انٹر نیشنلبلاگپاکستانتازہ ترینکالم

سمندر کی لہروں میں محبتوں کی شام(حصہ ششم)

فیصل درانی

میری رہائش تقسیم اسکوائر کے قریب تھی اور ایک دن دل نے کہا کہ آج استنبول کے شور سے ذرا دور چلتے ہیں وہاں جہاں شہر کی بلند عمارتوں کے بجائے سمندر درخت پرانے گھر اور خاموش گلیاں استقبال کرتی ہیں۔منزل تھی پرنسس آئی لینڈز جسے جزائرِ شہزادی کہا جاتا ہے۔ میں نے بھی صبح صبح اپنا چھوٹا سا بیگ اٹھایا اور جزائر کی طرف روانہ ہو گیا۔ راستے میں مجھے بار بار یہ خیال آ رہا تھا کہ بڑے شہروں میں رہنے والے انسان کی زندگی بھی عجیب ہے۔ ہم ہر وقت کہیں نہ کہیں پہنچنے کی جلدی میں رہتے ہیں۔اور پھر ایک دن ایسا آتا ہے جب دل کہتا ہے آج کہیں پہنچنا نہیں بس سفر کرنا ہے۔ جب کاباتاش کے علاقے میں پہنچا تو ماحول میں ایک واضح تبدیلی محسوس ہوئی۔

اب عمارتوں کے درمیان سمندر نمایاں تھا۔ فیری گھاٹ کے قریب پہنچتے ہی لوگوں کی ایک نئی دنیا نظر آئی کوئی فیری کا انتظار کر رہا تھا کوئی ٹکٹ یا کارڈ استعمال کر رہا تھا کوئی اپنے بچوں کو سنبھال رہا تھا اور کوئی کیمرہ تیار کیے کھڑا تھا۔ سامنے سمندر تھا اور سمندر کے پار وہ جزائر جن کے بارے میں میں کئی بار سن چکا تھا۔

میں نے فیری کا انتظار کیا۔ چند ہی لمحوں بعد وہ سامنے تھی۔ سفید اور خوبصورت۔ یوں لگا جیسے استنبول نے آج میرے لیے سڑک کے بجائے سمندر کا راستہ منتخب کیا ہو۔ فیری نے جیسے ہی ساحل چھوڑا استنبول میرے سامنے پھیل گیا۔اور پھر ایک عجیب منظر سامنے آیا۔ جس شہر میں ہم سڑکوں پر رہتے ہوئے صرف عمارتیں دیکھتے ہیں وہی شہر سمندر سے دیکھنے پر ایک مکمل تصویر بن جاتا ہے۔

چھوٹی بڑی کشتیاں اور دور تک پھیلا ہوا آسمان سیگلز فیری کے مستقل مسافر،فیری کے ساتھ ساتھ سیگلز اڑ رہے تھے۔کبھی وہ پانی کے قریب آتے اور کبھی فیری کے بالکل قریب سے گزر جاتے۔مسافروں میں سے کئی لوگ انہیں کھانے کے ٹکڑے دے رہے تھے۔ ایک بچہ خوشی سے چیخا تو اس کی ماں نے اسے پکڑ کر سمجھایا کہ زیادہ آگے نہ جھکے۔میں مسکرا دیا۔سفر میں ایسے چھوٹے چھوٹے مناظر ہی تو یاد رہ جاتے ہیں۔ بڑے بڑے تاریخی مقامات شاید تصویروں میں محفوظ ہو جائیں مگر ایک بچے کی ہنسی سمندر کی ہوا اور فیری کے ساتھ اڑتا ہوا پرندہ دل میں محفوظ ہوتا ہے۔

میرے قریب ایک ترک بوڑھا فوجی جس کے ہاتھ میں کافی کا کپ اور نظریں سمندر پر تھیں اپنی میرا ہمسفر تھا۔ ہماری نظریں ملیں تو اس نے مسکرا کر پوچھا First time
میں نے کہا Yes
اس نے کہاThen sit outside. You will enjoy it more
میں نے ہنس کر جواب دیا I already am
بات مختصر تھی مگر پھر گفتگو آگے بڑھ گئی اس نے بتایا کہ وہ کبھی کبھی جزائر کی طرف اپنی طالبات بیٹیوں کے ہمراہ صرف سکون کے لیے آتا ہے۔ میں نے پوچھا یہاں ایسی کیا چیز ہے جو آپ کو بار بار کھینچ لاتی ہے؟ اس نے چند لمحے سمندر کو دیکھا اور کہا یہاں وقت آہستہ چلتا ہے۔

