
حادثے سے رپورٹ تک، رپورٹ سے فائل تک اور فائل سے خاموشی تک پاکستان کا سفر،پاکستان میں کوئی بڑا حادثہ ہوتا ہے، لوگ مرتے ہیں، خاندان اجڑتے ہیں، حکمران اظہارِ افسوس کرتے ہیں، ذمہ داروں کے تعین کا اعلان ہوتا ہے اور پھر ایک کمیشن یا تحقیقاتی کمیٹی قائم کر دی جاتی ہے۔ کمیشن گواہوں کے بیانات لیتا ہے، دستاویزات جمع کرتا ہے، مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیتا ہے اور بالآخر ایک رپورٹ تیار ہو جاتی ہے۔ قوم سمجھتی ہے کہ اب انصاف کا سفر شروع ہوگا، مگر اصل سوال وہیں کھڑا رہتا ہے کہ رپورٹ کے بعد کیا ہوا؟
یہی پاکستان کا ایک ایسا المیہ ہے جس نے عوام کے اعتماد کو مسلسل کمزور کیا ہے۔ حادثہ ختم ہو جاتا ہے، خبر ختم ہو جاتی ہے، آنسو خشک ہو جاتے ہیں، مگر کمیشن زندہ رہتا ہے۔ رپورٹ فائل بن جاتی ہے اور فائل اکثر اسی نظام کی خاموشی میں گم ہو جاتی ہے جس کے احتساب کے لیے کمیشن بنایا گیا تھا۔
اسلام آباد کے PIMS کا حالیہ سانحہ اسی سوال کو ایک بار پھر ہمارے سامنے لے آیا ہے۔ نومولود بچوں کے وارڈ میں آگ لگی اور 15 بچوں میں سے 14 جان کی بازی ہار گئے۔ تحقیقات ہوئیں، حفاظتی انتظامات اور انتظامی ذمہ داری سمیت مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا اور ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف کارروائی بھی شروع ہوئی، لیکن وہ بچے واپس نہیں آسکتے۔ وہ صرف 14 اعداد نہیں تھے؛ وہ کسی ماں کی دعا، کسی باپ کا خواب، کسی خاندان کا مستقبل تھے۔ ممکن تھا ان میں کوئی مستقبل کا سائنس دان ہوتا، کوئی ڈاکٹر، کوئی استاد، کوئی سیاسی رہنما یا پاکستان کا کوئی بڑا نام، مگر ریاست انہیں زندگی کا بنیادی حق بھی نہ دے سکی۔
یہ سوال صرف PIMS کا نہیں۔ ماڈل ٹاؤن سے ایبٹ آباد تک، سیاسی بحرانوں سے انتخابی تنازعات تک، پاکستان میں کمیشن اور انکوائریاں بنتی رہی ہیں۔ کبھی رپورٹ سامنے آنے میں برس لگے، کبھی رپورٹ پر عمل درآمد سوال بن گیا اور کبھی قوم اگلے سانحے میں اتنی مصروف ہوگئی کہ پچھلا سانحہ پس منظر میں چلا گیا۔ مسئلہ کمیشن بنانا نہیں، مسئلہ یہ ہے کہ کمیشن کے بعد انصاف کہاں جاتا ہے؟
یہی سوال احتساب کے میدان میں بھی نظر آتا ہے۔
کسی سیاسی رہنما پر کرپشن کے الزامات لگتے ہیں، نیب، ایف آئی اے یا اینٹی کرپشن کی تحقیقات ہوتی ہیں، مقدمات بنتے ہیں، گرفتاریاں ہوتی ہیں، بعض لوگ جیل جاتے ہیں اور قوم کو بتایا جاتا ہے کہ احتساب کا عمل جاری ہے۔ پھر قانونی جنگ برسوں چلتی ہے، حکومتیں بدلتی ہیں، سیاسی حالات تبدیل ہوتے ہیں اور بعض اوقات حتمی عدالتی فیصلے سے پہلے ہی معاملہ نئی سمت اختیار کر لیتا ہے۔ یہاں ایک بنیادی اصول ہمیشہ مقدم رہنا چاہیے کہ الزام کو سزا نہیں سمجھا جا سکتا اور بریت کو بھی سیاسی نعرے کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا؛ فیصلہ عدالت نے کرنا ہے۔
