انٹر نیشنلپاکستانتازہ ترین

آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول، ایران کے خلاف جنگ جلد ختم ہو جائے گی: ٹرمپ کا دعویٰ

واشنگٹن، تہران (ویب ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ نے آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول حاصل کر لیا ہے اور ایران کے خلاف جاری جنگ جلد ختم ہو جائے گی۔ دوسری جانب ایران نے واضح کیا ہے کہ وہ اپنے مطالبات منوائے بغیر پیچھے نہیں ہٹے گا، تاہم تہران غیر معینہ مدت تک جنگ جاری رکھنے یا طویل مذاکرات میں الجھنے کا خواہاں نہیں۔

امریکی ریاست ایریزونا کے شہر بل ہیڈ سٹی میں عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران اپنی بحریہ، فضائیہ، ریڈار نظام اور فضائی دفاعی صلاحیتوں سے محروم ہو چکا ہے۔ انہوں نے ایرانی قیادت کو پہنچنے والے نقصان کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ قیادت کی پہلی سطح کے بعد دوسری سطح کے رہنما بھی مارے گئے، جبکہ تیسری سطح کی قیادت میں سے بھی نصف ہلاک ہو چکی ہے۔

ٹرمپ نے مزید دعویٰ کیا کہ بعض افراد نے ان سے مزید حملے نہ کرنے کی درخواست کی تھی اور انہوں نے اپنے وعدے پر عمل کیا۔ تاہم، ان کے بیان میں جنگ کے خاتمے کے لیے کوئی حتمی تاریخ نہیں دی گئی۔

فوجی کارروائیوں سے مذاکرات مزید پیچیدہ ہونے کا اعتراف

امریکی صدر نے اشارہ دیا کہ فوجی حملوں کے نتیجے میں ایران کے ساتھ مذاکرات کا عمل مزید پیچیدہ ہو گیا ہے۔ ان کے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ جنگ جلد ختم ہونے کی توقعات کے باوجود سفارتی کوششوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔

ٹرمپ نے تسلیم کیا کہ ایران کے ساتھ جاری تنازع کے باعث ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں پہلے ہی پٹرول مہنگا ہونے کا اندازہ تھا، تاہم قیمتوں میں اضافے کی شدت ان کی توقع سے زیادہ رہی۔

دوسری جانب آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر حملوں میں اضافے کی اطلاعات نے خطے میں بحری سلامتی اور عالمی توانائی کی ترسیل سے متعلق خدشات کو نمایاں کیا ہے۔ آبنائے ہرمز عالمی سطح پر تیل اور گیس کی ترسیل کے اہم ترین بحری راستوں میں شمار ہوتی ہے۔

خفیہ معلومات افشا کرنے والوں کے خلاف سخت بیان

ڈونلڈ ٹرمپ نے خفیہ معلومات افشا کرنے والوں کے خلاف سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ ایسے افراد کو گولی مار دینی چاہیے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ خبر رساں اداروں کو ایران پر حملے کے وقت کا علم ہونے کے باعث انہوں نے ایک کارروائی منسوخ کر دی تھی۔

امریکی صدر نے کہا کہ ان کے خیال میں پرانے زمانے کی طرح خفیہ معلومات افشا کرنے والوں کے خلاف سخت ترین کارروائی ہونی چاہیے۔ ان کے اس بیان پر خفیہ معلومات کے تحفظ، صحافتی آزادی اور قومی سلامتی کے درمیان توازن سے متعلق سوالات اٹھ سکتے ہیں۔

ایران پر نئے حملوں کے لیے ’مدر آف آل بمز‘ کے استعمال کی منصوبہ بندی

دوسری جانب امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے متعدد امریکی حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ ایران کے خلاف فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے کا حکم دیے جانے کی صورت میں امریکی فوج نے نئے حملوں کے منصوبے تیار کیے ہیں۔ ان منصوبوں میں ایران کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے اور جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کے لیے دنیا کے طاقتور ترین غیر جوہری بموں میں شمار ہونے والے بم ’مدر آف آل بمز‘ کے استعمال کا امکان بھی شامل ہے۔

رپورٹ کے مطابق جی بی یو-43/بی ایم او اے بی (GBU-43/B MOAB) امریکہ کے سب سے بڑے غیر جوہری بموں میں سے ایک ہے، جس کا وزن تقریباً 9 ہزار 800 کلوگرام ہے۔ یہ بم زمین سے ٹکرانے سے پہلے فضا میں دھماکے کے ذریعے وسیع علاقے میں تباہی پھیلانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

رپورٹ میں بیان کردہ منصوبے ممکنہ فوجی کارروائیوں سے متعلق ہیں؛ ان سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ بم استعمال کرنے کا حتمی فیصلہ کر لیا گیا ہے یا اسے ایران میں استعمال کیا جا چکا ہے۔

ایران کا اعلان، مطالبات تسلیم کیے بغیر جنگ ختم نہیں ہوگی

ایران نے امریکہ کے خلاف مزاحمت جاری رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ تہران اپنے مطالبات کی منظوری کے بغیر پیچھے نہیں ہٹے گا۔ تاہم ایرانی قیادت نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ ایران نہ غیر معینہ مدت تک جنگ جاری رکھنے کا خواہاں ہے اور نہ ہی طویل مذاکرات میں الجھنا چاہتا ہے۔

ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے ٹیلی ویژن پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایران کا مقصد ایسا پائیدار دفاعی توازن قائم کرنا ہے جو مستقبل میں کسی بھی جارحیت کی روک تھام کر سکے۔

انہوں نے کہا کہ تہران مذاکرات کے ذریعے اس ہدف کو حاصل کرنا چاہتا ہے، تاہم اپنے مطالبات منظور کرائے بغیر لڑائی ختم کرنے پر آمادہ نہیں ہوگا۔

جنگ کے خاتمے پر غیر یقینی صورتحال برقرار

امریکی صدر کی جانب سے جنگ جلد ختم ہونے کے دعوے، ممکنہ نئے فوجی حملوں کی منصوبہ بندی اور ایران کے سخت مؤقف کے باعث خطے میں صورتحال غیر یقینی ہے۔ ایک طرف سفارتی حل کی بات کی جا رہی ہے، جبکہ دوسری جانب فوجی دباؤ اور دفاعی تیاریوں کے بیانات بھی سامنے آ رہے ہیں۔

تنازع کے مستقبل کا انحصار فریقین کے عملی اقدامات، مذاکرات میں پیش رفت اور آبنائے ہرمز سمیت اہم بحری راستوں کی سلامتی پر ہوگا۔ جنگ کے خاتمے کے لیے تاحال کسی حتمی تاریخ یا متفقہ معاہدے کی تصدیق فراہم کردہ معلومات میں موجود نہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button