پاکستانتازہ ترینجرم-وسزا

مریدکے فائرنگ:قاتل اور مقتول پولیس اہلکار،تفتیش سوالیہ نشان؟

پولیس کی روایتی پریس ریلیز جاری ہوئی نہ انکوائری آگے بڑھی،فائرنگ میں سرکاری اسلحہ استعمال ہوایا پرائیویٹ؟،پولیس کے بڑوں کا روایتی اکٹھ، اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا سب کو انتظار

لاہور(بیوروچیف /سیدظہیرنقوی سے ) مریدکے میں فائرنگ اور ٹریفک حادثے میں جاں بحق ہونے والے سی آئی اے سب انسپکٹر مراتب علی اور ذکا کے حوالے سے تفتیش سوالیہ نشان بن گئی۔

پولیس کی تاریخ میں شاید یہ پہلا ایسا واقعہ ہے جس نے اعلیٰ حکام کو بھی چکراکر رکھ دیا ہے،جب بھی کوئی پولیس مقابلہ ہوتا ہے تو روایتی پریس ریلیز جاری کی جاتی ہے کہ پولیس ملزمان کو گاڑی میں لے جارہی تھی ملزموں کے اپنے ساتھیوں نے انہیں چھڑانے کیلئے فائرنگ کردی جس کے نتیجہ میں ملزم ہلاک ہوگیا اور اس کے ساتھی فرار ہوگئے جن کی تلاش جاری ہے ۔

جائے وقوع پر پولیس اہلکار گاڑی کے پاس کھڑے ہیں

مرید کے میں ہونے والے واقعہ نے سب کو ہلا کر رکھ دیا ہے جس میں پولیس کے 2اہم اہلکاروں کی جانیں ضائع ہوئی ہیں اور ان کی جان لینے والے کوئی اور نہیں بلکہ مبینہ طور پر لاہور کے معروف علاقہ میں واقع تھانہ بادامی باغ کے دو کانسٹیبل ہیں اب یہ محض اتفاق ہے یا اس کے پیچھے کوئی منصوبہ ہے اس حوالے سے کئی سوالات جنم لے رہے ہیں کیوں کے مقتول اور قاتل بھی مبینہ طور پر پولیس اہلکار ہیں۔

کانسٹیبلوں نے اگر اسلحہ استعمال کیا ہے تو کیا یہ سرکاری اسلحہ تھا یا پرائیویٹ؟، لاہور کے پولیس اہلکاروں کو مریدکے میں کسی بھی کارروائی یا آپریشن کیلئے کس نے اجازت دی؟کیا کسی نے مریدکے میں متعلقہ تھانہ کو آن بورڈ لیا تھا؟

سب سے اہم بات یہ ہے کہ مرنے والے اور مارنے والے بھی اہلکار لاہور میں ہی تعینات تھے ،ذرائع کے مطابق سی آئی اے سب انسپکٹر مراتب علی اور ذکا ریکارڈ یافتہ ملزم ارسلان موٹا کے ساتھ مریدکے گئے تھے گاڑی ارسلان موٹاڈرائیو کررہا تھا جو خود ایک ریکارڈ یافتہ ملزم ہے جبکہ ان کی گاڑی کا شاہدرہ کا رہائشی واصف جو کہ مخبر ،ارسلان موٹا کا مخالف اور خودبھی ریکارڈ یافتہ ہے ہمراہی دوگاڑیوں اور کانسٹیبلان جمشید وغیرہ کےپیچھا کررہے تھے۔

پولیس ذرائع کے مطابق مریدے میں ایک مقام پر گاڑی میں سوار ملزم ارسلان موٹا نے موٹرسائیکل پر سوار کانسٹیبل جمشید وغیر ہ کو ہٹ کیا جس پر گاڑی میں سوارمخبر اور ارسلان موٹا کے مخالف واصف اور دیگر نے فائرنگ شروع کردی ،یہاں ایک اور حیران کن بات یہ ہے کہ موٹرسائیکلوں اور گاڑیوں پر مشتمل اہلکاروں کو جب اتنی زیادہ انفارمیشن تھی تو راستے میں ان کو کائونٹر کیوں نہیں کیا گیا ؟

ارسلان موٹا فائرنگ کے بعد گاڑی پر قابو نہ رکھ سکا اور ٹرالرکے ساتھ ٹکرانے کے بعد گاڑی کھمبے سے لگی جس سے دونوں اہلکاروں کی موت ہوگئی۔

ذرائع کے مطابق شیخوپورہ اور لاہور پولیس کے حکام نے سرجوڑ لئے ہیں تاہم ابھی تک کوئی پیشرفت نہیں ہوسکی اب اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا سب کو انتظار ہے۔

ایس ایس پی انویسٹی گیشن لاہور محمد نوید کے مطابق تھانہ بادامی باغ کی ٹیم ڈاکوئوں کی موجودگی کی اطلاع پر ریڈ کیلئے گئی تھی جس کے آدھے گھنٹے بعد حادثہ کا واقعہ پیش آیا،پولیس ذرائع کے مطابق واقعہ کی تحقیقات شیخوپورہ پولیس کررہی ہے جلد شواہد کو سامنے لایا جائے گا ملزمان کو کیفر کردارتک پہنچایا جائے گا۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button