بلاگپاکستانتازہ ترینکالم

اڑتا پاکستان

بے لگام / ستارچوہدری

چین کے انجینئرزابھی خوشی منا رہے تھے،مبارکبادیں وصول کررہے تھے،حکومت کی طرف سے ایوارڈ ملنے کی خوشخبری ابھی ملنےوالی تھی،پی ٹی وی پرایک خبر سن کرسکتے میں آگئے،اچانک ان کی خوشیاں غم میں بدل گئیں،کئی انجینئرز تو رو پڑے،انہیں اپنی قابلیت پرافسوس ہونے لگا۔۔۔۔۔ ہوا کیا۔۔۔۔ چین نے اعلان کیا کہ انہوں نے ٹیکنالوجی کی دنیا میں تہلکہ مچا دیا ہے،ایک ایس ٹرین ایجاد کی ہے جس نے صرف 5.3 سیکنڈ میں 800 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کرکے عالمی ریکارڈ قائم کردیا۔۔۔ابھی یہ اعلان کر ہی رہے تھے،پاکستان ٹیلی وژن پر بریکنگ نیوز چلی،سب اس کی طرف متوجہ ہوئے۔۔۔۔ ’’ اب آپ داتا دربارپرآن لائن چادرچڑھا سکتے اورچندہ بھی دے سکتے ‘‘ ٹیکنالوجی کے اس شاہکار کا افتتاح وزیرداخلہ محسن نقوی اور وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے کیا۔
یہ ہوئی نا ٹیکنالوجی !!
اب ذرا اس ایجاد کی وسعت دیکھیے۔ پہلے اگرامریکا میں بیٹھا کوئی شخص داتا دربار پرچادرچڑھانا چاہتا تواسے پاکستان آنا پڑتا، لاہورپہنچنا پڑتا، داتا دربارجانا پڑتا۔ سفر کے لیے وقت چاہیے، پیسہ چاہیے، چھٹی چاہیے اورسب سے بڑھ کرانسان کو خود موجود ہونا پڑتا، اب ان تمام جھنجھٹوں سے نجات مل گئی۔ اب امریکا میں بیٹھا شخص موبائل کھولے گا، چند لمحوں میں چادرچڑھائے گا، چندہ دے گا اور یوں ہزاروں میل کا فاصلہ ایسے ختم ہوجائے گا جیسے درمیان میں کوئی فاصلہ تھا ہی نہیں۔۔۔۔
چین والوں نے انسان کے سفرکو تیزکرنے کی کوشش کی، ہمارے وزرا نے سفرکی ضرورت ہی ختم کردی۔ انہوں نے پٹڑی بچھائی، ہم نے انٹرنیٹ بچھا دیا۔ انہوں نے انجن بنایا، ہم نے موبائل استعمال کرلیا۔ انہوں نے رفتار بڑھائی، ہم نے فاصلہ مٹا دیا۔۔۔ اور یہی وہ مقام ہے جہاں ہمیں اپنے وزیرداخلہ اوروزیرخارجہ کو خراج تحسین پیش کرنا چاہیے۔۔۔۔میری حکومت سے پرزور اپیل ہے،ان دونوں’’ سائنسدان وزرا ‘‘ کو ’’ نشان حیدر ‘‘ کا ایوارڈ دیا جائے۔۔۔۔
چین والے ابھی یہ سوچ رہے ہیں کہ انسان کوایک شہرسے دوسرے شہرزیادہ تیزی سے کیسے پہنچایا جائے، ہم نے مسئلہ ہی بدل دیا۔ ہم نے کہا، انسان کو جانے ہی کیوں دیا جائے۔۔۔؟ وہ جہاں ہے، وہیں بیٹھا رہے، چادرپہنچ جائے گی ۔۔۔۔ چین نے مستقبل کی طرف دوڑنے والی ٹرین بنائی ہے، پاکستان نے ماضی کی عقیدت کومستقبل کی ٹیکنالوجی سے جوڑ دیا ہے۔ دنیا مصنوعی ذہانت پر حیران ہے، ہم نے آن لائن چادر سے جواب دے دیا ہے۔ چینی شاید اب تک یہ سوچ رہے ہوں گے کہ انہوں نے آخرکیا بنا دیا۔ برسوں کی محنت، تحقیق، انجینئرنگ، اربوں ڈالرکا خرچ اورپھرایک ایسی مشین جو انسان کو لمحوں میں ایک شہر سے دوسرے شہر لے جائے،ادھر پاکستان نے نہ پٹڑی بچھائی، نہ انجن بنایا، نہ کوئی نئی مشین ایجاد کی۔ ہم نے موبائل فون اٹھایا۔۔۔۔ اور دنیا کے نقشے پر موجود فاصلے کو انگلی کی ایک جنبش سے مختصر کردیا۔۔۔۔اصل کمال شاید یہی ہے کہ ہم نے سفر کو نہیں، ضرورت کو بدل دیا۔۔۔اب سوال یہ نہیں رہا کہ داتا دربار کتنی دور ہے، سوال یہ ہے کہ آپ کے موبائل میں انٹرنیٹ ہے یا نہیں۔
