لاہور (بیورو چیف، وی او این ) سپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان نے کہا ہے کہ کاروباری برادری کی مشاورت کے بغیر مؤثر معاشی پالیسیاں اور قوانین تشکیل دینا مشکل ہے۔ لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی تجاویز کا جائزہ لے کر متعلقہ حکومتی حکام کے سامنے پیش کیا جائے گا تاکہ کاروبار اور صنعت کو درپیش مسائل کے حل کے لیے قابلِ عمل اقدامات کیے جا سکیں۔
لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے دورے کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے ملک محمد احمد خان نے کہا کہ چیمبرز آف کامرس قانون سازی کے عمل میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اچھا قانون وہ ہوتا ہے جو عوام کے لیے مشکلات پیدا کرنے کے بجائے سہولت اور فوائد فراہم کرے اور اس کے مقاصد پر مؤثر عمل درآمد بھی یقینی بنایا جائے۔
انہوں نے کہا کہ کاروباری طبقہ ملکی معیشت کی ترقی کا اہم محرک ہے۔ نامساعد حالات کے باوجود پاکستان میں سرمایہ کاری کا سلسلہ جاری رہنا کاروباری برادری کے اعتماد اور قومی معیشت سے وابستگی کا مظہر ہے۔ کاروبار اور صنعت کے فروغ کے لیے غیر ضروری ضابطہ جاتی رکاوٹوں کا خاتمہ، شفافیت اور سازگار کاروباری ماحول ناگزیر ہیں۔
بجٹ سازی میں کاروباری طبقے کی مشاورت ضروری
سپیکر پنجاب اسمبلی نے کہا کہ لاہور چیمبر کی جانب سے پیش کردہ تجاویز اور دستاویزات کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔ کاروباری برادری کے مسائل کے حل کے لیے متعلقہ حکومتی اداروں کے نمائندوں اور چیمبر کے عہدیداروں کے درمیان مشاورت کا اہتمام کیا جائے گا تاکہ قابلِ عمل تجاویز پر پیش رفت ہو سکے۔
انہوں نے زور دیا کہ بجٹ کی تیاری کے دوران چیمبرز آف کامرس کی مشاورت کو خصوصی اہمیت دی جانی چاہیے۔ کاروباری طبقے کے عملی تجربات اور ماہرین کی آرا کو بجٹ سازی میں شامل کرنے سے ٹیکس نظام اور معاشی پالیسیوں کو زیادہ مؤثر اور قابلِ عمل بنایا جا سکتا ہے۔
ملک محمد احمد خان نے کہا کہ کاروباری برادری کو ٹیکسوں اور مختلف سرکاری ضابطوں کے حوالے سے پیش آنے والی مشکلات کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ حکومت اور کاروباری طبقے کے درمیان مؤثر رابطہ نہ صرف مسائل کے حل میں مدد دے گا بلکہ سرمایہ کاری اور معاشی سرگرمیوں کو بھی فروغ دے گا۔
تجاوزات کے خلاف کارروائی میں کاروباری مفادات کا تحفظ ضروری
ملک محمد احمد خان نے تجاوزات کے خاتمے کے لیے بنائے گئے قانونی نظام کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس کا بنیادی مقصد سرکاری اراضی، سڑکوں، پارکوں، قبرستانوں اور دیگر عوامی مقامات کو تجاوزات سے واگزار کرانا ہے۔ تاہم قانون کے نفاذ کے دوران کاروباری طبقے کی عزت و وقار اور جائز کاروباری سرگرمیوں کا تحفظ بھی ضروری ہے۔
انہوں نے یقین دلایا کہ چیمبر کی جانب سے اٹھائے گئے متعلقہ معاملات حکومت کے سامنے پیش کیے جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ جرائم کی روک تھام اور نگرانی کے نظام میں سرمایہ کاری سے کاروبار اور صنعت کے لیے محفوظ ماحول فراہم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
سپیکر پنجاب اسمبلی نے کہا کہ سرمایہ کاروں کا اعتماد برقرار رکھنے کے لیے قانون کی حکمرانی، شفافیت اور سرکاری اداروں کی جانب سے سہولت کاری ضروری ہے۔
لاہور چیمبر کے نومنتخب عہدیداروں کو مبارک باد
ملک محمد احمد خان نے لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے نومنتخب عہدیداروں کو مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ پنجاب اسمبلی کاروباری برادری کا اپنا ادارہ ہے اور اس کے مسائل و تجاویز سننے کے لیے دروازے کھلے ہیں۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ چیمبر اور پنجاب اسمبلی کے درمیان تعاون سے قانون سازی کے عمل کو بہتر بنانے اور کاروباری ماحول کو سازگار بنانے میں مدد ملے گی۔
خیبر پختونخوا میں گورنر راج سے متعلق حکومتی مؤقف
دوسری جانب ملک محمد احمد خان نے خیبر پختونخوا میں گورنر راج سے متعلق حکومتی مؤقف پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اس کے حق میں پیش کیے جانے والے دلائل دہشت گردی کی صورتحال، صوبائی حکومت کی کارکردگی اور انسدادِ دہشت گردی کے لیے مختص وسائل کے استعمال سے متعلق تحفظات پر مبنی ہیں۔
انہوں نے نوجوانوں کے حوالے سے کہا کہ انہیں گمراہ قرار دینے کے بجائے تعلیم، روزگار اور بہتر مستقبل کے مواقع فراہم کیے جانے چاہئیں، کیونکہ نوجوانوں کو مثبت سمت دینے کے لیے عملی اقدامات ضروری ہیں۔
عرفان صدیقی کی کتاب کی رونمائی میں شرکت
سپیکر پنجاب اسمبلی نے پنجاب یونیورسٹی میں لٹریری فیسٹیول اور کتاب میلے کی افتتاحی تقریب میں بھی شرکت کی، جہاں معروف دانشور عرفان صدیقی کی کتاب کی رونمائی کی گئی۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ملک محمد احمد خان نے کہا کہ عرفان صدیقی کی تحریروں، پارلیمانی تقاریر اور ٹی وی پروگراموں میں قومی معاملات پر پیش کیے جانے والے مؤقف کو انہوں نے ہمیشہ توجہ سے سنا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ عرفان صدیقی کے کالموں سے حالات کے ان پہلوؤں کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے جو بسا اوقات پوشیدہ رہتے ہیں۔ انہوں نے علمی و ادبی سرگرمیوں کو قومی شعور، فکری تربیت اور معاشرتی ترقی کے لیے اہم قرار دیا۔



