انٹر نیشنلبلاگپاکستانتازہ ترینکاروبارکالم

قرض میں ڈوبا پاکستان اور اشرافیہ کی مراعات

محمد قیصر چوہان

اسلامی دنیا کی واحد ایٹمی طاقت پاکستان کی معیشت ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں ایک طرف بڑھتا ہوا قرض، دن بدن بڑھتی ہوئی مہنگائی ،بے روزگاری ، غربت اور محدود آمدنی عام شہری کی زندگی کو مشکل بنا رہے ہیں اور دوسری طرف ریاستی وسائل کے استعمال اور اشرافیہ کو ملنے والی مراعات کے نظام پر مسلسل سوال اُٹھ رہے ہیں۔ایک عام پاکستانی کے لیے بجلی کا بل، بچوں کی تعلیم اور علاج سمیت روزمرہ کی ضروریات پوری کرنا دشوار ہوتا جا رہا ہے مگر ریاستی نظام کے بعض طبقات کو حاصل مراعات کا دائرہ بہت وسیع ہے۔اصل سوال یہ ہے کہ جب ملک مالی دباو ¿ کا شکار ہو، حکومت اخراجات پورے کرنے کے لیے قرض لے، ٹیکس کا بوجھ بڑھایا جائے اور عام آدمی سے قربانی مانگی جائے تو کیا ریاست کے طاقتور اور بااثر طبقات بھی اسی معیار کی قربانی دینے کے لیے تیار ہیں؟یہ سوال کسی فرد یا ادارے کے خلاف نہیں بلکہ ایک نظام کے بارے میں ہے۔ پاکستان میں مختلف ادوار میں سرکاری عہدے داروں، اعلیٰ انتظامی افسران، ارکان پارلیمانسمیت دیگر بااثر طبقات کے لیے تنخواہوں، پنشن، سرکاری گاڑیوں ، رہائش، علاج، سفری سہولتوں اور دیگر مراعات کے مختلف پیکیجز موجود رہے ہیں ان میں سے بہت سی سہولتوں کا جواز انتظامی ضرورت یا عہدے کی نوعیت سے وابستہ ہو سکتا ہے، لیکن معاشی بحران کے زمانے میں یہ سوال بہرحال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہر مراعات کو اسی شکل میں برقرار رکھنا ضروری ہے؟ ریاستی وسائل لامحدود نہیں ہوتے۔ جو رقم غیر ضروری یا غیر مو ¿ثر اخراجات میں خرچ ہوتی ہے، وہ بالآخر کہیں نہ کہیں سے پوری کرنا پڑتی ہے۔ اگر حکومت کے پاس اضافی وسائل نہ ہوں تو اس کا بوجھ بالواسطہ یا براہ راست ٹیکس، مہنگائی، کم ترقیاتی اخراجات یا مزید قرض کی صورت میں عوام تک پہنچ سکتا ہے۔ یہاں ایک بنیادی اصول طے کرنے کی ضرورت ہے۔ریاستی عہدہ سہولت کا حق دے سکتا ہے لیکن شاہانہ طرز زندگی کا لامحدود حق نہیں،پاکستان کو اب مراعات کے بارے میں جذباتی نہیں بلکہ شفاف اور اعداد و شمار پر مبنی پالیسی بنانا ہوگی سب سے پہلے تمام سرکاری مراعات کی مکمل فہرست عوام کے سامنے آنی چاہیے۔ کون سا عہدہ کتنی تنخواہ لیتا ہے، کتنی سرکاری گاڑیاں استعمال ہوتی ہیں، سرکاری رہائش پر کتنا خرچ آتا ہے، علاج اور سفری سہولتوں پر سالانہ کتنی رقم خرچ ہوتی ہے، ریٹائرمنٹ کے بعد کون سی سہولتیں جاری رہتی ہیںیہ سب معلومات عوام سے پوشیدہ نہیں ہونی چاہئیں۔ اس کے بعد مراعات کو تین حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ ضروری، قابل جواز مگر قابل اصلاح اور غیر ضروری۔ ضروری سہولتیں برقرار رہیں، انتظامی ضرورت سے متعلق مراعات میں کفایت شعاری لائی جائے جبکہ ایسی مراعات جو محض عہدے کے وقار یا روایت کے نام پر جاری ہیں انہیں مرحلہ وار ختم کیا جائے ۔سب سے اہم بات یہ ہے کہ کفایت شعاری کا آغاز صرف نچلے یا متوسط طبقے سے نہ ہو۔ اگر حکومت عوام سے ٹیکس مانگتی ہے تو اسے اپنے اخراجات کے بارے میں بھی جواب دینا ہو گا۔ اگر بجلی مہنگی ہوتی ہے تو سرکاری اداروں کی توانائی کے استعمال کا حساب بھی ہونا چاہیے، اگر عام شہری سے کہا جاتا ہے کہ وہ اپنے اخراجات کم کرے تو ریاستی اداروں کو بھی یہی اصول اپنانا ہوگا۔
پاکستان کے سرکاری اداروں کی کم کارکردگی، ٹیکس نیٹ کی کمزوری، ٹیکس چوری، خسارے میں چلنے والے ادارے، غیر مو ¿ثر اخراجات، توانائی کے شعبے کے مسائل اور پالیسیوں کا عدم تسلسل بھی معیشت پر بھاری بوجھ ہیں۔اس لیے اصلاحات کا مقصد محض یہ نہیں ہونا چاہیے کہ چند سرکاری گاڑیاں کم کر دی جائیں یا چند مراعات ختم کر دی جائیں۔ مقصد ایک ایسا ریاستی نظام بنانا ہونا چاہیے جس میں ہر روپیہ خرچ کرنے کا جواز موجود ہو اور ہر عوامی عہدے دار اپنے مالی اختیارات کے لیے جواب دہ ہو۔پاکستان کا عام شہری پہلے ہی قربانی دے رہا ہے وہ ٹیکس ادا کرتا ہے، مہنگائی برداشت کرتا ہے، بجلی اور گیس کے بڑھتے ہوئے بل ادا کرتا ہے اور اپنے محدود وسائل میں خاندان کی ضروریات پوری کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اب ریاستی نظام کو بھی یہ ثابت کرنا ہوگا کہ قربانی صرف عوام کا مقدر نہیں۔قرض خواہ ملک صرف قرض کم کر کے مضبوط نہیں بنتا،وہ مالی نظم و ضبط، شفافیت، منصفانہ ٹیکس نظام اور ریاستی اخراجات میں ذمہ داری کے ذریعے مضبوط ہوتا ہے۔اشرافیہ کی مراعات کا خاتمہ اسی بڑے عمل کا ایک حصہ ہونا چاہیے۔ اس کا مقصد کسی طبقے کو نشانہ بنانا نہیں بلکہ یہ اصول قائم کرنا ہے کہ ریاست کے وسائل عوام کی امانت ہیں،جس ملک میں کروڑوں لوگ اپنی بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے جدوجہد کر رہے ہوں، وہاں ریاستی وسائل کے استعمال میں کفایت، شفافیت اور جواب دہی محض اخلاقی تقاضا نہیں بلکہ معاشی ضرورت بھی ہے۔پاکستان کو اب ایسی سیاست اور حکمرانی کی ضرورت ہے جہاں اقتدار کا مطلب مراعات نہیں بلکہ ذمہ داری ہو، جہاں سرکاری منصب سہولت کا ذریعہ نہیں بلکہ عوامی خدمت کا عہد سمجھا جائے اور جہاں معاشی بحران کا بوجھ صرف عام آدمی کے کندھوں پر نہ ڈالا جائے۔قرض میں ڈوبا ہواپاکستان صرف نئے قرضوں سے نہیں بلکہ پرانے طرز حکمرانی کو بدل کر ہی قرض کے بوجھ سے نکل سکتا ہے اور اس تبدیلی کا پہلا اصول بہت سادہ ہے ،ریاست جس سے قربانی مانگتی ہے اسے خود بھی قربانی کی مثال قائم کرنا ہوگی۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button