پنجاب میں دفعہ 144نافذ،فوج رینجرزکی خدمات طلب

لاہور:(بیوروچیف/سید ظہیر نقوی) پی ٹی آئی لانگ مارچ کی وجہ سے پنجاب بھر میں دفعہ 144 نافذ کر دی گئی، صوبائی محکمۂ داخلہ نے نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔نوٹیفکیشن کے مطابق پنجاب بھر میں دفعہ 144 کا نفاذ آج سے 5 اکتوبر تک کے لیے کیا گیا ہے، عوامی مقامات پر ہتھیار لے جانے اور ان کی نمائش پر پابندی عائد ہے۔
صوبائی محکمۂ داخلہ نے عوامی مقامات، شاہراہوں یا کھلی جگہ پر 5 سے زائد افراد کے اجتماع پر پابندی عائد کر دی ہے۔نوٹیفکیشن کے مطابق لوگوں کو غیر قانونی اجتماعات میں شرکت کے لیے اکسانے پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
پابندی کا اطلاق شادی کی تقریبات، نمازِ جنازہ، تدفین، مساجد و دیگر عبادت گاہوں پر نہیں ہو گا، عوامی امن اور جان ومال کو لاحق سنگین خطرات کے پیشِ نظر دفعہ 144 نافذ کی گئی۔نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ عوام کے جان و مال کا تحفظ حکومت پنجاب کی اولین ترجیح ہے۔
دریں اثنا پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے 27ستمبر کو لانگ مارچ کرنے کے معاملے سے نمٹنے کے لیے پنجاب حکومت نے فوج اور رینجرز کی خدمات مانگ لیں۔
ذرائع نے کہا کہ حکومت پنجاب کی جانب سے اٹک، جہلم اور میانوالی میں رینجرز تعینات کرنےکیلئے وفاقی حکومت کوخط ارسال کیا گیا ہے، اس کے علاوہ خط میں راولپنڈی میں فوج تعیناتی کی بھی درخواست کی گئی ہے۔
ذرائع نے کہا کہ خط میں رینجرز اور فوج کی تعیناتی 5 اکتوبر تک مانگی گئی ہے، محکمہ داخلہ پنجاب نےراولپنڈی، اٹک، جہلم اور میانوالی میں رینجرز تعینات کرنےکے لیے وفاقی حکومت کوخط لکھا۔
راولپنڈی میں رینجرز کی 3 کمپنیوں کی تعیناتی کی درخواست کی گئی، اٹک میں رینجرز کے 5 ونگز تعینات کرنے کی سفارش کی گئی جب کہ جہلم اور میانوالی میں رینجرز کی 1، 1 کمپنی تعینات ہوگی۔
رینجرز کی تعیناتی کیلئے کابینہ کمیٹی برائے امن و امان کے 59ویں اجلاس میں منظوری دی گئی۔
رینجرز کی تعیناتی آئین پاکستان کے آرٹیکل 245، انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 کی دفعات 4 اور 5 اور پاکستان رینجرز آرڈیننس 1959 کی دفعات 7(ب) اور 10 کے تحت ہوگی
دوسری جانب پی ٹی آئی لانگ مارچ و احتجاج سے نمٹنے کے لیے ہزاروں کی تعداد میں اضافی نفری کو پنجاب سمیت سندھ سے اسلام آباد، راولپنڈی اور اٹک طلب کیا گیا ہے۔
اٹک میں 30 ہزار سے زائد اضافی نفری کے مسائل سامنے آنا شروع ہوگئے۔ صدر حسن ابدال کے گاؤں گاؤں سے پولیس اہلکاروں نے حکام کو شکایات نوٹ کروائیں۔
ایک اہلکار نے پولیس ایمرجنسی پر کال کرکے بتایا کہ احتجاج کے سلسلے میں کل سے انہیں ڈیوٹی پر بھیجا گیا ہے، ہم بھوکے ہیں، کل سے ہمیں کھانا نہیں ملا، پولیس مدد کی ضرورت ہے۔
ڈی پی او اٹک کو کال کرکے موقف معلوم کرنا چاہا تاہم ان کا فون اٹینڈ نہ ہوا۔ ترجمان آر پی او راولپنڈی سے مؤقف دریافت کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ کال اور میسج کسی نے فیک چلایا، فورس کے کھانے کا بہترین انتظام ہے۔
کالر نے شکایت کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ جہاں گورنمنٹ گرلز اسکول میں فورس کا ایک حصہ مقیم ہے، وہ مکمل طور پر ریکارڈ پر ہی نہیں تھا۔ اہلکار کے مطابق شکایت کے بعد کھانا بھجوا دیا گیا، اب کوئی مسئلہ نہیں ہے۔



