
کچھ فتوحات ایسی ہوتی ہیں جو توپوں کی گھن گرج تھمنے کے ساتھ ہی اختتام پذیر ہو جاتی ہیں، جبکہ کچھ کامیابیاں ایسی ہوتی ہیں جو میدانِ جنگ کے دھندلا جانے کے بعد بھی قوم کے شعور، کردار اور ضمیر کو برسوں تک روشن رکھتی ہیں۔ ستمبر 1965 کی فتح کا شمار بلاشبہ دوسری قسم کی فتوحات میں ہوتا ہے۔ یہ محض ایک عسکری معرکہ نہ تھا، بلکہ وہ تاریخی لمحہ تھا جب پاکستان نے اپنے اندر پوشیدہ عزم و حوصلے کی گہرائی کو پہچانا۔ اس موقع پر ایمان نے جرأت کا روپ دھارا، جرأت نے قربانی کا راستہ اختیار کیا اور قربانی نے قوم اور وطن کے درمیان ایسا اٹوٹ رشتہ قائم کر دیا جسے وقت کی کوئی گردش کمزور نہ کر سکی۔
تاریخ بارہا یہ حقیقت آشکار کر چکی ہے کہ مادی برتری وقتی اور جنگی میدان میں حکمتِ عملی کا فائدہ تو دے سکتی ہے، مگر بالآخر فیصلہ اکثر اخلاقی قوت، منظم قیادت، نظم و ضبط اور قومی اتحاد ہی کرتے ہیں۔ 6 ستمبر 1965 کو بھارت نے اس یقین کے ساتھ ایک بڑا حملہ شروع کیا کہ اسے افرادی قوت اور جنگی سازوسامان میں نمایاں برتری حاصل ہے۔ پاکستان کو ایک نہایت کٹھن چیلنج درپیش تھا، مگر قوم کا ردِعمل فوری بھی تھا اور اجتماعی بھی۔ سرحدوں پر افواجِ پاکستان سینہ سپر تھیں اور ان کے پیچھے پورا پاکستان کھڑا تھا۔ لاہور کی گلیوں سے لے کر دور افتادہ دیہات تک یوں محسوس ہوتا تھا جیسے ایک ہی دل دھڑک رہا ہو۔
وطن کا دفاع اب صرف سپاہ کا فریضہ نہیں رہا تھا؛ یہ پوری قوم کی ذمہ داری بن چکا تھا۔
اس دور نے ایسے عظیم سپوتوں کو جنم دیا جن کے نام آج بھی قومی حافظے میں چراغوں کی مانند روشن ہیں۔ فضاؤں میں اسکواڈرن لیڈر محمد محمود عالم نے اپنی بے مثال پیشہ ورانہ مہارت اور شجاعت کی داستان رقم کی، پانیوں پر آپریشن دوارکا میں بابر، خیبر، بدر، جہانگیر، عالمگیر، شاہ جہان اور ٹیپو سلطان نے دھاک بٹھائی جبکہ برکی کے محاذ پر میجر راجا عزیز بھٹی شہید نے فرض کی ادائیگی میں اپنی جان نچھاور کر کے تاریخ میں امر مقام حاصل کیا۔ ان عظیم شخصیات کی داستانیں محض عسکری کمال کی روایات نہیں، بلکہ ہمیں یہ یاد دلاتی ہیں کہ قومیں اپنی تاریک ترین گھڑیوں سے اس وقت سرخرو ہو کر نکلتی ہیں جب ان کے افراد اپنی ذات سے بلند ہو کر فرض کو ترجیح دیتے ہیں۔
لیکن ستمبر 1965 کا اصل ہیرو کسی ایک فرد کا نام نہیں تھا؛ اصل ہیرو پوری قوم تھی۔
