انٹر نیشنلبلاگپاکستانتازہ ترینکالم

طاقت،نفرت اوربغاوت

بے لگام / ستارچوہدری

جب دشمن نشانے صحیح لگانے لگے، تو سمجھ جانا کہ مہارت کوئی اپنا دکھا رہا ہے۔۔۔نپولین بوناپارٹ کے الفاظ یاد آ گئےمصری جنگجو محمد کریم کو سزائے موت سناتے ہوئے نپولین نے کہا تھا کہ تمہیں سزا اس لیے نہیں دی جا رہی کہ تم نے میری فوج سے جنگ کی، میرے سپاہی قتل کیے بلکہ اس لیے کہ تم ایک ایسی قوم کے لیے لڑتے رہے جو اپنی آزادی سے زیادہ اپنے منافع کوعزیز سمجھتے ہیں،محمد کریم نےآخری وقت میں کہا تھا، ان پڑھ، جاہل اور بزدل لوگوں میں انقلاب برپا کرنے والا ایسے ہی ہے جیسے اندھوں کے راستے میں چراغ روشن کرے۔۔۔تاریخ کے ان جملوں میں کتنی حقیقت ہے اور کتنا افسانہ، یہ اپنی جگہ، مگران کا سوال آج بھی زندہ ہے۔ قومیں ہوں یا سیاسی پارٹیاں صرف مخالف کی طاقت سے شکست نہیں کھاتیں، بعض اوقات اپنے لوگوں کی مصلحتوں، مفادات اور خاموشیوں سے بھی ہار جاتی ہیں۔۔۔۔ پتھرپرلکیر،سیاست دان ایک دوسرے کے دشمن بن جائیں تو نقصان کسی ایک جماعت کا نہیں ہوتا، پورا ملک اس کی قیمت ادا کرتا ہے۔۔۔۔
ایک ہفتے کی غیرحاضری ، اس دوران اپنی چھٹی کتاب ’’پاکستان بچاؤ‘‘ کی تقریب رونمائی ہوئی، اہل خانہ کے ساتھ وقت گزارا اور لکھنے سے وقفہ لیا۔۔۔اس دوران خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ ہوا، میرے لیے یہ کوئی حیران کن خبر نہیں تھی۔ سیاست کے ایوانوں میں بعض فیصلے اعلان سے بہت پہلے ہو چکے ہوتے ہیں، صرف مناسب وقت اور مناسب جواز کا انتظار ہوتا ہے۔۔۔۔مریم نواز نے کہا تھا انہیں ہمسایہ ممالک سے نہیں، ہمسایہ صوبے سے خطرہ ہے، سیاسی ماحول کی سمت بتانے کے لیے کافی تھا۔ پھرکپتان کی تینوں بہنوں کی گرفتاریاں بھی اسی کشیدہ فضا میں سامنے آئیں۔ واقعات الگ الگ دکھائی دیتے ہیں، مگر سیاست میں کبھی کبھی الگ الگ دکھائی دینے والی لکیریں مل کر ایک ہی تصویربناتی ہیں۔۔۔جوازکیا تلاش کیا گیا،وہی جو بھیڑیے نے میمنے پرالزام لگایا تھا ’’ تم پانی گندا کررہے ہو‘‘۔۔۔۔اگر مسئلہ واقعی دہشت گردی ہے تو پھر سوال صرف خیبر پختونخوا سے کیوں۔۔۔؟ بلوچستان میں تو دہشت گردی نے تباہی مچا رکھی ہے۔۔۔۔اپوزیشن کا یہ مؤقف نظرانداز نہیں کیا جا سکتا کہ معاملے میں معدنی وسائل کا پہلو موجود ہے۔۔۔۔
ایک طرف آٹھ بارہارا ہوا شخص، جسے گزشتہ انتخاب میں صرف پانچ ہزارووٹ ملے، مگرآج وہ صوبے کی قیادت کررہا ہے،دوسری طرف تین تہائی والا وزیراعلیٰ قید میں ہے۔عوامی مینڈیٹ کی انتی بے حرمتی۔۔۔ حکومتیں بدلتی رہتی ہیں، کرسیاں آتی جاتی ہیں،لیکن جب عوام کو یہ محسوس ہونے لگے کہ ان کے ووٹ کی کوئی قدر نہیں، ان کی رائے کی کوئی اہمیت نہیں ، تو پھر بحران ایوانوں سے نکل کر عوام کے دلوں میں اترجاتا ہے۔۔۔اوریہی وہ مقام ہے جہاں اصل سوال جنم لیتا ہے،کیا ایک سیاسی جماعت کو کمزور کرنے کی کوشش میں پورے صوبے کو کمزورکیا جا سکتا ہے۔۔۔؟ کیا مخالف قیادت کو دیوار سے لگانے سے اس کے حامیوں کے دل جیتے جا سکتے ہیں۔۔۔؟
