بلاگپاکستانتازہ ترینجرم-وسزاکالم

فرسودہ نظام کے آخری ایام

شاہد جاوید ڈسکوی / دستک

 

 

 

 

 

پاکستان میں دہائیوں سے قائم استحصالی اور فرسودہ سیاسی و انتظامی سٹرکچر اس وقت شدید ترین بحران، باہمی تضادات اور زوال کا شکار نظر آ رہا ہے۔ حکمران طبقات کی بوکھلاہٹ، نورا کشتی اور اندرونی الزامات کی باہمی گلا کاٹی اس بات کا واضح اور ببانگِ دہل ثبوت ہے کہ یہ دیمک زدہ عمارت اپنے ہی بوجھ تلے زمین بوس ہونے کی جانب تیزی سے بڑھ رہی ہے۔

 

جب کوئی بحری جہاز غرق ہونے لگتا ہے تو اس پر مسلط طفیلیے اور مراعات یافتہ بینیفشریز ڈوبنے کے خوف سے ایک دوسرے پر ملبہ ڈالنا شروع کر دیتے ہیں۔تبدیلی کی یہ تازہ ترین بحث اور نظام کے ناکارہ ہونے پر عوامی اعتراف کی شروعات اس وقت ہوئی جب وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے برملا اس تلخ حقیقت کو تسلیم کیا کہ ملک کا موجودہ نظامِ حکومت عملاً مکمل طور پرمنہدم اور ناکام ہو چکا ہے۔

 

وفاقی وزیر داخلہ کے اس کھلے اور غیر مبہم بیان نے برسوں سے مسلط سیاسی و انتظامی ڈھانچے پر شدید عدم اعتماد کا اظہار کیا اور اس بات کی تصدیق کی کہ دہائیوں پرانا یہ انتظام اب عوام کو نہ انصاف دے سکتا ہے اور نہ ہی بنیادی سہولیات فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کے بعد وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف کا یہ برملا اعتراف سامنے آیا کہ "بیوروکریسی اس ملک کی اصل اور مستقل حکمران رہی ہے جو ہمیشہ ہر قسم کے احتساب سے محفوظ اور ناقابلِ گرفت رہی ہے”۔ وزیر داخلہ کے نظام کے انہدام کے اعتراف اور وزیر دفاع کے بیوروکریسی کی حکمرانی پر مبنی اس بھیانک انکشاف نے ثابت کر دیا ہے کہ یہ کوئی عام سیاسی شعبدہ بازی نہیں بلکہ اس غاصبانہ اور بوسیدہ نظام کی حتمی شکست کا ایک تاریخی اعتراف ہے۔

 

وزراء کے یہ یکے بعد دیگرے اعترافات اس حقیقت کو مکمل طور پر عیاں کرتے ہیں کہ جب سسٹم کا دیوالیہ نکل جاتا ہے تو اس کے فوائد سمیٹنے والے اپنا دامن بچانے کے لیے ایک دوسرے کے کپڑے پھاڑتے ہیں اور اپنے ہی حلیفوں کی پگڑیاں اچھالتے ہیں۔ جس انتظامی و سیاسی نظام نے دہائیوں تک اس غریب قوم کا خون چوسا، ریاست کی معاشی و انتظامی جڑیں کھوکھلی کیں اور حکمران اشرافیہ کی آنے والی نسلوں کے خزانے بھرے، آج وہی بینیفشریز غرقابی کے ڈر سے ایک دوسرے کا گریبان پکڑ رہے ہیں۔ یہ تمام تر بینیفشریز اور طفیلیے پہلے پہل اس بوسیدہ نظام کو بچانے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگائیں گے، قانونی و انتظامی حیلے تراشیں گے اور عوام کو گمراہ کرنے کے لیے طرح طرح کے نعرے گھڑیں گے لیکن ان کی ہر سازش اور ہر ناکام کوشش انہیں بچانے کے بجائے مزید ننگا اور بے نقاب کرے گی۔

 

