پاکستانتازہ ترینتعلیم/ادب

الفلاح قرآن انسٹیٹیوٹ ، سلمان آصف صدیقی کا "ریاستِ مدینہ اور پاکستان” پر لیکچر

اسلام آباد:(نمائندہ وائس آف نیشنز)الفلاح قرآن انسٹیٹیوٹ ، سواں گارڈن اسلام آباد کے زیرِ اہتمام یومِ آزادی کے حوالے سے سلمان آصف صدیقی ( ایجوکیشن فزیالوجسٹ، پیرنٹ کاونسلر ،آتھر، ڈائریکٹر ERDC) کا خصوصی لیکچر منعقد کیا گیا، جس کا عنوان "ریاستِ مدینہ اور پاکستان” تھا۔

اس پروگرام میں الفلاح قرآن انسٹیٹیوٹ کی طالبات کے علاوہ مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی خواتین کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔پروگرام کا آغاز تلاوتِ قرآنِ پاک سے ہوا، جس کی سعادت خنساء بلال نے حاصل کی۔ نعتِ رسولِ مقبول ﷺ ثمن زبیر نے پیش کی۔ بعد ازاں الفلاح قرآن انسٹیٹیوٹ کی پرنسپل لبنیٰ حشمت نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ نشست اس فرق کو سمجھنے کے لیے رکھی گئی ہے کہ ریاستِ مدینہ سے پاکستان ابھی کتنی دور ہے اور اس فاصلے کو کم کرنے کے لیے کن اقدامات کی ضرورت ہے۔

بعد ازاں مقررِ خصوصی سلمان آصف صدیقی صاحب نے سیر حاصل گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور مدینہ دونوں اسلام کے نام پر حاصل ہوئے۔ ہمارے بزرگوں نے اللہ تعالیٰ سے یہ وعدہ کیا تھا کہ اگر وہ ہمیں ایک آزاد اور پُرامن سرزمین عطا فرمائے تو ہم اس میں اسلام کا نظام قائم کریں گے اور انفرادی و اجتماعی زندگی، عدلیہ اور دیگر تمام اداروں کو شریعت کے تابع رکھیں گے۔

اللہ تعالیٰ نے اپنا وعدہ پورا کرتے ہوئے ہمیں یہ پاک سرزمین عطا فرمائی، مگر افسوس کہ ہم اللہ تعالیٰ سے کیے گئے اپنے وعدے کو پورا نہ کر سکے۔انہوں نے کہا کہ مدینہ حاصل ہونے کے بعد نبی پاک ﷺ نے آزادی کا جشن نہیں منایا بلکہ اس سرزمین پر اللہ کی حکمرانی قائم کرنے کی فکر کی۔ آپ ﷺ کو سرداری، دولت اور دیگر دنیاوی مراعات کی پیشکش کی گئی، مگر آپ ﷺ نے ان سب کو ٹھکرا کر لوگوں کے دلوں کو بدلنے اور ان میں توحید و ایمان کے بیج بونے کی جدوجہد کو ترجیح دی۔

توحید و ایمان کا یہی بیج پاکستان کے حصول میں بھی بنیادی حیثیت رکھتا تھا۔آج ضرورت اس امر کی ہے کہ پہلے اس کلمے کو اپنے دلوں میں اتارا جائے، پھر اسی کے مطابق پاکستان کے ہر شعبے، بشمول عدلیہ اور دیگر اداروں کو اسلامی اصولوں کے تابع کرنے کی جدوجہد کی جائے۔

انہوں نے مزید کہا کہ مدینہ کی کامیابی کے موقع پر اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو اپنی حمد و تسبیح اور استغفار کی طرف متوجہ کیا۔ اس کے برعکس ہم آزادی کے موقع پر اپنی کامیابی پر فخر کرتے ہیں، جبکہ ہمیں اپنے وعدے کی تکمیل کے بارے میں بھی سوچنا چاہیے۔
حقیقت یہ ہے کہ پاکستان اللہ تعالیٰ کی ایک نعمت ہے، اس لیے اس کی قدر کرنا اور اس کی بہتری کے لیے اپنا کردار ادا کرنا ضروری ہے۔ اگر آج حالات ہمارے مطابق نہیں تو پاکستان سے بدظن ہونے کے بجائے اس کی اصلاح اور اسلامی نظام کے نفاذ کے لیے مثبت کردار ادا کرنا چاہیے۔دعا کے ساتھ یہ پروگرام اختتام پذیر ہوا۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button