لاہور، گوجرانوالہ، اسلام آباد (ویب ڈیسک) وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کا نفاذ مجبوری کے تحت کیا گیا، کیونکہ صوبے میں مسلسل دھمکیوں اور لانگ مارچ کے اعلانات کے باعث صورتحال کشیدہ ہو رہی تھی۔ ان کے بقول بعض عناصر خونریزی کا منصوبہ بنا رہے تھے اور حکومت خاموش تماشائی بن کر ممکنہ تباہی نہیں دیکھ سکتی تھی۔
گوجرانوالہ میں سابق رکن قومی اسمبلی بشیر ورک کے تعزیتی ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ گزشتہ ڈھائی برس کے دوران خیبرپختونخوا میں سکیورٹی اور انتظامی معاملات بہتر بنانے کے لیے متعدد کوششیں کی گئیں۔ اس سلسلے میں موجودہ اور سابق وزرائے اعلیٰ سے بھی کئی ملاقاتیں ہوئیں اور صوبائی قیادت کو وفاقی حکومت کے تعاون کی یقین دہانی کرائی گئی۔
شہباز شریف نے کہا کہ خیبرپختونخوا ایک غیور صوبہ ہے اور وفاق ہر ممکن تعاون کے لیے تیار رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان سے جڑی دہشتگردی میں 2018ء سے شدت آنے کے تناظر میں قومی یکجہتی اور مشترکہ حکمت عملی کے ذریعے ہی مؤثر طور پر مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں اور عام شہریوں نے بے شمار قربانیاں دی ہیں۔
وزیراعظم کے مطابق وفاقی حکومت نے مسائل کے حل کے لیے متعدد اقدامات کیے، تاہم اس دوران احتجاجی تحریکوں اور لانگ مارچ کے اعلانات کے باعث سیاسی تناؤ بھی برقرار رہا۔
سیاسی مذاکرات اور ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق وزیراعظم کا مؤقف
شہباز شریف نے بتایا کہ حالیہ سیاسی بحران کے دوران مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی کی مشترکہ کمیٹی قائم کی گئی تھی، جس نے 48 گھنٹے کی مشاورت کے بعد ایک متفقہ مسودہ تیار کیا، تاہم بعد میں معاملات طے نہ پا سکے۔
انہوں نے کہا کہ اگر بروقت فیصلے نہ کیے جاتے تو صورتحال مزید خراب ہو سکتی تھی۔ وزیراعظم نے حالات کو اس مثال سے تشبیہ دی کہ ’’روم جل رہا تھا اور نیرو بانسری بجا رہا تھا‘‘، اور کہا کہ ملکی مفاد میں فوری فیصلہ ناگزیر ہو گیا تھا۔
وزیراعظم کے مطابق سابق وزیراعلیٰ کو دہشتگردی کے خلاف مشترکہ کوششوں کی دعوت دی گئی اور یقین دلایا گیا کہ خیبرپختونخوا کو درکار وسائل فراہم کیے جائیں گے، تاہم ان کے بقول اس کے جواب میں لانگ مارچ کی دھمکیاں سامنے آتی رہیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کے لیے ممکنہ تباہی پر خاموش رہنا مجرمانہ غفلت کے مترادف ہوتا۔ شہباز شریف نے پی ٹی آئی کے سابقہ سیاسی طرزعمل پر بھی تنقید کی اور کہا کہ حکومت نے ملکی سلامتی اور امن و امان کو ترجیح دیتے ہوئے اقدامات کیے۔
خیبرپختونخوا کے لیے 11 رکنی ایڈوائزری کونسل قائم
وزیراعظم نے بتایا کہ خیبرپختونخوا میں 11 رکنی غیر سیاسی ایڈوائزری کونسل قائم کر دی گئی ہے، جس میں مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے باصلاحیت اور اچھی شہرت کے حامل افراد شامل ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ اقدامات صوبے میں انتظامی معاملات اور امن و امان کی بہتری میں معاون ثابت ہوں گے۔
شہباز شریف نے کہا کہ وہ جلد خیبرپختونخوا کا دورہ کریں گے اور وہاں مختلف اجلاسوں کی صدارت بھی کریں گے۔