حقیقت یہ ہے کہ موجودہ استحصالی پارلیمانی سٹرکچر پاکستان کے لیے ایک سنگین انتظامی اور معاشی بحران بن چکا ہے۔ اس نام نہاد جمہوری اور انتظامی ڈھانچے نے ہمیشہ چند مخصوص سیاسی خاندانوں اور طاقتور بیوروکریٹک اشرافیہ کے تحفظ کی چوکیداری کی ہے۔ اس بوسیدہ، دیمک زدہ اور گلے سڑے نظام کو اب مزید برداشت کرنا ملک کے مستقبل کے ساتھ سیدھی دشمنی کے مترادف ہے۔ اس کی جگہ اب ایک ایسے بنیادی، جدید اور یکسر خودمختار انتظامی ماڈل کو لانا ہوگا جو ملک و قوم کے لیے واقعی سود مند اور دیرپا ثابت ہو۔

 

اقتدار اور اختیار کا مرکز اسلام آباد کی بند راہداریوں، بیوروکریسی کے سیکرٹریٹ اور صوبائی دارالحکومتوں کے شیش محلوں سے نکل کر حقیقی معنوں میں عوامی سطح تک منتقل ہونا وقت کی سب سے بڑی تزویراتی ناگزیریت بن چکا ہے۔اس تمام تر ناکارہ نظام کو بدلنے اور بنیادی تبدیلی لانے کے لیے سب سے پہلا قدم یہ ہونا چاہیے کہ اقتدار کی بے جا مرکزیت اور غصب شدہ اختیارات کے استحصالی تاثر کو ہمیشہ کے لیے ختم کیا جائے۔ وفاق اور مرکز کا کام صرف اور صرف قومی دفاع، غیر ملکی امور اور قومی کرنسی جیسے کلیدی شعبوں تک محدود ہونا چاہیے جبکہ تمام تر عملی، معاشی اور انتظامی اختیارات کو نچلی سطح پر منتقل کیا جائے تاکہ اسلام آباد کے ڈرائنگ رومز فیصلہ سازی کا اکلوتا محور نہ رہیں۔

 

اس کے ساتھ ساتھ گلی، محلے، قصبے اور دیہات کی سطح پر عوام کے مسائل کا فیصلہ کوئی لارڈ بیوروکریٹ یا اسلام آباد میں بیٹھا پارلیمنٹیرین نہیں بلکہ عوام کی نچلی سطح پر مستحکم نمائندگی اور حقیقی اختیارات کی بدولت ہونا چاہیے۔ اس جابرانہ اور نااہل بیوروکریسی کی شاہی کو جس کی نشاندہی اب خود حکومتی وزراء کر رہے ہیں جڑ سے اکھاڑ پھینکنا ہوگا اور انہیں مکمل طور پر عوامی ذمہ داری اور نچلی سطح کے بااختیار انتظامی ڈھانچوں کے تابع کرنا ہوگا تاکہ سول سروس کا کوئی شاہی افسر خود کو اس ملک کا بلا شرکتِ غیرے مالک اور آقا نہ سمجھے۔

 

موجودہ پرانی اور مکار اشرافیہ چاہے جتنی مکاریاں کر لے، باہمی الزامات کی جتنی مرضی ڈرامے بازیاں رچا لے یا ایک دوسرے کی پگڑیاں اچھال کر خود کو بری الذمہ قرار دینے کی کوشش کر لے، اس فرسودہ سیاسی و انتظامی سٹرکچر کی موت اب نوشتہ دیوار بن چکی ہے۔ موجودہ نظام اب ملک کو تباہی، دیوالیہ پن اور معاشی انتشار کے سوا کچھ نہیں دے سکتا۔ وزیر داخلہ کی طرف سے عدم اعتماد کے اظہار اور نظام کے انہدام کے اعتراف سے جس تبدیلی کی بات شروع ہوئی ہے، اسے منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے اس گلے سڑے نظام کی عمارت کو یکسر گرا کر ایک ایسا جدید اور بااختیار انتظامی نظام قائم کرنا ہوگا جہاں اقتدار اور اختیارات کا سرچشمہ بااختیار نچلا انتظامی سٹرکچر اور اس ملک کےعوام بنیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button