اقتدارکے ایوانوں میں بیٹھے لوگوں کا المیہ یہ ہے کہ وہ اکثر اپنی کامیابی کو مخالف کی ناکامی سے ناپتے ہیں۔ انہیں لگتا ہے کہ مخالف کمزور ہوگیا تو ان کی طاقت بڑھ گئی، مخالف قید ہو گیا تو ان کی حکمرانی مضبوط ہو گئی، مخالف کی آواز دب گئی تو ملک میں امن قائم ہو گیا۔ حالانکہ سیاست کوئی ایسا میدان نہیں جہاں ایک کھلاڑی کو گرا دینے سے کھیل ختم ہو جائے۔ یہاں ایک شخص کی خاموشی ہزاروں آوازوں کو جنم دے سکتی ہے، ایک گرفتاری لاکھوں ذہنوں میں سوال پیدا کر سکتی ہے اور ایک فیصلہ پورے صوبے کو ریاست سے بدظن کر سکتا ہے۔عجیب تماشا ہے، ہم دہشت گردی کے خلاف جنگ بھی لڑتے ہیں اور سیاسی محاذ پر اپنے ہی لوگوں کے درمیان ایسی خلیجیں بھی کھودتے ہیں جنہیں پاٹنے میں نسلیں لگ سکتی ہیں۔ ایک طرف قومی یکجہتی کے نعرے، دوسری طرف صوبوں کے درمیان بداعتمادی ۔ ایک طرف آئین کی بالادستی کے دعوے، دوسری طرف آئینی اختیارکو سیاسی ضرورت کے ترازو میں تولنے کی بحث۔ پھر ہم حیران ہوتے ہیں کہ لوگ ریاستی بیانیے پرسوال کیوں اٹھاتے ہیں۔ سوال اٹھانے والے ہر شخص کو دشمن سمجھ لینا آسان ہے، مگر یہ سمجھنا مشکل کہ اعتماد ٹوٹ جائے تو اسے سرکاری اعلامیے سے دوبارہ جوڑا نہیں جا سکتا۔ پختونخوا کے عوام نے دہشت گردی میں اپنے پیارے کھوئے، کاروبار تباہ ہوتے دیکھے، گھروں سے نقل مکانی کی اور اپنے بچوں کے مستقبل کو بارود کے دھوئیں میں گم ہوتے دیکھا۔ ان لوگوں کو آج سب سے زیادہ ضرورت امن، روزگار، تعلیم اور تحفظ کی ہے ۔ سیاسی مخالف کو کونے میں لگانا نہ دہشت گردی کا علاج ہے، نہ معاشی بدحالی کا۔۔۔ سیاستدان اپنے مخالف کو شکست دیتے دیتے یہ بھول جاتے ہیں کہ وہ جس زمین پرکھڑے ہیں، اس کی بنیادیں عوام کے اعتماد سے بنی ہیں،بنیادیں کمزورہوجائیں تو بلند ترین عمارتیں بھی زیادہ دیرکھڑی نہیں رہتیں۔۔۔
طاقت کا اندھا کھیل دیرپا نہیں ہوتا۔ تاریخ گواہ ہے کہ طاقت سے نفرت اورنفرت سے بغاوت جنم لیتی ہے۔۔۔پختونخوا کے عوام اگر ابھی تک خاموش ہیں تواس خاموشی کو سیاسی کامیابی سمجھ لینا خطرناک غلطی ہوگی۔ خاموشی کبھی تھکن ہوتی ہے، کبھی مایوسی اور کبھی حالات کو دیکھنے کا انتظار۔۔۔۔تحریک انصاف کے کارکنوں اورحامیوں میں مایوسی بڑھ رہی ہے۔ ان کے نزدیک صوبے میں ان کی جماعت کا آخری سیاسی مورچہ بھی چھین گیا۔۔۔اس میں صرف مخالفین کی طاقت نہیں دیکھی جارہی،اپنوں کی وفاداری پرشک ہونے لگا ہے کیونکہ جب دشمن نشانے صحیح لگانے لگے، تو سمجھ جانا کہ مہارت کوئی اپنا دکھا رہا ہے۔۔۔۔ اوررہی کپتان کی بات۔۔۔۔نپولین بوناپارٹ نے محمد کریم کو سزائے موت سناتے ہوئے کہا تھا کہ تمہیں سزا اس لیے نہیں دی جا رہی کہ تم نے میری فوج سے جنگ کی، میرے سپاہی قتل کیے،سزا اس لئے دی جارہی تم ایک بزدل قوم کیلئے لڑتے رہے۔۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button