معاشی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ملک کی معیشت، جو کچھ عرصہ قبل دباؤ کا شکار تھی، اب استحکام کی جانب بڑھ رہی ہے۔ تاہم مشرق وسطیٰ کی صورتحال کے باعث مہنگائی کے خدشات بدستور موجود ہیں۔
فیول سبسڈی پروگرام سے ایک کروڑ 20 لاکھ افراد مستفید
وزیراعظم شہباز شریف نے فیول سبسڈی پروگرام کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ اس مد میں 75 ارب روپے کی سبسڈی فراہم کی گئی ہے اور اب تک ایک کروڑ 20 لاکھ افراد اس سے مستفید ہو چکے ہیں۔ ان کے مطابق پروگرام سے براہ راست یا بالواسطہ تقریباً ساڑھے چھ کروڑ افراد کو فائدہ پہنچ رہا ہے اور یہ سلسلہ جاری رہے گا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت عوام کو ریلیف فراہم کرنے اور ملک میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔
کھیلوں کے فروغ کے لیے جامع حکمت عملی بنانے کا اعلان
وزیراعظم شہباز شریف نے کھیلوں کے فروغ اور کھلاڑیوں کی سرپرستی کے لیے جامع حکمت عملی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ نوجوانوں کو کھیلوں کے میدان میں آگے بڑھنے کے یکساں مواقع فراہم کرنا حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔
ایشین گیمز میں تمغے جیتنے والے پاکستانی کھلاڑیوں کے اعزاز میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ کھیلوں کی ترقی کے لیے اجتماعی کوششوں، تربیت یافتہ کوچز اور مناسب وسائل کی فراہمی ضروری ہے۔ جہاں بھی صلاحیت موجود ہوگی، حکومت اسے آگے بڑھانے کے لیے اقدامات کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستانی کھلاڑیوں نے ایشین گیمز میں دو چاندی اور آٹھ کانسی کے تمغے جیت کر ملک کا نام روشن کیا ہے۔ کھلاڑیوں کی محنت اور والدین کی دعاؤں نے اس کامیابی میں اہم کردار ادا کیا، تاہم کھیلوں کے شعبے میں مزید ترقی کی گنجائش موجود ہے۔
وزیراعظم نے اعلان کیا کہ کھیلوں کے شعبے میں مزید اقدامات اور مستقبل کی حکمت عملی پر مشاورت کے لیے جلد اسپورٹس کانفرنس منعقد کی جائے گی۔ انہوں نے ایشین گیمز میں میڈلز حاصل کرنے والے کھلاڑیوں کو مبارکباد دی اور ان میں چیک بھی تقسیم کیے۔
تقریب میں وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ، چیئرمین وزیراعظم یوتھ پروگرام رانا مشہود احمد خان، قومی ہاکی ٹیم کے سابق کپتان اور اولمپئن حسن سردار اور اسکواش کے سابق عالمی چیمپئن جہانگیر خان سمیت دیگر شخصیات موجود تھیں۔
وزیراعظم کی محمود بشیر ورک کے اہل خانہ سے تعزیت
مزید برآں وزیراعظم شہباز شریف گوجرانوالہ میں راشد بشیر ورک کی رہائش گاہ پر گئے، جہاں انہوں نے رکن قومی اسمبلی اور سابق وفاقی وزیر محمود بشیر ورک کے انتقال پر ان کے اہل خانہ سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا۔
وزیراعظم نے مرحوم کے لیے دعائے مغفرت کی اور سوگوار خاندان سے اظہارِ افسوس کیا۔
ادارتی وضاحت: خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ، خونریزی کے مبینہ منصوبے، سبسڈی کے اعدادوشمار اور ایشین گیمز کے تمغوں سے متعلق تفصیلات وزیراعظم کے بیان کے طور پر پیش کی گئی ہیں۔ اشاعت سے قبل ایمرجنسی کی آئینی و قانونی حیثیت، متعلقہ سرکاری نوٹیفکیشن اور تمام اعدادوشمار کی تصدیق ضروری ہے۔



