بلاگپاکستانتازہ ترینجرم-وسزاعلاقائی خبریںکالم

کیا ان کارروائیوں سے کرپشن ختم ہو سکے گی؟

لاہور(فیاض ملک) فیاضیاں۔۔۔

دنیا کے دیگر ممالک کی طرح پاکستان میں بھی کرپشن کا چیلنج ہمیشہ سے موجود رہا ہے۔ اس بنیاد پر کئی حکمرانوں اور اعلیٰ افسران کے خلاف کرپشن سکینڈل بھی سامنے آتے رہے ہیں۔ بڑے عہدوں پر اکثر اختیارات سے تجاوز کرنے اور آمدن سے زیادہ اثاثوں کے کیس بھی بنتے رہے ہیں۔ لیکن نتیجہ ڈھاک کے تین پاتھ ہی رہا تھا،یہ تلخ حقیقت ہے کہ اس عمل کے دوران ہم معاشرے کو کرپشن سے پاک کرنے اور عام آدمی کو ایمانداری سے کام کرنے کے راستے میں کھڑی رکاوٹوں کو ختم کرنے کی بجائے اسے مضبوط کیے جا رہے ہیں۔ کوئی بھی معاشرہ جہاں زندگی مشکل ہوتی جائے وہاں بے ایمانی فروغ پاتی ہے، کرپشن کے دروازے کھلتے ہیں اور پھر نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ہر دوسرا شہری کرپٹ ہو جاتا ہے۔

اور یہ بھی حقیقت ہے کہ بدقسمتی سے قیام پاکستان سے آج تک کسی بھی حکومت نے مسائل کو جڑ سے اکھاڑنے کے لیے اقدامات نہیں کیے، امیر اور غریب کے مابین فرق بڑھتا چلا گیا، ملک کی اسی فیصد سے بھی زائد آبادی کے لیے زندگی مشکل تر ہوتی گئی، اس مشکل زندگی کے نتیجے میں رشوت کا بازار گرم ہوا ہے۔ سرکاری و نیم سرکاری اور غیر سرکاری اداروں میں موجود ہر دوسرا شخص جیب کاٹنے کے عمل میں شریک ہے۔

واضح رہے کہ چند روز قبل ایک تقریب میں وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے افسران سے خطاب میں کہا کہ ’جو سرکاری دفتر میں آتا ہے، جیب خالی کر کے گھر پہنچتا ہے۔‘ جوکہ انتہائی ناقابل برداشت عمل ہے،بعد ازاں اسی صورتحال کو دیکھتے ہوئے وزیر اعلی پنجاب مریم نواز شریف کی طرف انٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ پنجاب کو تمام سرکاری محکموں میں کرپشن ختم کرنے کے لیے زبانی جمع خرچ کی بجائے عملی طور پر بلاامتیاز سخت کارروائی کے احکامات جاری کئے گئےجس کے بعد ڈی جی اینٹی کرپشن پنجاب سہیل ظفر چٹھہ کی زیر نگرانی انٹی کرپشن نے حقیقی معائنوں میں لاہور سمیت پورے پنجاب میں کرپٹ عناصر کیخلاف کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔

محض چند دنوں میں ہی انٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ پنجاب کی طرف سے محکمہ پولیس اور ریونیو سمیت دیگر محکموں میں تعینات درجنوں نہیں بلکہ سینکڑوں کرپٹ آفیسرز اور اہلکاروں کیخلاف موثر ایکشن لیا گیا ہے۔اس وقت صورتحال یہ ہے کہ پنجاب کے تقریبا تمام سرکاری محکموں کے کرپٹ افسران اور اہلکاروں میں (انٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ پنجاب ) کا خوف سر چڑھ کر بول رہا ہے۔

کرپشن کے خلاف انٹی کرپشن کی کارروائیاں اپنی جگہ جاری ہے، جبکہ دوسری طرف آئی جی پنجاب عبدالکریم کی جانب سے بھی تمام اضلاع کے آر پی اوز، سی پی اوز، سی سی پی او اور ڈی پی اوز کو سختی سے ہدایات جاری کی گئی کہ کسی بھی تھانے میں اب کرپٹ پولیس افسران ایس ایچ او نہیں لگے گا!