مگر عوام کا سوال اپنی جگہ ہے: اگر تحقیقات برسوں جاری رہیں، قومی وسائل خرچ ہوں اور مقدمات سیاسی زندگی کا حصہ بن جائیں تو ان کا حتمی نتیجہ کب سامنے آئے گا؟ اگر جرم ثابت ہے تو سزا ہونی چاہیے، اگر الزام غلط ہے تو واضح بریت ہونی چاہیے۔ انصاف کو نہ سیاسی انتقام بننا چاہیے اور نہ سیاسی رعایت۔
ورنہ الزام زندہ رہتا ہے، رپورٹ زندہ رہتی ہے، فائل زندہ رہتی ہے اور کمیشن سب سے زیادہ زندہ رہتا ہے۔پاکستان نے قومی جذبے کے نام پر عوام سے بھی کئی مرتبہ قربانیاں مانگی ہیں۔ قرض اتارو، ملک سنوارو مہم میں عام شہریوں، سرکاری و نجی ملازمین اور کاروباری افراد نے حصہ ڈالا۔ لوگوں نے اپنے ملک کے قرض اتارنے کی امید میں اپنی استطاعت کے مطابق رقم دی۔ اسی طرح ڈیم فنڈ کے لیے پاکستانیوں نے عطیات دیے، بچوں نے اپنی جیب خرچ تک جمع کرائی۔ ایسے قومی فنڈز میں رقم دینے والا شہری صرف پیسہ نہیں دیتا، وہ ریاست پر اپنا اعتماد رکھتا ہے۔ اس اعتماد کا تقاضا یہی ہے کہ ہر رقم کا مکمل، واضح اور عوامی حساب موجود ہو۔
یہی اصول بڑے ترقیاتی منصوبوں پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ گوادر پاکستان کے مستقبل کی امید ہے، مگر ترقی صرف بندرگاہ، سڑک اور عمارت کا نام نہیں۔ اصل ترقی اس وقت ہوگی جب وہاں کے عام انسان کو روزگار، تعلیم، صحت، پانی اور عزتِ زندگی بھی ملے گی۔ کراچی پاکستان کی معاشی شہ رگ ہے، مگر دہشت گردی، جرائم، تعلیم اور شہری سہولتوں کے سوال آج بھی موجود ہیں۔ سندھ کے بند یا غیر فعال اسکول ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ صرف عمارت اور تنخواہ کافی نہیں؛ کلاس روم میں بچہ اور اس کے ہاتھ میں کتاب بھی ہونی چاہیے۔
پنجاب میں Suthra Punjab ایک قابلِ قدر مقصد ہے۔ پنجاب صاف ہونا چاہیے، سڑکیں صاف ہونی چاہییں، کوڑا اٹھنا چاہیے اور پارکس بہتر ہونے چاہییں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا صرف سڑک صاف ہونے سے پنجاب سُتھرا ہو جائے گا؟ اگر اسی صاف سڑک کے کنارے بے آسرا لوگ سو رہے ہوں، اگر ریڑھی والے کا روزگار چھین لیا جائے اور اسے متبادل جگہ نہ دی جائے تو سڑک تو صاف ہوسکتی ہے، زندگی نہیں۔
ریاست اگر کسی غریب سے کہتی ہے کہ تم یہاں ریڑھی نہیں لگا سکتے تو اسے یہ بھی بتانا چاہیے کہ پھر کہاں کاروبار کرو گے۔ اگر تجاوزات ختم کی جاتی ہیں تو قانونی روزگار کا راستہ بھی دیا جائے۔ غریب کی ریڑھی اٹھانا آسان ہے، اس کے گھر کا چولہا جلانا اصل امتحان ہے۔ سُتھرا پنجاب تب ہوگا جب سڑکوں کے ساتھ غریب کی زندگی بھی سُتھری ہوگی۔
اور اسی قومی تصویر کا ایک چھوٹا مگر معنی خیز عکس لاہور کا بادامی باغ ہے۔ یہ وہ علاقہ ہے جس نے بڑے سیاسی ناموں کو اسمبلیوں تک پہنچایا۔ حمزہ شہباز شریف اس وسیع سیاسی خطے سے منتخب ہوئے اور وزیراعلیٰ پنجاب بھی رہے، جبکہ علاقے کے دوسرے حصوں سے علیم خان جیسے سیاسی رہنما بھی عوامی نمائندگی حاصل کرتے رہے۔ اس لیے سوال کسی ایک جماعت یا شخصیت کے خلاف نہیں بلکہ منتخب نمائندگی کی ذمہ داری کے بارے میں ہے۔