سیاسی، سماجی اور معاشی اختلافات ایک بڑے قومی تشخص کے سامنے عارضی طور پر پس منظر میں چلے گئے تھے۔ اس وقت ایک ہی شناخت سب سے مقدم تھی: پاکستانی۔ مساجد سے دعاؤں کی صدائیں بلند ہوئیں، گھروں میں فوج کے لیے دعائیں کی گئیں، خاندانوں نے سپاہ کے حوصلے بڑھائے اور عام شہریوں نے غیر یقینی اور خوف کے باوجود غیر معمولی عزم و سکون کا مظاہرہ کیا۔ یہی قومی یکجہتی کسی ایک معرکے یا محاذ سے بڑھ کر ستمبر 1965 کی سب سے بڑی فتح تھی۔
چھ دہائیوں سے زیادہ عرصہ گزر جانے کے باوجود اس دور کا سبق اپنی تازگی نہیں کھویا۔ بلکہ بدلتی ہوئی دنیا نے اسے مزید اہم اور ناگزیر بنا دیا ہے۔ آج کا میدانِ جنگ صرف پہاڑوں، صحراؤں اور سرحدوں تک محدود نہیں رہا۔ اب اس کی وسعت سائبر اسپیس، مالیاتی نظام، سوشل میڈیا، تحقیقی مراکز اور اطلاعاتی دنیا تک پھیل چکی ہے۔ دشمنی کا آغاز اب لازماً کسی میزائل سے نہیں ہوتا؛ ایک جھوٹی خبر، گمراہ کن بیانیہ، سائبر حملہ یا مسلسل معاشی دباؤ بھی کسی تصادم کا نقطۂ آغاز بن سکتا ہے۔
آج کا مقصد ہمیشہ سرزمین پر قبضہ کرنا نہیں ہوتا؛ کبھی مقصد قوم کے اعتماد کو متزلزل کرنا، معاشرے کو تقسیم کرنا، اداروں کو مفلوج کرنا یا لوگوں کے دلوں میں اپنے ہی وطن کے بارے میں شک پیدا کرنا ہوتا ہے۔ آنے والے زمانے کے معرکے اس لیے جغرافیائی سرحدوں کے ساتھ ساتھ انسانی ذہن اور قومی شعور کے اندر بھی لڑے جائیں گے۔
پاکستان کو اس تبدیلی کو سمجھنا ہوگا، مگر 1965 میں اسے مضبوط بنانے والی روح کو فراموش کیے بغیر۔ آنے والے کل کا سپاہی سائنس دان کا محتاج ہوگا، عسکری منصوبہ ساز کو ٹیکنالوجی کے ماہر کی ضرورت ہوگی اور سفارت کار کی کامیابی کا انحصار ماہرِ معیشت کی بصیرت پر ہوگا۔ قومی سلامتی اب جامعات، صنعتوں، اداروں اور عام شہریوں کی اجتماعی قوت سے الگ نہیں کی جا سکتی۔
اسی لیے حب الوطنی کے مفہوم کو بھی وسیع کرنا ہوگا۔
آج پاکستان سے محبت صرف پرچم لہرانے یا کسی جنگ کی یاد منانے کا نام نہیں۔ پاکستان سے محبت یہ بھی ہے کہ ہم ایک بچے کو معیاری تعلیم دیں، نئی ٹیکنالوجی ایجاد کریں، روزگار کے مواقع پیدا کریں، دیانت داری سے ٹیکس ادا کریں، سرکاری املاک کی حفاظت کریں، سچ کا ساتھ دیں، جمہوری اداروں کو مضبوط کریں اور خود کو نفرت و تقسیم کا ذریعہ بننے سے محفوظ رکھیں۔
سرحد پر کھڑا سپاہی اور مصنوعی ذہانت کے میدان میں تحقیق کرنے والا سائنس دان، بظاہر دو مختلف محاذوں پر سرگرم ہیں، مگر دونوں دراصل ایک ہی خودمختاری کی حفاظت کر رہے ہیں۔ کسان جو قوم کے لیے خوراک محفوظ بناتا ہے، انجینئر جو بنیادی ڈھانچہ تعمیر کرتا ہے، استاد جو نئی نسل کے ذہن تشکیل دیتا ہے، کاروباری شخص جو مواقع پیدا کرتا ہے، صحافی جو جھوٹ کے مقابلے میں سچ کا علم بلند رکھتا ہے اور پارلیمنٹیرین جو آئینی اقدار کی پاسداری کو مضبوط بناتا ہے—یہ سب ریاست کی قوت اور استحکام میں اپنا حصہ ڈالتے ہیں۔
