
ایک وقت تھا، موبائل فون کا نام آتے ہی ذہن میں ایک ہی نام ابھرتا تھا۔۔۔ ’’ نوکیا ‘‘ دنیا کے بڑے بڑے بازاروں سے لے کر گاؤں کی چھوٹی سی دکان تک، نوکیا ہرجگہ موجود تھا۔نوکیا صرف موبائل فون نہیں بیچتا تھا، موبائل فون کی دنیا ہی نوکیا کے گرد گھومتی محسوس ہوتی تھی۔۔۔۔پھروقت نے کروٹ بدلی،موبائل فون صرف کال او پیغام بھیجنے کی مشین نہیں رہا۔ دنیا اسمارٹ فون کی طرف بڑھ گئی۔ نئی ٹیکنالوجی آئی، نئی ضرورتیں پیدا ہوئیں، صارف کی پسند بدل گئی۔

دنیا نے رفتار پکڑی اور ٹیکنالوجی نے پرانے پیمانے توڑ دیے۔ نوکیا کے پاس نام تھا، تجربہ تھا، مارکیٹ تھی، کروڑوں صارف تھے۔۔۔ مگروقت کی رفتار کے ساتھ قدم ملانا ضروری تھا۔۔۔۔اورپھروہ کمپنی، جس کا کبھی موبائل فون کی دنیا پرراج تھا،زمین بوس ہوگئی،بک گئی۔
یہاں نوکیا کی کہانی ختم نہیں ہوتی۔۔۔ اصل کہانی تو یہاں سے شروع ہوتی ہے۔سوال یہ ہے کہ وقت کے ساتھ نہ چلنے کی قیمت صرف کمپنیاں ادا کرتی ہیں یا قومیں بھی۔۔۔۔؟ دنیا میں ایک عجیب اصول ہے۔ وقت کسی کے دروازے پر دستک دے کرنہیں کہتا کہ ،جناب !! میں آگے بڑھنے لگا ہوں، آپ بھی تیارہوجائیں۔۔۔۔ وقت بس گزرتا رہتا ہے۔ جو اس کے ساتھ چلتا ہے، وہ آگے نکل جاتا ہے، جو کھڑا رہتا ہے، وہ پیچھے رہ جاتا ہے۔۔۔۔اور پیچھے رہ جانے والوں کے لیے سب سے مشکل بات یہ ہوتی ہے کہ دنیا ان کا انتظار نہیں کرتی۔۔۔۔
یہی سوال آج پاکستان کے سامنے بھی کھڑا ہے، حکومت اوراپوزیشن کے درمیان مذاکرات ہو رہے ہیں۔ میز بھی موجود ہے، فریقین بھی موجود ہیں اورنظریں اس بات پر لگی ہیں کہ آخراونٹ کس کروٹ بیٹھے گا۔۔۔۔؟ مگرمذاکرات کی میز پربیٹھ جانا ہی مذاکرات نہیں ہوتا۔ مذاکرات تو تب شروع ہوتے ہیں جب دونوں فریق اپنی اپنی جگہ سے ایک قدم پیچھے ہٹنے پر آمادہ ہوں۔حکومت ایک طرف مذاکرات کرتی ہے اوردوسری طرف دھمکی بھی دیتی ہے۔ اپوزیشن بات چیت کرتی ہے تو ساتھ اپنی شرائط بھی رکھتی ہے۔
ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر دونوں فریق اپنی اپنی پوزیشن سے ایک انچ بھی ہٹنے کو تیار نہیں تو پھر یہ مذاکرات ہیں یا صرف اپنے مؤقف کو مائیک کے ذریعے بلند آواز میں دہرانے کا نیا طریقہ۔۔۔۔؟مذاکرات کبھی انا کی جنگ نہیں ہوتے۔ یہاں کسی ایک کو مکمل فاتح اوردوسرے کو مکمل شکست خوردہ بنانے کا فلسفہ نہیں چلتا۔ مذاکرات کی زبان ہی’’ کچھ دو، کچھ لو‘‘ ہے۔ ایک فریق کچھ چھوڑتا ہے، دوسرا کچھ دیتا ہے، پھر کوئی درمیانی راستہ نکلتا ہے۔ یہی سیاست کی خوبصورتی ہے اور یہی جمہوریت کا حسن بھی۔۔۔۔مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے سیاست کو شاید منزل سمجھ لیا ہے، حالانکہ سیاست منزل نہیں، ملک چلانے کا ایک راستہ ہے۔