آئی جی پنجاب کے ان احکامات کے حوالے سے میں بطور صحافی یہ سمجھتا ہوں کہ آئی جی پنجاب عبدالکریم کی جانب سے کئے گئے اس فیصلے کا مقصد پولیس میں احتساب، شفافیت اور عوامی اعتماد کو مزید مضبوط بنانا ہے اور وہ سپنے اس مقصد میں کامیاب بھی نظر آتے بھی دکھائی دیتے ہیں ۔ آئی جی کی طرف سے تمام اضلاع میں انٹرنل اکاؤنٹیبلٹی ڈیپارٹمنٹ کو بھی اپنا بھرپور کردار ادا کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

انہوں نے تمام آر پی اوز اور ڈی پی اوز کو دفاتر سے باہر نکلنے اور کرپشن کے خاتمے کیلئے عملی اقدامات کرنے کی ہدایت کی
ایک محتاط اندازے کے مطابق صرف پنجاب پولیس کے 250 کے قریب افسران، تھانیدار اور اہلکار شامل ہیں، جن کو کرپشن اور اختیارات کے مبینہ ناجائز استعمال پر مختلف عہدوں سے ہٹا کر ان کے خلاف محکمانہ کارروائی کی گئی ہے۔اس حوالے مرتب کئے گئے پولیس ریکارڈ کے مطابق کارروائی کی زد میں آنے والے اہلکاروں میں انسپکٹر سے کانسٹیبل رینک تک کے افسران و اہلکار شامل ہیں۔

متعدد اہلکاروں کے خلاف کرپشن کے الزامات ثابت ہونے کے بعد انہیں عہدوں سے ہٹایا گیا، بلکہ سنگین نوعیت کی بدعنوانی ثابت ہونے پر بعض اہلکاروں کو ملازمت سے بھی فارغ کردیا گیا۔پولیس ریکارڈ کے مطابق کرپشن کے خلاف کارروائیوں میں لاہور ضلع پہلے نمبر پر رہا، جبکہ دیگر اضلاع میں بھی کرپشن میں ملوث افسران و اہلکاروں کے خلاف کارروائی کا سلسلہ جاری ہے۔ یہی نہیں بلکہ اس وقت بھی پولیس میں موجود مختلف افسران اور اہلکاروں کے حوالے سے خفیہ رپورٹس کی بنیاد پر تحقیقات کی جارہی ہیں، جن میں الزامات کی تصدیق ہونے پر مزید کارروائیاں متوقع ہیں۔

اسی حوالے سے گزشتہ دنوں آئی جی پنجاب عبدالکریم کی زیرصدارت کئے جانیوالے ایک خصوصی اجلاس میں پولیس اصلاحات کے حوالے سے دیگر اقدامات بھی زیرِ غور آئے، جن میں اہلکاروں کو باڈی کیمروں سے لیس کرنے اور مختلف سطحوں پر جوابدہی کے نظام کو مزید مؤثر بنانے کی ہدایات شامل ہیں۔

یہاں یہ امر قابل ذکر بھی ہے کہ پہلی مرتبہ یہ دیکھنے میں آیا کہ موجودہ حکومت کی جانب سے کرپٹ عناصر کے خلاف کارروائیوں کے دعوے زبانی کلامی نہیں تھے۔آئی جی پنجاب عبدالکریم نے واضح طور پر کہا ہے کہ کرپشن اور اختیارات کے ناجائز استعمال میں ملوث اہلکاروں کو کسی صورت رعایت نہیں دی جائے گی۔

انہوں نے انٹرنل اکاؤنٹیبلٹی برانچ کو بھی کرپشن میں ملوث اہلکاروں کے خلاف کارروائیاں مزید تیز کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے پولیس فورس میں احتساب کے عمل کو مؤثر بنانے اور کرپشن سے متعلق موصول ہونے والی خفیہ رپورٹس پر قانون و ضابطے کے مطابق کارروائی کی ہدایات دی ہیں۔

واضح رہے کہ حالیہ کارروائیوں کا مقصد محکمہ پولیس میں احتساب کا نظام مضبوط بنانا اور کرپشن میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کرنا ہے۔ آنے والے دنوں میں مزید افسران و اہلکاروں کے خلاف کارروائی کا امکان بھی ظاہر کیا جارہا ہے۔ حکومت پنجاب کی جانب سے کرپٹ عناصر کے خلاف جاری آپریشن انتہائی خوش آئند ہے لیکن یہاں پر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ موجودہ نظام کے اندر کرپشن ختم کرنے کی کتنی صلاحیت موجود ہے؟ کیا حالیہ کارروائیوں سے کرپشن ختم ہوگی؟ کیا کرپٹ عناصر کے خلاف کارروائیوں کا دائرہ وسیع ہوگا؟ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ کرپشن ایک ایسا ناسور ہے جس نے نظام کو کھوکھلا کیا ہوا ہے۔؟اب سوچنے والی بات یہ بھی ہے کہ کیاحالیہ کارروائیوں سے کرپشن ختم ہوگی؟اس کا فیصلہ ہم اپنے قارئین پر چھوڑتے ہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button