
جب سے میں بطور صحافی کرائم رپورٹنگ کررہا ہوں تب سے لیکر آج تک میں نے جتنے بھی انسپکٹر جنرل پولیس سمیت تمام ریجنل آفیسر، سی سی پی او، سی پی اوز، ڈی پی اوز کے ساتھ ساتھ ڈویژنل ایس پیز اور ایس ڈی پی اوز کی طرف سے
تعیناتی کے بعد کچھ مخصوص الفاظ پر مشتمل رٹے رٹائے بیانات مستقل بنیادوں پر سنے ، جیسے کہ ہمارے عہدے عوام کیلئے ہیں،اور ہم ان عہدوں کے ذریعے عوام کی خدمت کریں گے۔،ہم نے مخلوقِ خدا کی خدمت اور انصاف کی فراہمی کا عزم کر رکھا ہے اور سرکاری کاموں کی بجا آوری میں ذاتی مداخلت کو کسی صورت میں برداشت نہیں کیا جائے گا، تھانہ کلچر کو بہتر بنانے کیساتھ ساتھ سنگین جرائم کے خاتمے اور ضلع سے لے کر تھانے کی سطح تک میرٹ پر تبادلوں اور تعیناتیوں کے عمل کو یقینی بنایا جائے گا،لیکن ہر آفیسر کی ٹرانسفر پوسٹنگ کے بعد نتیجہ وہی ڈھاک کے تین پات ہی رہا۔اور تو اور حقیقت یہ بھی ہے کہ ان گزرے ہوئے ماہ سال میں پنجاب پولیس میں انسپکٹر جنرل سے لیکر ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ عہدے کی ہر انتظامی امور کے عہدے پر تعینات آفیسر کی طرف سے ہونےوالی بے بنیاد قسم کی تبدیلیاں و تجربات کے اثرات بھی انتہائی ناخوشگوار رہے،
یہی وجہ ہے کہ ہر گزرتے ہوئے دن کے ساتھ پنجاب بھر میں ہونیوالے جرائم کو کنٹرول کرنے کے ساتھ ساتھ ان میں ملوث عناصر کے خلاف مؤثر کارروائیاں عمل میں لانے اور محکمہ پولیس سے رشوت اور سفارش کلچر کے خاتمے کے دعوے محض دعووں کی حد تک ہی محدود رہے۔ہر عہدے پر تعینات افسر نے اپنی پوسٹنگ کا دورانیہ مکمل کیا اپنے مستقبل کو (محفوظ) بنایا اور چلتا بنا،یقین جانئے اس بات میں بھی کوئی شک نہیں ہے کہ گزشتہ کئی سالوں میں محکمہ پولیس کے اندر کرپشن اور پولیس افسران کے باہمی اختلافات عروج پر پہنچ گئے جن کو مکمل طور پر ختم کرنے کیلئے چند ایک افسران کی جانب سے سنجیدہ کوششیں بھی کی گئی پتہ نہیں کیوں اب تک اس کے کوئی مثبت نتائج سامنے نہ آ سکے۔یہاں اگر میں 2000ءکے آغاز سے شروع ہوکر 2003ء پھر 2007ء اور 2012ء سے آج 2026 تک کی پولیسنگ کا جائزہ لوں تو واضح طور معلوم پڑتا ہے کہ محکمہ پولیس میں ہونے والی ”سیلوٹ سیاست“ اور اس کے ساتھ ساتھ افسران کی پسند و ناپسند کی بناء پر ہونے والی ٹرانسفر و پوسٹنگ کی وجہ سے بیشتر قابل اور ایماندار پولیس افسران اس حد تک دلبرداشتہ ہو چکے ہیں کہ وہ فیلڈ پوسٹنگ کی بجائے اسپیشل برانچ، ایلیٹ ہیڈ کوارٹرز اور سی پی او میں مختلف شعبوں کے دفاتر میں تعیناتیوں کو ترجیح دیتے ہیں، سی پی او آفس میں تعینات ایک سینئر پولیس آفیسر کے مطابق جو چیز پولیس کے قبضے یا استعمال میں ہو تو اس ”چیز“ کومقبوضہ پولیس کہا جاتا ہے، اسی طرح پنجاب پولیس کے بیشتر اضلاع کے آرپی اوز، سی پی اوز اور ڈی پی اوز نے اپنی اپنی خود ساختہ ریاستوں پر ہی محکمہ پولیس کو اپنے ”مقبوضہ پولیس“ بنا کر رکھا ہوا ہے جہاں پر تعینات کوئی بھی آفیسر اپنی مرضی سے کوئی کام نہیں کر سکتا ہے اور اگر کوئی بھول چوک سے عوامی مفاد کیلئے اپنے اختیارات کو استعمال کرنے کی جسارت کریں تو آنا فانا بغیر کسی وجہ سے اس (گستاخ آفیسر) کا وہاں سے تبادلہ کروادیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ
پنجاب پولیس میں 2000ءکے بعد سے لیکر آج تک افسران کی گروپ بندی عروج پر دکھائی دیتی ہیں۔پولیس کے اندرموجود یہ گروپ بندی کیطایک بڑی وجہ سیلوٹ کی سیاست کو بھی سمجھا جاتا ہے جس کا شکار ماضی اور حال میں ہر عہدے کے بہت سے آفیسر ہوچکے ہیں ،لیکن شاید پنجاب پولیس میں اچھی کارکردگی کی ویلیو (سلیوٹ کی سیاست )کے آگے کچھ نہیں، اس بارے میں سی پی او آفس سے لے کر پنجاب کے مختلف اضلاع میں تعینات تمام پولیس افسران اچھی طرح جانتے ہیں اور محکمہ پولیس میں ایسی ”اچانک“ ہونے والی ٹرانسفر و پوسٹنگ کو بھی اپنی نوکری کا حصہ سمجھتے ہیں، یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ جس طرح موجودہ آئی جی عبدالکریم نے انسپکٹر جنرل کا عہدہ سنبھالنے کے بعد میرٹ اور کارکردگی کی بنیاد پنجاب کے تمام بڑے و چھوٹے اضلاع میں ان پولیس افسران کو بطور آر پی او لیکر ڈی پی او عہدہ پر تعینات کیا تھا جن کا تعلق پولیس کے کسی بھی پریشر گروپ سے نہ تھا، جس کے بعد انہوں نے اپنی مثبت پالیسیوں کی وجہ سے اضلاع میں ہونیوالے سنگین و عام نوعیت کے جرائم کو کنٹرول کیا اسی طرح اب ان کو محکمہ پولیس میں موجود چند مخصوص افسران کی جانب سے پسند و ناپسند کی بناء پر ہونے والی ٹرانسفر و پوسٹنگ کے اس سلسلے پر سختی سے پابندی عائد کرتے ہوئے پولیس سربراہ کی حیثیت سے صرف اور صرف میرٹ اور ایمانداری پر ایس ایس پی سے لے کر ایس پی، ایس ڈی پی او اور اس کے ساتھ ساتھ ایس ایچ او کی پوسٹنگ کے عمل کو یقینی بنانا ہو گا ان کا یہ عمل پولیس کو بہتری کی جانب لانے میں اہم سنگ میل ثابت ہو گا، ان کے اس اقدام کی وجہ سے پنجاب پولیس میں گزشتہ چند سالوں کے دوران انتہائی تیزی کے ساتھ پروان چڑھنے والی ”سیلوٹ سیاست“ بھی اپنے منطقی انجام کو پہنچ جائے اور پنجاب پولیس کی تاریخ میں ان کا نام سنہری حروف میں لکھا جائے گا۔



