے گی۔
جماعت اسلامی کے امیر نے کہا کہ وہ ڈنڈا بردار ہڑتال کے قائل نہیں، تاہم اس کے باوجود ملک بھر میں زیادہ تر مارکیٹیں بند رہیں۔ ان کے بقول مؤثر ہڑتال کے نتیجے میں حکومت مذاکرات پر مجبور ہوئی۔
حافظ نعیم الرحمان نے امید ظاہر کی کہ حکومت پیچھے ہٹے گی اور پٹرولیم لیوی ختم کرے گی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر کسی مافیا نے مطالبات کی منظوری کے عمل کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کی تو اسے بے نقاب کرکے عوام کے سامنے لایا جائے گا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ کمی بھی جماعت اسلامی کے دباؤ کا نتیجہ ہے۔ ان کے مطابق ڈیزل کی قیمت میں 30 روپے جبکہ پٹرول کی قیمت میں 3 روپے کمی کی گئی، تاہم جماعت اسلامی اس کمی کو کافی نہیں سمجھتی۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو سیدھا سادہ پٹرولیم لیوی ختم کرنا ہوگی۔
حافظ نعیم الرحمان نے پنجاب میں نویں جماعت کے تقریباً 50 فیصد طلبہ کے فیل ہونے کا حوالہ دیتے ہوئے صوبائی حکومت کی کارکردگی پر بھی تنقید کی۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جس صوبے کو ترقی اور خوشحالی کی مثال قرار دیا جاتا ہے، وہاں تعلیمی صورتحال اتنی خراب کیوں ہے۔
انہوں نے مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ دونوں جماعتیں موجودہ سیاسی صورتحال کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتیں۔ ایم کیو ایم کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ یہ ایسی جماعت ہے جو ہر جگہ فٹ ہوجاتی ہے، جبکہ ان کے بقول حالیہ انتخابی صورتحال میں فارم 47 کا معاملہ بھی زیر بحث ہے۔
دوسری جانب ملک کے چاروں صوبوں اور بڑے شہروں میں جماعت اسلامی کے احتجاجی دھرنوں کا سلسلہ 21 روز سے جاری ہے۔ لاہور میں وزیراعلیٰ ہاؤس کے باہر جاری دھرنے میں روزانہ کی بنیاد پر ہزاروں مرد و خواتین شریک ہو رہے ہیں۔
دھرنے کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی پنجاب محمد جاوید قصوری نے کہا کہ بجلی کی قیمت میں 2 روپے 6 پیسے فی یونٹ اور پٹرول کی قیمت میں مسلسل اضافہ حکمرانوں کی عوامی مسائل سے بے حسی کی علامت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکمران عوام کو حقیقی ریلیف دینا ہی نہیں چاہتے۔
محمد جاوید قصوری نے پٹرولیم لیوی کو عوام پر اضافی بوجھ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ایک طرح کا بھتہ ہے جسے پوری قوم مسترد کرتی ہے۔



