بلاگپاکستانتازہ ترینجرم-وسزاکالم

گورنر راج کے بعد

حسنین جمیل

تحریک انصاف کے بیرسٹر گوہر علی خان نے خیبر پختونخوا کے گورنر راج کو پشاور ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا ہے۔ توقع ہے کہ اگلے ایک دو روز میں اس مقدمے کی سماعت شروع ہو جائے گی۔ 26 ویں اور 27 ویں آئینی ترامیم کے بعد وطن عزیز کی اعلیٰ عدالتوں کی صورتحال واضح ہو چکی ہے۔ اہم ترین قانونی اور آئینی معاملات کے مقدمات کے فیصلوں کے لیے یہ اعلیٰ عدالتیں اب ہیتِ متدرہ کی محتاج بن چکی ہیں، تمام ہائی کورٹس اور سپریم کورٹ میں اپنے من پسند ججوں کو تعینات کیا گیا ہے اوپر سے سپریم کورٹ کی متبادل آئینی عدالت کا قیام بھی سپریم کورٹ کو غیر فعال کر چکا ہے۔

یہ موجودہ رجیم، جو ہیتِ متدرہ کی کٹھ پتلی ہے، کا پاکستان کے نظامِ عدل کے ساتھ ایک ایسا کھلواڑ ہے جس کی نظیر 80 سالہ ملکی تاریخ میں نہیں ملتی۔ وزارتِ قانون کا یہ کارنامہ سیاہ حروف سے عدل کی دیوار پر لکھا جائے گا۔ لہٰذا گورنر راج کے خاتمے کی امید رکھنا فضول ہے۔ ہاں البتہ ایک بات ہو سکتی ہے خیبر پختونخوا کے عوام کے منتخب وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی، جو گورنر راج کے نفاذ کے بعد سے "لاپتہ” ہو چکے ہیں، اور اسپیکر خیبر پختونخوا بابر سواتی و رکنِ قومی اسمبلی جنید اکبر کے بارے میں شاید کچھ پتہ چل جائے کہ وہ کس کی تحویل میں ہیں۔

ایک لمحے کے لیے ذرا آپ سوچیں کہ کیا کسی مہذب ملک میں کسی منتخب وزیر اعلیٰ، اسپیکر اسمبلی یا رکنِ ایوانِ زیریں کو یوں لاپتہ کیا جا سکتا ہے؟ آپ کا جواب یقینی طور پر نفی میں ہو گا، مگر یہ سب صرف پاکستان میں ہو سکتا ہے ایک ایسا ملک جو اپنے قیام سے اب تک فلاحی ریاست نہ بن سکا، جہاں اداروں کی شتربے مہاری نے اسے ایک سرکش ریاست بنا دیا ہے۔ اب تک 3 وزرائے اعظم کو راستے سے ہٹایا جا چکا ہے، اور ایک پابندِ سلاسل ہے جس کے تمام بنیادی انسانی حقوق سلب کیے جا چکے ہیں۔ وفاق، پنجاب، سندھ، بلوچستان، گلگت بلتستان اور کشمیر میں فارم 47 کی حکومتیں قائم ہیں۔ جس صوبے یعنی کے پی کے میں فارم 45 کی اصل حکومت قائم تھی، اسے ختم کر کے گورنر راج نافذ کر دیا گیا۔

خیبر پختونخوا کی تین مختلف مکتبہ فکر کی سیاسی جماعتیں تحریک انصاف، عوامی نیشنل پارٹی اور جمعیت علمائے اسلام (فضل الرحمان)گورنر راج کے خلاف کھل کر بات کر رہی ہیں۔ ان تینوں جماعتوں کا سیاسی نظریہ ایک دوسرے سے مختلف ہے، مگر ہیتِ متدرہ اور ان کی کٹھ پتلی حکومت کے وزیر اعظم شہباز شریف نے گورنر راج کا فیصلہ کیا اور صدر آصف علی زرداری نے اس کی توثیق کر دی۔

گورنر راج کے خلاف کے پی کے کے مختلف علاقوں میں احتجاج ہو رہا ہے، اور عوامی نفرت کا لاوا آہستہ آہستہ پک رہا ہے، جس کی ہلکی سی مثال گورنر فیصل کریم کنڈی اور وزیر اطلاعات ثمر بلور پشاور میں دیکھ چکے ہیں۔

مراد سعید کے حوالے سے ریاست نے غداری کا وہی پرانا اور بھونڈا طریقہ کار شروع کر دیا ہے۔ مراد سعید جب وفاقی وزیر تھا تب وہ کھل کر سوات میں طالبان کے دوبارہ فعال ہونے پر آواز اٹھایا کرتا تھا اور تمام تفصیلات اپنی کتاب "درزِ نیم شب کے ہمسفر” میں لکھ چکا ہے۔ لہٰذا، اس مزاحیہ ناٹک پر کوئی یقین نہیں کرے گا، بلکہ یہ الٹا موجودہ رجیم اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف عوام میں مزید نفرت کا باعث بنے گا۔

مگر اس بات کا فائدہ تب ہی ہے جب ریاست اپنی 80 سالہ حماقتوں اور من مانیوں کو ختم کر کے حقیقی عوامی نمائندوں کے سامنے سرنگوں ہو جائے۔ آج کشمیر، بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں عوامی نفرت کا جو لاوا پک رہا ہے، جب وہ آتش فشاں بن کر پھٹے گا تو کیا ہو گا؟ وہ الفاظ لکھنے کی جرات مجھ میں نہیں ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button