بادامی باغ میں ریلوے کی زمین کے استعمال، پارکنگ اسٹینڈ اور مبینہ قبضے کے حوالے سے شہری شکایات موجود ہیں۔ یہ الزام بھی سامنے آیا ہے کہ ایک جگہ کو فیض باغ کے نام سے لیز کیا گیا جبکہ قبضہ بادامی باغ میں کرایا گیا اور اس عمل میں ریلوے سے وابستہ بعض عناصر کی مبینہ ملی بھگت تھی۔ ان الزامات کا حتمی فیصلہ سرکاری ریکارڈ اور آزادانہ تحقیقات ہی کر سکتی ہیں۔ اگر لیز قانونی ہے تو ریکارڈ سامنے آنا چاہیے اور اگر قبضے کی شکایت درست ہے تو کارروائی ہونی چاہیے۔
عوام نے درخواستیں دیں، شکایات متعلقہ حکام تک پہنچائیں اور سرکاری پورٹل پر بھی آواز اٹھائی۔ مگر سوال وہی ہے: اگر عام آدمی کی شکایت ریاست کے دروازے تک پہنچ جائے تو اس کا جواب واپس عام آدمی تک کب پہنچے گا؟
بادامی باغ کا یہ چھوٹا سا معاملہ دراصل پاکستان کے بڑے مسئلے کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ گوادر، کراچی، سندھ کے اسکول، PIMS، پنجاب کی صفائی، سرکاری زمین، قومی فنڈز اور سیاسی احتساب بظاہر الگ الگ موضوعات ہیں، مگر ان سب کے درمیان ایک دھاگا مشترک ہے: جوابدہی۔
پاکستان کو اب مزید صرف کمیشن بنانے کی صلاحیت نہیں چاہیے؛ پاکستان کو کمیشن کی رپورٹ پر عمل کرنے کی صلاحیت چاہیے۔ حادثہ ہو تو ذمہ دار کا تعین ہو، سرکاری زمین پر شکایت ہو تو ریکارڈ سامنے آئے، قومی فنڈ قائم ہو تو مکمل حساب دیا جائے، انتخابی تنازع ہو تو شفاف فیصلہ ہو، اسکول ہو تو بچہ بھی ہو، ہسپتال ہو تو مریض محفوظ بھی ہو اور ترقیاتی منصوبہ ہو تو اس کا فائدہ عام انسان تک بھی پہنچے۔
ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ قومیں معجزوں سے نہیں، مضبوط اداروں، قانون، شفافیت اور جوابدہی سے بنتی ہیں۔ PIMS میں مرنے والے بچے کسی معجزے کے انتظار میں نہیں تھے؛ وہ ریاست کی حفاظت میں تھے۔ سندھ کا بچہ معجزہ نہیں مانگتا، وہ اسکول مانگتا ہے۔ گوادر کا شہری معجزہ نہیں مانگتا، وہ اپنے حصے کی ترقی چاہتا ہے۔ پنجاب کا ریڑھی والا معجزہ نہیں مانگتا، وہ عزت سے روزگار چاہتا ہے۔ بادامی باغ کا شہری معجزہ نہیں مانگتا، وہ اپنی شکایت کا جواب چاہتا ہے۔
پاکستان کو اب ایک اور کمیشن سے زیادہ کمیشنوں کے احتساب کی ضرورت ہے۔ الزام غلط ہے تو بریت ہو، جرم ثابت ہے تو سزا ہو، عوام کا پیسہ لیا گیا ہے تو حساب ہو، اور تحقیق ہوئی ہے تو اس کا نتیجہ بھی سامنے آئے۔ورنہ ہماری تاریخ میں یہی منظر بار بار دہرایا جاتا رہے گا: حادثہ ہوا، لوگ مرے، کمیشن بنا، تحقیقات ہوئیں، رپورٹ تیار ہوئی، رپورٹ فائل بنی، فائل خاموش ہوگئی، حکومت بدل گئی، چہرے بدل گئے اور قوم ایک نئے حادثے کی طرف بڑھ گئی۔
پھر ایک نیا کمیشن بن گیا۔
اور پرانا سوال وہیں کھڑا رہا۔
آخر کمیشن نے کمیشن کو ہی کیوں کھا لیا؟