ترک بوڑھے فوجی کی بیٹیوں نے پوچھا کہ میں کہاں سے آیا ہوں میں نے جب پاکستان کا نام لیا تو ان کے چہرے پر فورا خوشی آگئی اور بے ساختہ کہا پاکستان خوبصورت تاریخی ملک ہے اور ہم پاکستان کو قریب سے دیکھنا چاہتے ہیں ۔ انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ مجھے جزیرہ کیسا لگا تو میں نے کہا بہت خوبصورت بہت پرسکون۔ وہ مسکرائیں اور بولیں پھر تو اپ کو اج ہی واپس جانے کے بجائے ایک رات جزیرے میں گزارنی چاہیے تاکہ اپ جزیرے میں گزاری گئی رات سے بھی لطف اندوز ہو سکیں۔ میں نے اس جملے کو دل میں محفوظ کر لیا
شاید پورے سفر کی سب سے خوبصورت تعریف یہی تھی۔فیری آگے بڑھتی گئی اور کچھ دیر بعد پہلا جزیرہ نظر آیا۔پھر دوسرا پھر تیسرا سمندر کے بیچ سبز جزیرے ایسے لگ رہے تھے جیسے کسی مصور نے نیلےکینوس پر سبز رنگ کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے رکھ دیے ہوں۔
اس سمندری سفر کے دوران تین جزیرے اہم پڑاؤ ہیں۔ہر جزیرے کی اپنی فضا ہے لیکن بیوکیڈاکا نام آتے ہی مسافروں میں ایک خاص جوش نظر آتا ہے۔ یہ سب سے بڑا اور سب سے مشہور جزیرہ ہے اور میرے لیے بھی آج کی اصل منزل یہی تھی اخرکار فیری بیوکیڈا
کے گھاٹ پر پہنچی۔تو پہلی چیز جو محسوس ہوئی وہ تھی خاموشی۔

یہاں استنبول کی سڑکوں جیسا شور نہیں تھا گاڑیوں کا مسلسل ہارن نہیں تھا ہر طرف دوڑتے ہوئے لوگ نہیں تھے۔اس کے بجائے سمندر کی ہوا تھی درخت تھے پرانے گھر تھے چھوٹی دکانیں تھیں کیفے تھے اور پیدل چلتے ہوئے لوگ تھے۔میں کچھ دیر وہیں کھڑا رہا۔ دل نے کہایہ بھی استنبول ہے۔جسکا ایک چہرہ سب سے دلکش لکڑی کے بنے ہوئے بڑے بڑے گھر ان کی بالکونیاں کھڑکیاں باغات اور پرانی تعمیرات ایک ایسے زمانے کی یاد دلاتی ہیں جو شاید بہت پہلے گزر چکا ہے۔کسی گھر کے باہر پھول کھلے تھے۔کسی کی بالکونی سے کپڑے لٹک رہے تھے۔کسی گھر کا دروازہ اتنا پرانا تھا کہ اسے دیکھ کر محسوس ہوتا تھا جیسے وہ اپنے اندر کئی دہائیوں کی کہانیاں چھپائے بیٹھا ہے۔ میں نے فیصلہ کیا کہ آج جلدی نہیں کرنی۔نہ کوئی مخصوص منزل نہ کوئی جلدی۔بس چلنا ہے ایک گلی سے دوسری گلی
درختوں کے سائے میں کبھی سمندر نظر آتا۔