اب قومی سلامتی اور قومی ترقی ایک دوسرے سے جدا نہیں رہیں۔
جو ملک معاشی طور پر کمزور، ٹیکنالوجی میں دوسروں کا محتاج اور ادارہ جاتی تقسیم کا شکار ہو، وہ جدید ترین ہتھیار رکھنے کے باوجود کمزور ثابت ہو سکتا ہے۔ اکیسویں صدی میں علمی و فکری سرمایہ شاید اتنا ہی فیصلہ کن ثابت ہو جتنا بیسویں صدی میں عسکری سازوسامان تھا۔
مئی 2025 کے واقعات نے بھی ایک بار پھر یہ واضح کیا کہ تزویراتی بیداری اور قومی تیاری ناگزیر ہیں۔ انہوں نے خطے کو یاد دلایا کہ جنوبی ایشیا آج بھی سنگین سلامتی کے حساس معاملات سے دوچار ہے اور اس ماحول میں تیاری، باز ڈیترینس، اور ذمہ دارانہ فیصلہ سازی کو ایک ساتھ آگے بڑھانا ہوگا۔ پاکستان کی امن کی خواہش کو کبھی کمزوری نہ سمجھا جائے۔ پائیدار امن عزت، خودمختاری، باہمی احترام اور اپنے دفاع کی قابلِ اعتماد صلاحیت ہی کی بنیاد پر قائم ہوتا ہے۔
لیکن ایک اور محاذ بھی ہے جس پر ہمیں مسلسل نگاہ رکھنا ہوگی: اندرونی انتشار کے خلاف جنگ۔
قومیں صرف بیرونی دشمنوں سے کمزور نہیں ہوتیں؛ اکثر انہیں اندر سے اس وقت نقصان پہنچتا ہے جب سیاسی اختلاف نفرت میں بدل جائے، اختلافِ رائے عدم برداشت کا روپ دھار لے اور ادارہ جاتی اختلاف تصادم تک جا پہنچے۔ منقسم معاشرہ خود ایسے راستے کھول دیتا ہے جنہیں کوئی بیرونی طاقت الگ سے بنانے کی ضرورت محسوس نہیں کرتی۔
جمہوریت کا حسن مضبوط مکالمے اور جائز سیاسی مسابقت میں ہے۔ اداروں کے نقطۂ نظر مختلف ہو سکتے ہیں، مگر آئینی نظام اور قومی مفاد ہر فرد، ہر جماعت اور ہر عارضی سیاسی کامیابی سے بالاتر رہنا چاہیے۔ قوم کی قوت کسی ایک ادارے کی بالادستی میں نہیں بلکہ اداروں کے باہمی احترام اور ہم آہنگی میں پوشیدہ ہے۔
یہی ستمبر کی روح کی مطلوبہ تبدیلی ہے: جنگی اتحاد سے پُرامن تیاری تک کا سفر۔
آج تیاری کا مطلب اہم قومی تنصیبات اور بنیادی ڈھانچے کا تحفظ، سائبر دنیا کا دفاع، جھوٹے بیانیوں اور گمراہ کن اطلاعات کا مقابلہ، قدرتی آفات سے نمٹنے کی صلاحیت میں اضافہ، پانی اور خوراک کے وسائل کا تحفظ، ٹیکنالوجی میں خود انحصاری اور معاشی استحکام پیدا کرنا ہے۔ مگر ان سب سے بڑھ کر ضروری ہے کہ ہم اپنی نوجوان نسل کو مستقبل کے چیلنجز کے لیے تیار کریں۔
