پاکستانتازہ ترین

جعلی حکومت اقتدار میں لانے والوں کا حقِ نمک ادا کر رہی ہے، مولانا فضل الرحمان

ملتان میں خطاب؛ اختیارات کے ارتکاز، مہنگائی اور بے روزگاری پر حکومتی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بنایا، 26 نومبر کو سرگودھا میں جلسے کا اعلان

ملتان (وی او این) جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ یہ جعلی حکومت اقتدار میں لانے والوں کا حقِ نمک ادا کر رہی ہے۔ ان کے بقول حکمران عوامی مینڈیٹ کے بجائے ان قوتوں کے مرہونِ منت ہیں جنہوں نے انہیں اقتدار تک پہنچایا۔

ملتان میں ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے مفکرِ اسلام مولانا مفتی محمود کی دینی، علمی اور سیاسی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ مفتی محمود کی شخصیت ایک ایسی تاریخ ہے جس سے آنے والی نسلیں بھی رہنمائی حاصل کرتی رہیں گی۔ انہوں نے اپنی زندگی کا نصف حصہ ملتان میں دینی علوم کی تدریس کے لیے وقف کیا اور قرآن و حدیث سمیت فقہ کی تعلیمات کو فروغ دیا، جن کے اثرات برصغیر پاک و ہند، ایران اور افغانستان تک پھیلے۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ جمعیت علمائے اسلام نے پارلیمانی جدوجہد کا راستہ اختیار کیا۔ مولانا مفتی محمود نے 1973ء کے آئین کی تشکیل کے دوران قراردادِ مقاصد کو آئین کا حصہ بنانے کے عمل میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کے مطابق یہ پاکستان کے نظریے، عقیدے اور قیام کے مقاصد کے ساتھ وابستگی کا اظہار تھا۔

اداروں کے درمیان آئینی توازن ضروری ہے

جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ نے کہا کہ ان کی جماعت ملک میں تصادم کے بجائے تمام ریاستی اداروں کے درمیان توازن کی حامی ہے۔ فوج، بیوروکریسی، تاجر، کاروباری طبقہ، مزدور اور پارلیمان ملک کے اہم ستون ہیں، تاہم پاکستان کی ترقی کے لیے تمام اداروں کو آئینی حدود میں رہ کر کام کرنا ہوگا۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ ایک طاقتور قوت عوامی اور سول اداروں کے اختیارات اپنے اندر مرکوز کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان کے مطابق اختیارات کا غیر معمولی ارتکاز کسی بھی ادارے کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اختیار کا ضرورت سے زیادہ بوجھ ایک وقت میں ناقابلِ برداشت ہو سکتا ہے۔

سعودی عرب سے یکجہتی، اسلامی بلاک کی حمایت

مولانا فضل الرحمان نے سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کی حمایت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جمعیت علمائے اسلام نے اس معاہدے کی ابتدا ہی میں تائید کی تھی۔ ترکیہ کی شمولیت پر بھی جماعت نے حمایت کی، کیونکہ اس کے منشور میں وزارتِ خارجہ کے اصولوں کی روشنی میں اسلامی بلاک کے قیام کا تصور موجود ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایران اور مصر کی ممکنہ شمولیت کا عمل آگے نہیں بڑھ سکا۔ سعودی عرب اور مقدس مقامات سے متعلق حملوں کا ذکر کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے جارحانہ کارروائیوں کی مذمت کی اور سعودی حکومت و عوام کے ساتھ یکجہتی کا اعلان کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ حرمین شریفین کے تحفظ کے لیے جمعیت علمائے اسلام قربانی دینے سے بھی پیچھے نہیں ہٹے گی۔

مہنگائی اور بے روزگاری پر حکومت کو تنقید کا سامنا

مولانا فضل الرحمان نے معاشی ترقی کے حکومتی دعوؤں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عوام کو محض ترقی کے اشاروں کے بجائے روزگار، مہنگائی میں کمی اور بہتر معاشی حالات درکار ہیں۔ ان کے مطابق مہنگائی نے غریب طبقے کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے، جبکہ بے روزگاری کے باعث لوگ شدید پریشانیوں کا شکار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ عوام کے ٹیکسوں سے مراعات یافتہ طبقے کی آسائشوں کا سلسلہ جاری رہنا اور دوسری طرف غریب و سفید پوش خاندانوں کا مشکلات سے دوچار ہونا قابلِ تشویش ہے۔ انہوں نے حکمرانوں کو عوامی مسائل اور محرومیوں کا احساس کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

لانگ مارچ روکنے کے حکومتی رویے پر سوالات

جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ نے وزیراعظم شہباز شریف سے اپنی مبینہ گفتگو کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے لانگ مارچ روکنے کے لیے ریاستی طاقت کے استعمال اور ممکنہ جانی نقصان سے متعلق سوالات اٹھائے تھے۔

مولانا فضل الرحمان کے مطابق ان کے سامنے ایسا معاملہ تھا جس میں مظاہرین اپنے رہنما کو علاج کے لیے ہسپتال منتقل کرنے اور ملاقات کا مطالبہ کر رہے تھے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ ایسے مطالبات کے جواب میں طاقت کے استعمال اور انسانی جانوں کو خطرے میں ڈالنے کی ضرورت کیوں پیش آنی چاہیے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ وزیراعظم کے ساتھ گفتگو کے بعد بھی حکومتی مؤقف میں تبدیلی آگئی۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ ایسے حکمران کو مجبور نہیں دیکھنا چاہتے جس کے فیصلوں پر اس کا اپنا اختیار نہ ہو۔

مولانا فضل الرحمان نے حکومت کے انتخابی مینڈیٹ پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکمران دھاندلی کے ذریعے اقتدار میں آئے اور اب انہیں اقتدار میں لانے والوں کے مفادات کا تحفظ کر رہے ہیں۔ یہ الزامات ان کا سیاسی مؤقف ہیں۔

سرگودھا میں 26 نومبر کو جلسے کا اعلان

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ملک کو ایسے لوگوں کے حوالے نہیں کیا جا سکتا جو عوام کے مستقبل کے ساتھ کھیلتے رہیں۔ انہوں نے کارکنوں کو مایوس نہ ہونے کا پیغام دیتے ہوئے کہا کہ سیاسی جدوجہد جاری رہے گی۔

انہوں نے اعلان کیا کہ جمعیت علمائے اسلام کے زیرِ اہتمام 26 نومبر کو سرگودھا میں بڑا جلسۂ عام منعقد کیا جائے گا۔ ان کے مطابق سیاسی سرگرمیوں کا یہ سلسلہ قصور کے ایک علاقے سے شروع ہو کر ملتان تک پہنچا ہے اور اب سرگودھا میں جلسہ ہوگا، جبکہ آئندہ کے لائحۂ عمل کا فیصلہ جماعت کی مرکزی مجلسِ شوریٰ کرے گی۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button