کبھی لکڑی کا کوئی خوبصورت گھر کبھی سائیکل پر گزرتا ہوا شخص۔کبھی کسی کیفے سے آتی ہوئی کافی کی خوشبو اور کبھی اچانک کسی گلی کے اختتام پر سمندر سامنے آ جاتا۔ کچھ دیر چلنے کے بعد بھوک محسوس ہوئی سمندر کے قریب ایک چھوٹی سی جگہ پر بیٹھ گیا سامنے نیلا پانی تھا۔کشتیوں کی آمد و رفت تھی کھانے سے زیادہ مزہ منظر میں تھا میں سوچ رہا تھا کہ انسان کی خوشی کے لیے شاید بہت زیادہ چیزیں درکار نہیں ہوتیں ایک اچھا منظر تھوڑی سی بھوک کسی اجنبی کی مسکراہٹ اور چند گھنٹے جن میں انسان کو کہیں پہنچنے کی جلدی نہ ہو۔ سیاحوں کی موجودگی کے باوجود جزیرہ صرف سیاحوں کا نہیں تھا۔ مقامی لوگ اپنی روزمرہ زندگی میں مصروف تھے۔

کسی دکان دار سے بات ہوئی تو وہ مسکرا کر جواب دیتا۔ کسی کیفے میں بیٹھے بزرگ اخبار پڑھ رہے تھے بچے کھیل رہے تھے نوجوان سائیکل چلا رہے تھے اور کچھ سیاح نقشہ ہاتھ میں لیے راستے تلاش کر رہے تھے یہاں ایک بات بار بار محسوس ہوئی کہ سفر صرف جگہوں کو دیکھنے کا نام نہیں لوگوں کو دیکھنے اور سمجھنے کا نام بھی ہے۔ مجھے یہ احساس ہوا کہ دنیا میں زبانیں مختلف ہو سکتی ہیں کھانے مختلف ہو سکتے ہیں رسم و رواج مختلف ہو سکتے ہیں لیکن مسکراہٹ کی زبان شاید ہر جگہ ایک جیسی ہے۔ سفر کا یہی تو فائدہ ہے آپ نقشے پر موجود ملکوں کو نہیں انسانوں کو دیکھنا شروع کر دیتے ہیں۔

وقت کا پتا ہی نہیں چلا شام ہونے لگی تو واپس فیری کی طرف روانہ ہوا۔اب وہی راستہ الٹا تھا صبح جس جزیرے کی طرف امید اور تجسس کے ساتھ آ رہا تھا اب اسی جزیرے سے واپس شہر کی طرف جا رہا تھا فیری روانہ ہوئی تو میں کھلے ڈیک پر آکر کھڑا ہو گیا۔ سورج آہستہ آہستہ نیچے جا رہا تھا سمندر پر سنہری روشنی پھیل رہی تھی دور جزیرہ چھوٹا ہوتا جا رہا تھا اور استنبول دوبارہ قریب آ رہا تھا واپسی کی فیری میں چند خاموش لمحوں میں کسی سے بات کرنے کا دل نہیں چاہا میں صرف سمندر دیکھتا رہا۔صبح کی گفتگو یاد آ رہی تھی کہ یہاں وقت آہستہ چلتا ہے۔


شاید اسی لیے واپسی پر تھوڑی اداسی تھی کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ شہر میں واپس پہنچ کر وقت پھر تیز چلنے لگے گا۔ فیری جب شہر کے قریب پہنچی تو بلند عمارتیں پھر نمایاں ہونے لگیں روشنیوں سے جگمگاتا استنبول سامنے تھا۔ٹریفک ہجوم شور روشنی زندگی۔ میں فیری سے اترا تو وہی استنبول سامنے تھا۔لیکن میں وہی شخص نہیں تھا جو صبح تقسیم سے نکلا تھا میں اپنے ساتھ سمندر کی ہوا لے کر واپس آیا تھا سیگلز کی آوازیں اجنبی لوگوں کی مسکراہٹیں پرانے گھروں کی خاموش کہانیاں۔ یہاں اجنبی لوگ چند لمحوں میں گفتگو کا حصہ بن جاتے ہیں کیونکہ کچھ سفر منزل کے لیے نہیں کیے جاتے کچھ سفر اس لیے کیے جاتے ہیں کہ انسان اپنے اندر کی تھکن کو پیچھے چھوڑ آئے۔ پرنسس آئی لینڈز کا سفر بھی شاید ایسا ہی ایک سفر ہے۔استنبول نام ہے ایک ایسے شہر کا جو شور میں زندہ ہے۔ایسا شہر جو تاریخ میں سانس لیتا ہے اور ایک ایسا شہر جو سمندر کے کنارے بیٹھ کر خاموشی سے مسکراتا ہے۔پرنسس آئی لینڈز اسی مسکراہٹ کا نام ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button