1965کو اپنی آنکھوں سے دیکھنے والی نسل اب تاریخ کا حصہ بنتی جا رہی ہے۔ ان کے بچے اور پوتے پوتیاں اب اس امانت کے امین ہیں۔ وہ ایک ایسے ڈیجیٹل عہد میں پروان چڑھ رہے ہیں جہاں آنے والے کل کا میدانِ جنگ کسی تجربہ گاہ، جامعہ، ٹیکنالوجی کمپنی، نیوز روم یا مذاکرات کی میز پر بھی ہو سکتا ہے۔ ممکن ہے انہیں کبھی جنگی طیاروں کی گھن گرج سنائی نہ دے، لیکن ان کے فیصلے یہ ضرور طے کریں گے کہ پاکستان محفوظ، خوشحال اور خودمختار رہے گا یا نہیں۔
انہیں صرف اپنے قومی ہیروز کے نام ورثے میں نہیں لینے چاہییں، بلکہ وہ اقدار بھی اپنانا ہوں گی جنہوں نے ان ناموں کو لازوال بنایا۔
راجا عزیز بھٹی شہید انہیں فرض شناسی کا سبق دیں۔
محمد محمود عالم انہیں اعلیٰ کارکردگی اور پیشہ ورانہ مہارت کی علامت دکھائی دیں۔
1965کے شہداء اور غازی انہیں یہ احساس دلائیں کہ قوم کی اصل طاقت اس بات میں مضمر ہے کہ اس کا ہر فرد اپنے حصے کا چراغ کتنی دیانت اور ذمہ داری سے روشن کرتا ہے۔
یاد صرف یادگاروں، تقریبات اور تقاریر کا نام نہیں۔
یاد کو ذمہ داری بننا ہوگا، اور قربانی کو ترقی میں ڈھلنا ہوگا۔
شہداء کو بہترین خراجِ عقیدت کوئی نئی تقریب یا رسمی تقریر نہیں، بلکہ وہ پاکستان تعمیر کرنا ہے جس کے لیے انہوں نے اپنی جانیں قربان کیں—ایسا پاکستان جو غرور کے بغیر بااعتماد ہو، جارحیت کے بغیر بیدار ہو، غیر ذمہ داری کے بغیر طاقتور ہو، عدم برداشت کے بغیر محبِ وطن ہو، اپنی اخلاقی بنیادوں سے دستبردار ہوئے بغیر جدید ہو، اور اتنا مضبوط ہو کہ اپنا دفاع کر سکے، مگر اتنا دانا بھی ہو کہ امن کا راستہ اختیار کرنا جانتا ہو۔
ہتھیار بدل گئے، میدانِ جنگ بدل گئے، طاقت کے پیمانے بدل گئے؛ مگر ایمان، جرأت، نظم و ضبط، قربانی اور اتحاد آج بھی وہی ہیں۔
6ستمبر محض کیلنڈر پر درج ایک تاریخ نہیں بننا چاہیے۔ اسے ہر نسل کے سامنے ایک زندہ سوال بن کر کھڑا ہونا چاہیے
ہمیں جو ورثہ سونپا گیا ہے، ہم اس کے ساتھ کیا کر رہے ہیں؟
کل کے ہیروز نے گولیوں اور گولہ باری کے درمیان پاکستان کا دفاع کیا تھا۔ آنے والے کل کے ہیروز شاید جنگ کو روک کر، غربت کو شکست دے کر، سائنس کو آگے بڑھا کر، اداروں کو مضبوط بنا کر، سچ کی حفاظت کر کے، خوشحالی پیدا کر کے اور امن کو محفوظ بنا کر پاکستان کا دفاع کریں گے۔
مستقبل کا میدانِ کارزار تلوار کے ساتھ ذہن، اور قوت کے ساتھ علم کا بھی تقاضا کرے گا۔
اس لیے ستمبر 1965 کی مقدس میراث تاریخ کا کوئی جامد باب نہیں؛ یہ نسلوں کے درمیان ایک زندہ عہد ہے۔ جن لوگوں نے اس تاریخ کا پہلا باب اپنے لہو، عزم اور جرأت سے لکھا، انہوں نے اپنا فرض ادا کر دیا۔ اب اگلا باب لکھنا ہماری ذمہ داری ہے۔
اور اس باب کے الفاظ صرف توپوں کی گھن گرج سے نہیں، بلکہ علم، اتحاد، ترقی، خوشحالی اور امن سے لکھے جانے چاہییں۔