ویسے بھی پاکستانی قوم سہولت پسند قوم ہے۔ جہاں قطار ختم ہوسکتی ہو، ہم قطار ختم کرنے کے ماہرہیں۔ جہاں سفر بچ سکتا ہو، ہم سفر بچانے کا راستہ نکال لیتے ہیں۔ اب داتا دربار تک پہنچنے کے لیے بھی یہی اصول استعمال ہوگیا۔یہ الگ بات ہے کہ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک ٹیکنالوجی کے ذریعے اپنے شہریوں کو اسپتال، اسکول، دفتر، عدالت اور بازار تک آسان رسائی دے رہے ہیں، جبکہ ہم نے سوچا کہ پہلے چادر کو آن لائن کرتے ہیں۔کوئی حرج نہیں، آغاز کہیں سے توہونا چاہیے۔۔۔۔اور آغازبھی ایسا کہ دنیا کو کم ازکم یہ تو معلوم ہوجائے کہ پاکستان میں ٹیکنالوجی صرف کتابوں، کانفرنسوں اورتقریروں میں نہیں رہتی، کبھی کبھی داتا دربارتک بھی پہنچ جاتی ہے۔۔۔۔
اب جب چادرآن لائن چڑھ سکتی ہے تو پھرامکانات کی دنیا بہت وسیع ہے۔ آخر ٹیکنالوجی کسی ایک چادرپرکیوں رکے۔۔۔۔؟ جب فاصلے ختم کرنے کا ہنرآ ہی گیا ہے تو زندگی کے دوسرے معاملات بھی آن لائن کیوں نہ کردیے جائیں۔۔۔۔؟
مثلاً شادی ۔۔۔۔لڑکا امریکا میں بیٹھا ہے، لڑکی لاہورمیں۔ پہلے دونوں خاندان پریشان ہوتے تھے کہ بارات کیسے آئے گی، رشتہ دارکہاں ٹھہریں گے، کھانا کتنے لوگوں کا بنے گا، جہیزکہاں جائے گا۔ اب سب مسائل ختم۔ موبائل کھولیں، دولہا ایک طرف، دلہن دوسری طرف، قاضی صاحب تیسری ونڈو میں، گواہ چوتھی ونڈو میں۔۔۔۔ قبول ہے۔۔۔۔؟ قبول ہے۔۔۔۔؟ قبول ہے۔۔۔۔؟ شادی مکمل، بس ایک مسئلہ رہ جائے گا، دلہن کو لینے بارات کس ایپ سے آئے گی۔۔۔۔؟ اوراگرآن لائن شادی ہوسکتی ہے توآن لائن تعزیت بھی ہونی چاہیے۔ کسی کے انتقال کی خبر آئی، آپ نے موبائل کھولا، مرحوم کی تصویرسامنے آئی، نیچے ’’ تعزیت ‘‘ کا بٹن دبایا، دوآنسوؤں والا نشان بھیجا اورلکھ دیا، ’’ اللہ تعالیٰ مغفرت فرمائے ‘‘۔۔۔۔عیادت بھی آسان۔۔۔۔ مریض اسپتال میں، آپ گھرمیں،ویڈیو کال ملائی، مریض کو دیکھا اور پوچھ لیا، ’’اب طبیعت کیسی ہے۔۔۔؟‘‘ مریض نے کہا، ’’بخار ہے۔‘‘ آپ نے کہا، ’’اللہ شفا دے‘‘ اورکال بند۔۔۔۔ نہ اسپتال جانے کی زحمت، نہ ٹریفک کا مسئلہ، نہ پارکنگ کی تلاش۔۔۔۔اب اگرٹیکنالوجی واقعی اسی رفتار سے آگے بڑھتی رہی تو حج اورعمرہ بھی ہماری دسترس سے زیادہ دور نہیں رہیں گے۔ پاسپورٹ کی ضرورت نہیں، ویزے کی فکر نہیں، جہاز کا کرایہ نہیں۔ گھر میں صوفے پر بیٹھے، موبائل سامنے رکھا، اور اسکرین پرکعبہ شریف،صرف یہ طے کرنا باقی ہوگا کہ طواف موبائل کو گھما کرہوگا یا موبائل ہمیں گھمائے گا۔۔۔۔؟سعی کے لیے شاید ایک نئی ایپ بن جائے۔ موبائل کہے گا، صفا مکمل، مروہ کی طرف تشریف لے جائیں۔۔۔۔اوراگرچلنے کو دل نہ کرے تو شاید اگلی اپ ڈیٹ میں ’’ ورچوئل سعی ‘‘بھی دستیاب ہوجائے۔۔۔۔ یہ سب سن کر شاید آپ کہیں کہ چوہدری صاحب آپ مذاق کررہے ہیں،جی ہاں، بالکل مذاق کررہا ہوں،مگریہی توٹیکنالوجی کی خوبصورتی ہے۔ آج جو بات ہمیں مذاق لگ رہی ہے، کل ممکن ہوجائے۔۔۔۔بس ڈر یہ ہے کہ کہیں ایک دن صبح آنکھ کھلے تو موبائل پرنوٹیفکیشن نہ آرہا ہو۔۔۔۔ آپ کی نماز کا وقت ہوگیا ہے، براہِ کرم ’’ نماز ادا کریں ‘‘ کے بٹن پر کلک کریں۔۔۔۔ اورپھرہماری اگلی ایجاد یہ ہوگی کہ ثواب بھی آن لائن حاصل کریں۔۔۔۔
چلتے چلتے آخرمیں آپکو بتاتا چلوں !!
پاکستان میں فی کس سالانہ آمدنی 1600 سے 1900ڈالر ہے۔۔۔۔ چین میں فی کس آمدنی 13ہزار800ڈالرسے لیکر 14ہزار900ڈالرہے۔۔۔۔ بنگلہ دیش میں2600 سے3000 ڈالر ہے جبکہ بھارت میں2700 سے لیکر2800 ڈالر ہے، ۔۔۔۔ اورسری لنکا میں فی کس آمدنی5002 ڈالرہے۔۔۔۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button