دنیا نے اپنے سوال بدل لیے ہیں۔۔۔ ہم نے ابھی تک اپنے سوال نہیں بدلے۔دنیا پوچھ رہی ہے کہ اگلی نسل کے لیے مصنوعی ذہانت کیا کرے گی، روبوٹ انسان کے ساتھ کیسے کام کریں گے، نئی توانائی کے ذرائع کیا ہوں گے، معیشت کو ٹیکنالوجی کیسے بدل رہی ہے، تعلیم کو روزگار سے کیسے جوڑا جائے اور آنے والے بیس برسوں میں دنیا کی قیادت کون کرے گا۔ ہم بھی سوال پوچھ رہے ہیں۔۔۔ مگر اکثر وہی جو کئی دہائیوں سے پوچھتے آئے ہیں۔ہماری بحث حکومت اور اپوزیشن سے شروع ہوتی ہے اوروہیں ختم ہوجاتی ہے۔ کس نے کیا کہا۔۔۔؟ کس نے کس کو جواب دیا۔۔۔۔؟ کس کا جلسہ بڑا تھا۔۔۔۔؟ کس کا مؤقف سخت تھا۔۔۔۔؟ کس عہدے پرکون بیٹھے گا۔۔۔۔؟ گورنر راج لگانا آئینی ہے یا نہیں ۔۔۔۔؟
دنیا میں اب صرف سرحدوں کی جنگ نہیں رہی۔ معیشت طاقت ہے، ٹیکنالوجی طاقت ہے، علم طاقت ہے، معلومات طاقت ہیں۔ جس ملک کے پاس یہ طاقتیں ہوں گی، وہ آنے والی دنیا میں اپنی جگہ بنائے گا۔ باقی ممالک شاید نقشے پر موجود رہیں، مگر فیصلوں کی میز پر ان کی آواز کمزور ہوتی جائے گی۔اسی لیے پاکستان کو حکومت اوراپوزیشن کے درمیان مذاکرات سے کہیں بڑے مذاکرات کی ضرورت ہے۔۔۔ ماضی اور مستقبل کے درمیان مذاکرات۔ہمیں طے کرنا ہوگا کہ ہم پرانی بحثوں میں مزید کتنے سال گزاریں گے اور مستقبل کی تیاری کب شروع کریں گے۔کیونکہ وقت کسی پارلیمنٹ، کسی حکومت، کسی اپوزیشن اور کسی ملک کے لیے نہیں رکتا۔وہ چلتا رہتا ہے۔۔۔۔اور جو اس کے ساتھ نہیں چلتا۔۔۔ وہ آہستہ آہستہ تاریخ کا حصہ بن جاتا ہے۔۔۔
کبھی کبھی تاریخ بڑے بڑے سبق بہت چھوٹی کہانیوں میں چھپا دیتی ہے۔ نوکیا بھی ایسی ہی ایک کہانی ہے۔۔۔۔ جب نوکیا کے مالک سٹیفن ایلاپ نے کمپنی فروخت کی تو وہ مبینہ طور پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے رو پڑے تھے،اور کہا تھا ’’ ہم نے کوئی غلطی نہیں کی تھی، لیکن پھر بھی ہم ہار گئے ‘‘۔۔۔۔۔نہیں۔۔۔۔سٹیفن صاحب !! آپ نے بہت بڑی غلطی کی تھی،آپ وقت کے ساتھ نہیں چلے تھے، دنیا نئی ٹیکنالوجی میں داخل ہوگئی تھی،لوگوں کے معیار تبدیل ہوگئے تھے اور آپ وہی پرانا ’’ بٹنوں والا موبائل ‘‘ لئے پھر رہے تھے،مانتے ہیں آپ کے پاس شاندار ماضی تھا،لیکن مستقبل کے ساتھ قدم ملانا ضروری ہوتا ہے۔۔۔۔ کوئی کمپنی ہویا قوم،کوئی ادارہ ہویا ملک ،سب کیلئے ایک ہی اصول ہے، جو خود کووقت کے ساتھ تبدیل نہیں کرتا وہ پیچھے رہ جاتا ہے۔۔۔۔ اور پیچھے رہنے والوں کو آگے جانے والے کبھی مڑکرنہیں دیکھتے۔۔۔۔



